BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 April, 2004, 13:22 GMT 18:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلمی ستارے سیاسی افق پر

۔
ہندوستان کے انتخابات میں چاروں طرف ستارے نظر آرہے ہیں فلم کے ہوں یا کرکٹ کے۔

دلی کے چاندنی چوک میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوار اور ٹی وی اسٹار سمریتا ایرانی ہوں یا بیکانیر میں فلم اسٹار دھرمیندر اور امرتسر میں کرکٹ اسٹار نوجت سدھو۔

انتخابات میں فلم، ٹی وی اور کرکٹ کے ستاروں کا ہجوم دیکھ کر لگتا ہے کہ ہندوستان کی سیاسی جماعتوں کو عوام کی توجہ حاصل کرنےکے لیے سیاسی نظریہ اور سیاسی کارکنوں سے زیادہ ان غیرسیاسی ہیرؤوں کی ضرورت ہے جن کے پاس صرف گلیمر ہی نہیں بلکہ انتخاب میں عام امیدواروں کے مقابلہ میں زیادہ پیسہ خرچ کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔

زیادہ تر فلمی اداکار اور اداکارائیں حکمران جماعت پارٹی کی طرف سے انتخاب لڑ رہے ہیں لیکن کانگریس بھی اس دوڑ میں اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

کچھ فملی ستارے امیدوار تو نہیں بنے لیکن بڑھ چڑھ کر اپنی اپنی جماعت کی مہم چلا رہے ہیں۔

دو ایسے فلمی ستارے تو آج خبروں کا عنوان بنے ہوۓ ہیں۔ ان میں ہفتے کی صبح بنگلور کے نواح میں تامل اور کنڑ فلم اسٹار سوندریہ ایک نجی طیارہ کے حادثہ میں ہلاک ہوئیں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخاباتی مہم میں حصہ لے رہی تھیں۔ ان کے بھائی بنگلور میں بی جے پی کے ترجمان تھے۔

ہندی فلموں کے ہیرو دھرمیندر کا تنازعہ تو خاصا زور پکڑ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں ایک بیوی کا نام لکھا ہے۔

کانگریس الزام لگا رہی ہے کہ دھرمیندر نے فلمی اداکارہ ہیما مالنی سے دوسری شادی کی تھی تو انہوں نے اسلام قبول کیا تھا اور اپنا نام دلاور خان رکھا تھا اور ہیما مالنی نے اپنا نام عائشہ رکھا تھا لیکن دھرمیندر نے اپنے کاغذات میں ایسا ظاہر نہیں کیا اور غلط بیانی سے کام لیا ہے۔

ہیما مالنی بھی باقاعدہ طور پر بھارتی جنتا پارٹی میں شامل ہیں اور پارلیمان کے ایوان بالا یا راجیہ سبھا کی رکن ہیں وہ پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔

صرف ہندی فلموں کی اداکارائیں اور اداکار ہی نہیں تامل اور تیلگو فلموں کے ہیرو اور ہیرؤئنز بھی سیاست میں قدم رکھ رہے ہیں۔

جنوب میں ہی تیلگو فلموں کی مقبول اداکارہ وجے شانتی جنہیں ’لیڈی امیتابھ‘ کہا جاتا ہے بی جے پی کی مہم چلارہی ہیں۔

شمالی بمبئی میں کانگریس نے فلمی ہیرو گووندا کو مرکزی وزیر براۓ پیٹرولیم رام نیک کے مقابلہ میں ٹکٹ دیا ہے۔ نیک رام اس حلقہ سے کبھی نہیں ہارے اور چھ مرتبہ لوک سبھا (نیشنل اسمبلی) سے منتخب ہوچکے ہیں لیکن عوامی جائزوں سے لگ رہا ہے کہ اس بار انہیں گوندا کے ہاتھوں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ہندوستان کے مشرق میں کولکتا (سابق کلکتہ) آجائیے تو یہاں جنوبی کولکتا کی نشست پر ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بینرجی کو اپنے مخصوص حلقہ میں اداکارہ اور شہر کے اونچے طبقہ میں مقبول شخصیت نفیسہ علی کا سامنا ہے۔

ہندوستان کے دارالحکومت دلی کے بیچوں بیچ چاندنی چوک کی نشست پر ٹی وی سیریل ’ساس بھی کبھی بہو تھی‘ میں بہو کا کردار ادا کرکے شہرت حاصل کرنے والی سمرتی ایرانی کو بی جے پی نے اپنا امیدوار نامزد کردیا ہے حالانکہ پارٹی میں شسما سوراج اس نامزدگی کی مخالف تھیں۔

ایرانی کا مقابلہ کانگریس کے راجیہ سبھا کے رکن اور پارٹی کے ترجمان کپل سبل سے ہورہا ہے۔

فلمی اداکارہ موسمی چٹر جی جن کی مسکراہٹ پر لاکھوں فریفتہ تھے اب شمالی کولکتا میں سابق مرکزی وزیر اجیت پنجہ کے مد مقابل انتخاب لڑ رہی ہیں۔

ہندی فلموں کی ایک اور بڑی اداکارہ جیہ پرادھا تیلگو دیشم پارٹی چھوڑ کر یو پی میں بیگم نو بانو کے مقابلہ میں سماج وادی پارٹی کی امیدوار ہیں۔

آسام میں شمال مشرقی ہندوستان کے مقبول گلوکار بھپن ہزاریکا سیاستدان بھریگو کمار کے مقابلے میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔

مس انڈیا کا مقابلہ جیتنے والی تین حسینائیں جنمیں فلم اداکارہ زینت امان بھی شامل ہیں ( دوسروں میں نمرتا شروکر اور سلینا جیتلی شامل ہیں) وہ کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔

اداکار شکتی کپور بھی کانگریس کی مہم میں حصہ لے رہے ہیں گو وہ باقاعدہ پارٹی میں شامل نہیں ہوۓ۔

دوسری طرف اداکار سریش اوبراۓ ، وانی تری پاتھی اور کرکٹر مہندر امرناتھ بی جے پی کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ فلمی ہیرو جیتندر بھی بی جے پی کے حق میں سرگرم ہیں۔ فلم اداکارہ سدھا چندرن بی جے پی میں شامل ہوچکی ہیں۔

سابق حسینہ عالم یکتا موکھی اور فلم اداکارہ پونم ڈھلوں بھی بی جے پی کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔

مہا بھارت ٹی وی ڈرامہ میں کام کرکے شہرت کمانے والے گجیندر چوہان بھی حکمران جماعت کا ساتھ دے رہے ہیں۔

اگلے روز بی جے پی نے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور تبصرہ نگار نوجوت سدھو کو امرتسر میں ارون جیٹلی کی نشست پر اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے۔

جنوب کی طرف تامل ناڈو میں اداکار اور پروڈیوسر رجنی کانتھ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بی جے پی کو ووٹ دیں گے تاہم لوگوں کی مرضی ہے جسے ووٹ دیں۔

یوں ہندوستان میں ہر طرف شو بزنس اور کھیل کے ستاروں نے سیاستدانوں کو ، جن سے عوام کی شکایات خاصی زیادہ ہیں، اس انتخابی مہم کو چلانے میں ایک طرح کا سہارا فراہم کیا ہوا ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ اگر شو بزنس کے ستاروں کو اتنی بڑی تعدا میں آگے لایا جارہا ہے تو کیا ہندوستان میں دوسرے صف کی سیاسی قیادت آہستہ آہستہ پیچھے چلی جاۓ گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد