دھرمیندر کی بیوی کا تنازعہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندی فلموں کے ہیرو اور راجستھان میں بیکانیر سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوک سبھا کے امیدوار کی ازدواجی زندگی کا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ دھرمیندر نے بیکانیر (راجستھان) میں اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرتے ہوۓ اپنی اہلیہ کی جائیداد کا تو ذکر کیا لیکن ان کا نام بتانے سے گریز کیا ہے۔ تاہم دھرمیندر ان الزامات کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ یہ تنازعہ مدھیہ پردیش کے شہر اندور سے شرو ع ہوا جہاں کانگریس کے دو رہنماؤں نے انتخابی کمیشن سے شکایت کی ہے کہ دھرمیندر نے اسلامی رواج کے تحت کی گئی اپنی دوسری شادی کو اپنے کاغذات نامزدگی میں چھایا ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ دھرمیندر نے دلاور خان اور ہیما مالنی نے عائشہ بن کر نکاح کیا۔ اداکارہ ہیما مالنی نے، جو پارلیمان میں ایوان بالا یا راجیہ سبھا کی رکن بھی ہیں، راجیہ سبھا کو دی گئی تفصیل میں اپنے خاوند کے نام کی جگہ دھرمیندر دیول کا نام درج کیا ہے۔
ہندوستان میں کوئی ہندو ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری عورت سے شادی نہیں کرسکتا البتہ مسلمان ایسا کرسکتے ہیں اس لیے کچھ لوگ دوسری شادی کرنے کے لیے مسلمان ہونے کا اعلان کردیتے ہیں۔ راجستھان میں کانگریس کی انتخاباتی مہم کے رہنما نول کشور شرما نے اسے انتخابی مہم کا موضوع بنانے کا اعلان کیا ہے۔ دلی میں کانگریس کے ترجمان کپل سبل نے دھرمیندر کے تنازع کو ایک سنگین معاملہ قرار دیا ہے۔ دوسری طرف دھرمیندر جو اس وقت رانچی میں ہیں انھوں نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں اس الزام پر بہت غصہ کا اظہار کرتے ہوۓ کہا ہے کہ وہ ایسے نہیں ہیں کہ ’مزے‘ کے لیے مذہب تبدیل کرلیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کی صرف ایک بیوی ہے۔ دھرمیندر کی تردید اپنی جگہ لیکن انتخابی گرما گرمی کے ماحول میں یہ معاملہ اب خاصا بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||