BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات: گووندا کی آواز لیٹ گئی

اداکار گووندا
گووندا اپنے انتخابی دفتر کو بھی ایک فلمی سٹوڈیو سے تعبیر کر رہے ہیں
پولکا ڈاٹ کے پاجامے پہن کر فلموں کے ہیرو نمبر ون گووندا ممبئی کے شہر کے وسط سے پینتیس چالیس کلومیٹر آگے مضافات میں کندی ولی کے چوک میں اپنے انتخابی دفتر میں دو دو موبائل فون ہاتھ میں لیے بیٹھے ہیں اور ایک فون پر بات ختم نہیں ہوتی کہ دوسرے فون کی گھنٹی بج جاتی ہے۔ ان کی آواز بیٹھی ہوئی ہے۔’میری آواز بیٹھی نہیں لیٹ گئی ہے۔‘ گووندا نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوۓ کہا۔

وہ عام انتخابات کے دوسرے مرحلے میں شمالی ممبئی کے حلقہ سے کانگریس کے امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ یہاں سے مسلسل پانچ بار لوک سبھا کے لیے منتخب ہونے والے رام نائک سے ہے۔

گووندا کا اپنا تعلق بھی شمالی بمبئی کے علاقہ ورسائی سے ہے گو اب وہ ترک سکونت کرکے امیر علاقہ میں چلے ہیں۔ تاہم انہیں یہاں کا مقامی آدمی سمجھا جاتا ہے جس میں مقامی لوگوں کے لیے ایک کشش ہے۔

گووندا کو انتخابی دفتر بھی ایک فلم کا سیٹ لگتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’فلم کی شوٹنگ میں جس طرح سے ڈائریکٹر، رائٹر، لائٹ مینز، کریکٹر ایکٹر سب کے ساتھ مل کر ایک اچھی پکچر بنتی ہے اسی طرح یہاں بھی ہے۔ یہاں بھی کوئی کیمرا مین ہے ، کوئی لائٹ مین ہے کچھ لوگ فوکس کرتے ہیں اور کچھ ورکرز ہیں۔‘

 رام نائک
گووندا کے مد مقابل امیدوار رام نائک علاقے کی ایک اہم سیاسی شخصیت ہیں
گووندا کا حلقہ ایک سو دس کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جہاں ممبئی شہر کے علاوہ نیم شہری اور نیم دیہاتی علاقہ بھی آتا ہے جس میں کوہلی مہادیو قبائلی اور نو بدھ مت کے پسماندہ ذاتوں کی آدمی اکثریت میں ہے۔

اس حلقہ میں ساٹھ فیصد لوگ جھونپڑ پٹی کے نام سے جانی جانے والی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔

گووندا مسلسل انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی بھی ان کے جلسہ سے خطاب کرنے کے لیے یہاں کا دورہ کرگئی ہیں۔ پھر بھی ابھی انھیں اپنا بہت سا علاقہ طے کرنا ہے۔

جمعرات کے روز جب مہم ختم ہونے میں تین روز باقی تھے انھوں نے خود کہا: ’مجھے ابھی ممبئی شہر کے پندرہ بیس علاقوں میں جانا ہے اور دیہاتوں جیسے پالگر وغیرہ کے ستر سے زیادہ جگہوں پر جانا ہے۔ اس لیے میں بھاگتا پھر رہا ہوں تاکہ ان سب جگہوں پر جا سکوں۔‘

اسی لیے ان کے مخالف کہتے ہیں کہ گووندا فلموں میں اچھا رقص کرتے ہوں گے لیکن وہ ایک سو دس کلومیٹر رقص نہیں کرسکتے۔

گووندا
کانگریس کی قائد سونیا گاندھی بھی گووندا کے حلقے کا دورہ کر چکی ہیں
تو کیا گووندا کو اس تھکا دینے والی انتخابی مہم کا مزا آرہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں جو کام کرتا ہوں دل سے کرتا ہوں۔ چاہے فلم لائن کا ہو یا یہ کام۔ جب ایک دفعہ فیصلہ کیا تو مزا اور بےمزا کچھ نہیں سوچتا۔‘

جس طرح گووندا اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اس سے عام تاثر ہے کہ کانگریس کے کارکن خوش دکھائی نہیں دیتے اور اسی لیے گووندا نے گزشتہ دس بارہ دن پہلے سڑکوں کے کنارے اپنے روڈشوز کرنے بند کردیے۔

تاہم گووندا کو اس بارے میں زیادہ فکر نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ ’کون سی پارٹی کے ورکرز کہاں خوش ہیں بتا دیں۔‘

گووندا کے چار انتخابی نعرے اور وعدے ہیں۔ ’پرواس، نواس وکاس اور گیان یعنی رہائش ، صحت، ترقی اور تعلیم‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں تعلیم کے لیے اچھی جگہ نہیں، چالیس چالیس کلومیٹر اور دس دس کلومیٹر دوری پر ہسپتال ہیں جہاں تک جاتے جاتے مریض کو کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے۔

گووندا کا کہنا ہے کہ ان کے حلقہ میں سڑکیں نہیں ہیں بسیں نہیں ہیں اور لوگوں کے پاس رہنے کی جگہ نہیں ہے اور سب سے اہم بات کہ اچھے اسکول نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس لیے تو ان کے مخالف بھارتی جنتا پارٹی نے ترقیاتی کاموں کا نعرہ لگایا ہے کہ انھیں پتا ہےکہ انھوں نے یہ کام کراۓ نہیں۔

گووندا اور کانگریس قیادت
کانگریس قیادت نے گووندا کےگلیمر کو کیش کرانے کی کوشش کی ہے
کیا گووندا انتخاب جیت کر یہ وعدے پورے کرسکیں گے اس کے لیے وہ کہتے ہیں کہ ان کو سونیا جی اور شرد پوار پر بھروسا ہے اور ’سب سے زیادہ اوپر والے پر بھروسا ہے۔‘

گووندا کا گلیمر اپنی جگہ لیکن ان کے مقابلہ میں بھارتی جنتا پارٹی کے امیدوار رام نائک بہت بھاری بھرکم سیاسی شخصیت ہیں۔

رام نائک پانچ بار اس نشست سے لوک سبھا کے لیے منتخب ہوچکے ہیں اور اس سے پہلے تین بار وہ مہاراشٹرا کی ریاستی اسمبلی میں منتخب ہوتے رہے۔ یوں ان کی سیاسی زندگی چھتیس سال پر محیط ہے اور وہ ہندوستان کے پہلے وفاقی وزیر پیٹرولیم ہیں جنھوں نے پورے پانچ سال تک وزارت چلائی ہے۔

رام نائک کی انتخابی مہم کی نگران اور ان کی بیٹی وشاکا کلکرنی کہتی ہیں کہ رام نائک کے پانچ سال کے دور میں ہندوستان میں ساڑھے چار کروڑ افراد کو چولھے جلانے کی گیس مل سکی جو ان سے پہلے کے چالیس سال میں اتنے ہی لوگو ں کو ملی تھی۔

وہ جمعرات کی شام کو گورے گاؤں (ایک مضافات کا نام جو اچھا خاصا پر ہجوم شہر ہے) کے علاقہ میں ایک شہری ٹرین کے ایک ریلوے اسٹیشن پر ایک چوکی پر کھڑے ہوکر ہر آنے والے مسافر سے ہاتھ ملا کر اپنی انتخابی مہم کا آخری دور چلا رہے ہیں۔

گووندا
گووندا فلمی انداز میں وی سی ڈی کی مدد سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں
اس سے پہلے وہ علاقہ کی رتھ یاترا پر گئے اور گھر گھر جاکر ووٹروں سے ملے۔ اس بار ان کی بیٹی کا کہنا ہے کہ انھوں نے جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ بھی اٹھایا اور وی سی ڈی کے ذریعے ان کے کاموں کی تشہیر کے لیے حلقہ کے مختلف علاقوں میں یہ سی ڈی کی فلم چلا کر لوگوں کو ان کے کاموں سے آگاہ کیا۔

رام نائک کا کہنا ہے کہ وہ یہ الیکشن اپنے گزشتہ پانچ سال کے کاموں کی بنیاد پر لڑ رہے ہیں۔ (گاڑھی ہندی میں بات کرتے ہوۓ) وہ کہتے ہیں۔ ’ممبئی میں باسٹھ لاکھ لوگ روزانہ ٹرین پر سفر رکتے ہیں جن کے لیے ہم نے ریل گاڑی کی ترقیاتی کارپوریشن بنوائی اور ممبئی میں دنیا کی پہلی ایسی ٹرین چلوائی جو عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔‘

رام نائک کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کےعلاقہ میں ساٹھ فیصد سے زیادہ لوگ چھونپڑیوں میں رہتے ہیں جن کو شہری سہولتیں فراہم کرنا اور ان کے مکان بنوا کر دینے کی اسکیم بھی انھوں نے حکومت سے منظور کروائی ہے۔

کیا گووندا کے آنے سے انھیں کوئی فرق پڑا تو رام نائک کہتے ہیں کہ ’گووندا کے ہمارے مقابلہ میں آنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ پہلے کم سے کم کانگریس کے امیدواروں کا کوئی سیاسی پس منظر تو تھا جبکہ گووندا کا نہ سیاسی ماضی ہے اور نہ سماجی کام۔

’ان کا تو ایک ہی وصف ہے کہ وہ فلم ہیرو ہیں۔ تفریح کے لیے تو یہ بات صحیح ہے کہ پکچر دیکھ لیا لیکن جب لوگ ووٹ ڈالنے جاتے ہیں تو ان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ اس امیدوار نے کیا کام کیا اور کیا کرے گا۔ گوئندا کے آنے سے تو ہمارا راستہ آسان ہوگیا ہے۔‘

رام نائک ایک بزرگ سیاستدان صحیح اور ان کا اپنے حلقہ میں خاصا اثر نطر بھی آتا ہے لیکن جس آسانی سے وہ گوئندا کو مسترد کررہے ہیں وہ شائد اتنا ٹھیک نہیں کیونکہ گوئندا نوجوان او متحرک ہیں اور خاصی محنت سے مہم چلا رہے ہیں۔

گوئندا کو ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس بار کانگریس اور شرد پوار کی پارٹی کے ووٹ تقسیم نہیں ہوں گے جیسا کہ گزشتہ انتخابات میں ہوا تھا۔ مسلمان ، اقلیتی ووٹ اور خاص طور پر نوجوان طبقہ جس کے ووٹوں کی تعدا بہت زیادہ ہے ان کے حق میں زیادہ جاسکتا ہے۔

کامیابی کے امکان کے بارے میں گوئندا محتاط ہیں۔ جواں سال گوئندا اپنی بیٹھی ہوئی آواز میں کہتے ہیں کہ ’میں ہارنے اور جیتنے کے ذہن کے ساتھ نہیں آیا یہ باتیں انسان کو کمزور کرتی ہیں اس کا اعتماد کم ہوجاتا ہے۔ کامیابی تو جیتنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔‘

دوسری طرف ان کے مخالف ستر سالہ رام نائک اپنی پاٹ دار آواز میں کہتے ہیں کہ ’مجھے اپنی جیت کا سو فیصد یقین ہے۔ پہلے میرے ووٹ پورے مہاراشٹرا میں سب سے زیادہ تھے۔ اس بار نہ صرف ووٹ زیادہ ہوں گے بلکہ میرے ووٹوں کی سبقت بھی سب سے زیادہ ہوگی۔”

پولکا ڈاٹس کی پتلوں پہن کر فلموں میں آنے والے گووندا کیا الیکشن کے بھی ہیرو نمبر ون بن سکیں گے یا ان کی یہ فلم فلاپ ہوجاۓ گی اس کا فیصلہ چھبیس اپریل کو شمالی ممبئی کے ووٹر کریں گے جو بلاشبہ صرف ممبئی کا نہیں بلکہ ہندوستان بھر کا ایک دلچسپ انتخابی مقابلہ ہے۔عام طور سے ہندوستان میں فلمی ہیرو اپنا پہلا الیکشن ہارتے نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد