BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2004, 18:47 GMT 23:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان نہیں لاسکتے‘

بنگلہ دیشی شہری
پاکستانی حکومت: اس مرحلہ پر یہ تصدیق کرنا ممکن نہیں کہ بنگلہ دیش میں اصلی پاکستانی شہری کون ہیں

حکومت پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ درخواست کی سماعت کے دوران موقف اختیار کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں رہنے والے بِہاری اس ملک کے شہری ہیں اور پاکستان حکومت انھیں اپنے ملک میں نہیں لاسکتی۔

لاہور کے ایک وکیل ایم ڈی طاہر نے لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ میں انیس سو ننانوے سے ایک اپیل دائر کی ہوئی ہے۔ مارچ انیس سو اٹھانوے میں وکیل کی رٹ درخواست کو عدالت عالیہ کے جج خلیل رمدے نے خارج کردیا تھا اور مدعی کو پانچ ہزار روپے جرمانہ بھی کیا تھا۔ اب ڈویژنل بینچ میں جسٹس جاوید بٹر اور جسٹس مزمل خان اس فیصلہ کے خلاف اپیل کی سماعت کررہے ہیں۔

رٹ درخواست میں کہا گیا تھا کہ بنگلہ دیش میں کیمپوں میں رہنے والے بِہاری پاکستانی شہری ہیں اور انھیں پاکستان لانے کے انتظامات کیے جائیں۔

وفاقی حکومت کی طرف سے اس کے قانونی مشیر شیر بہادر نے ڈپٹی اٹارنی جنرل شیر زمان خان کے توسط سے آج عدالت عالیہ میں حکومت کا جواب دائر کیا۔

وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ اس مرحلہ پر یہ تصدیق کرنا ممکن نہیں کہ بنگلہ دیش میں اصلی پاکستانی شہری کون ہے۔ وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ ہمدردی ، بھائی چارہ اور محبت کسی کو ملک کی شہریت دینے کے لیے بنیاد نہیں بناۓ جا سکتے۔

حکومت نے کہا ہے کہ دفتر خارجہ کو علم ہوا ہے کہ بنگلہ دیش میں کیمپوں میں رہنے والے کچھ بِہاریوں کو اس وقت ووٹ دینے کا حق مل گیا تھا جب چھ مئی دو ہزار تین کو وہاں کے ہائی کورٹ نے انھیں بنگلہ دیشی شہری قرار دیا تھا ’اور ظاہر ہے کہ اس طرح سب بہاری بنگلہ دیش کے شہری قرار پاۓ ہیں‘۔

حکومت نے کہا کہ بنگلہ دیش ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ مہاجر کیمپوں میں رہنے والے چار لاکھ سے زیادہ بِہاریوں کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔

حکومت نے عدالت عالیہ سے کہا ہے کہ جہاں تک ان کے مذہبی حقوق کا تعلق ہے تو ان لوگوں کا مسقبل بنگلہ دیش میں محفوظ ہے کیونکہ بنگلہ دیش ایک اسلامی ملک ہے۔

حکومت نے موقف اختیار کیا کہ اب ان لوگوں کا مستقبل بنگلہ دیش کے شہری قوانین اور وہاں کے آئین کے مطابق طے ہوگا۔

حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ جو بچے انیس سو اکہتر کے بعد بنگلہ دیش میں پیدا ہوۓ ہیں وہ وہاں کے شہری ہیں اور وہاں کی شہریت ہی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد