BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 April, 2004, 08:08 GMT 13:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پٹنہ: مسلم ووٹ فیصلہ کن ہوگا

لالو پرساد یادو
لالو پرساد یادو
بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے موجودہ رکن پارلیمنٹ اور ان انتخابات میں یہاں سے بی جے پی کے امیدوار ڈاکٹر سی پی ٹھاکر کہتے ہیں کہ ان کے حلقہ انتخاب میں ترقیاتی کاموں کے لئے انہیں ایک ہزار کروڑ روپے کی ضرورت ہے۔

اٹل بہاری واجپئی کی کابینہ میں چند ماہ قبل وزیر صحت کی حیثیت سے کام کرنے والے سی پی ٹھاکر نے کہا کہ ایک ایم پی کو اپنے علاقے میں ہر سال جو دو کروڑ روپے ملتے ہیں اس سے کوئی بھی فلاحی کام ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا ’لوگ کہتے ہیں کہ پچھلے سالوں میں مجھے دس کروڑ روپے ترقیاتی کاموں کے لئے ملے لیکن دس کروڑ روپے سے کیا ہوگا، وکاس(ترقی) کے کاموں کے لئے دس ہزار کروڑ روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مجھے اتنی بڑی رقم کا پیکج ملتا ہے تو پھر دیکھئے کہ میں پٹنہ کا روپ کس طرح بدلتا ہوں‘۔

اس مرتبہ پٹنہ سے سی پی ٹھاکر کے خلاف لالو یادو کی جماعت راشٹریہ جنتا دل کے رام کرپال یادو میدان میں ہیں۔

پارلیمانی حلقہ پٹنہ میں مسلم ووٹروں کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ ہے۔ اگرچہ یہ تعداد کسی بھی امیدوار کی فتح و شکست میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن ماضی میں یہ ووٹ راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس میں تقسیم ہونے کے سبب ان کے نہ چاہتے ہوئے بھی بی جے پی کا امیدوار جیتنے میں کامیاب ہوتا رہا ہے۔

مقامی مسلمانوں کے مطابق سی پی ٹھاکر نے مسلم مسائل کو سرے سے نظرانداز کیا اور انہوں نے ایک مرتبہ بھی ان کے علاقوں مثلاً سبزی باغ یا پھلواری کی جانب پلٹ کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔

سبزی باغ میں پھل فروخت کرنے والے ایک شخص محمد علیم نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ویسے تو کوئی بھی سیاسی جماعت مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے لیکن بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسی کے سبب وہ لالو یادو کو اپنا ووٹ دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

’بی جے پی ہو یا پھر آر جے ڈی ہمارا کوئی بھی خیر خواہ نہیں ہے۔ لیکن ووٹ تو ہمیں ڈالنا ہے لہذا ہمارے پاس لالو یادو کی حمایت کے علاوہ دوسرا کوئی چارہ نہیں ہے۔ جہاں تک رام کرپال یادو کا تعلق ہے تو وہ کم از کم ہمارے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ لیکن ٹھاکر صاحب کو ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے۔‘

پھلواری میں ایک میڈیکل سٹور کے مالک شمیم کا کہنا ہے کہ سی پی ٹھاکر کا زیادہ وقت پٹنہ کے باہر گزرتا ہے جس کی وجہ سے وہ بقول شمیم کے پٹنہ کے مسائل سے بے بہرہ ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی کے حمایتی بھی اعتراف کرتے ہیں کہ سی پی ٹھاکر نے گزشتہ پانچ سالوں میں ترقیاتی کاموں کے نام پر کچھ بھی نہیں کیا لیکن وہ بس ریاست سے آر جے ڈی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

گاندھی میدان کے قریب چائے کی دکان چلانے والے پپو کہتے ہیں کہ ’میں خود ایک پسماندہ ذات س تعلق رکھتا ہوں لیکن اس کے باوجود میں اب لالو کو ووٹ نہیں دوں گا۔ لالو کی حکومت میں غنڈہ گردی بڑھی ہے اور اب ہم کہیں بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کر سکتے۔ پہلے میں اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ شام میں بغیر کسی خوف کے فلم دیکھنے جا سکتا تھا۔ اب یہ ممکن نہیں ہے۔ لالو یادو کی پارٹی غنڈوں کی پارٹی ہے اور ہمیں اسے اکھاڑ پھیکنا ہوگا‘۔

انیس سو ننانوے کے انتخابات میں سی پی ٹھاکر پٹنہ سے تقریباً اننچاس ہزار ووٹوں سے فتح یاب ہوئے تھے۔ اس مرتبہ رنجن یادو بھی بحیثیت آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔

رنجن یادو پہلے لالو یادو کی جماعت کے ایک طاقتور رہنما تھے لیکن اب انہوں نے راشٹریہ جنتا دل سے علیحدگی اختیار کر کے آزاد الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مبصرین کے خیال میں رنجن یادو کی موجودگی سے راشٹریہ جنتا دل کو شدید نقصان پہنچے گا کیونکہ وہ رام کرپال یادو کی مانند گوالہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور اس طرح وہ گوالہ ووٹ تقسیم کرنے میں با آسانی کامیاب ہو جائیں گے۔

اگر مسلم ووٹروں کی ایک چھوٹی سی تعداد بھی اس الیکشن میں لالو یادو کے خلاف ووٹ ڈالتی ہے تو پھر پٹنہ سے رام کرپال یادو کی شکست یقینی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد