BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 April, 2004, 13:21 GMT 18:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واجپئی صاحب کی سردردی

وزیر اعظم واجپائی
ہندوستان کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے گجرات میں اپنے نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی کے گاندھی نگر کے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا حلقہ بھی ایڈوانی کے حلقہ کی طرح مضبوط ہوتا تو ان کے سر کا درد آدھا ہوجاتا اور ان کے سر میں درد کیوں ہے سب کو معلوم ہے۔

وہ لکھنؤ میں اپنے حلقہ انتخابات میں درپیش مشکلات کی طرف اشارہ کررہے تھے جہاں ایک کے بعد ایک واقعہ رونما ہورہا ہے۔

اٹل بہاری واجپئی کی مقبولیت کے بل بوتے پر بھارتی جنتا پارٹی کو عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل ہونے کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔ جہاں ایک طرف ’واجپائی فیکٹر‘ ہندوستان کی لوک سبھا کے انتخابات میں ایک اہم خصوصیت کے طور پر سامنے آیا ہے تو دوسری طرف خود اٹل بہاری واجپائی کو لکھنؤ میں ان کے انتخاباتی حلقہ میں قدرے مشکل حالات کا سامنا ہے۔

لکھنؤ میں ساڑھیوں کی تقسیم پر لوگوں کا کچل کر مارے جانے کا واقعہ ہو یا واجپائی کے دیرینہ دوست رام جیٹھ ملانی کا ان کے خلاف الیکشن لڑنے کا معاملہ، واجپئی کو دونوں صورتوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

واجپائی

گزشتہ روز ہی ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے یو پی حکومت کو لکھنؤ میں بھارتی جنتا پارٹی کے ایک سینئر رہنما لال جی ٹنڈن کے خلاف رشوت کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے جنھوں نے پچھلے ہفتہ اپنی سالگرہ پر ساڑھیاں تقسیم کیں تو بھگدڑ میں بیس بائیس افراد ہلاک ہوگۓ تھے۔

چیف الیکشن کمشنر ٹی ایس کرشنا مورتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔

حزب اختلاف نے الزام لگایا تھا کہ لال جی ٹنڈن واجپائی کے لیے ووٹروں کو لبھانے کے لیے ساڑھیاں بانٹ رہے تھے۔

آج سنیچر کے روز کانگریس کے سیکرٹری جنرل مختار نقوی نے دلی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی پارٹی اس شو کاز کا جائزہ لے رہی ہے اور حقائق کا پتا چلا رہی ہے جس کے بعد وہ الیکشن کمیشن کو اس کا مناسب جواب دے گے۔

تاہم بی جے پی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے بی جے پی کا براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے اور ٹنڈن پہلے بھی اسی تاریخ کو اپنی سالگرہ مناتے رہے ہیں اور لوگوں کے لیے مختلف پروگرام کرتے رہے ہیں۔

دوسری طرف معروف وکیل رام جیٹھ ملانی ، جنھوں نے چند روز پہلے واجپائی کے مقابلہ میں اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے تھے، آج پھر میدان میں آگئے ہیں۔

واجپائی
آج سہ پہر دلی میں رام جیٹھ ملانی کے گھر پر پریس کانفرنس کرتے ہوۓ ان کے ترجمان سوامی اگنی بیشنے کہا کہ رام جیٹھ ملانی نے تین دن پہلے کاغدات واپس لے لیے تھے لیکن اب انھوں نے دوبارہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رام جیٹھ ملانی نے یہ فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ تین دن پہلے اس کا بیٹا بہت بیمار تھا اب وہ صحتیاب ہورہا اس لیے وہ واپس آرہے ہیں اور انتخابات لڑیں گے۔

آج سہ پہر ہی دلی میں کانگریس کے مرکزی دفتر میں پارٹی کے ترجمان اور راجیہ سبھا کے رکن کمل سبل نے، جو چاندنی چوک سے پارٹی کے لوک سبھا کے امیدوار ہیں، ایک پریس کانفرنس کی اور کہا کہ رام جیٹھ ملانی نے ریٹرننگ آفیسر کو آج ایک خط لکھا ہے کہ انھوں نے اپنے کاغذت واپس نہیں لیے اور وہ بدستور امیدوار ہیں۔

کانگریس نےوزیراعظم واجپائی پر رام جیٹھ ملانی کے معاملہ پر بھی شدید نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کے ترجمان کپل سبل نے کہا کہ واجپائی نے رام جیٹھ ملانی سے یہ اپیل کی تھی کہ وہ ان کے مقابلہ میں انتخاب نہ لڑیں کہ ان کا پرانا تعلق ہے۔

کانگریس کا موقف ہے کہ وزیراعظم واجپائی نے ایک مخالف امیدوار سے یہ اپیل کرکے وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا اور الیکشن قوانین کے تحت یہ اپنے اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال کی ذیل میں آتا ہے جس پر انتخاب کے بعد واجپائی کے خلاف الیکشن پیٹیشن دائر کی جاسکتی ہے اور الزام ثابت ہونے پر وہ چھ سال کے لیے نااہل ہوسکتے ہیں۔

عام اندازوں کے مطابق رام جیٹھ ملانی شائد واجپائی سے الکیشن جیتنےکی پوزیشن میں نہ ہوں لیکن جیسا کہ اب تک وہ تمام حزب اختلاف کے مشترکہ امیدوار کے طور پر میدان میں تھے اس سے یہ خیال تھا کہ واجپائی کو ذرا سخت مقابلہ کا سامنہ کرنا پڑے گا۔

اس وقت انتخابات کے تازہ سروے کے مطابق ، جس کا اہتمام این ڈی ٹی وی اور انڈین ایکسپریس اخبار نے کیا تھا، کانگریس کی پوزیشن بہتر ہورہی ہے اور تین ہفتہ پہلے کے مقابلہ میں کانگریس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے او بھارتی جنتا پارٹی کی مقبولیت پہلے سے کم ہوئی ہے۔

تاہم سروے سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ اٹل بہاری واجپائی کی مقبولیت اس وقت بھی زوروں پر ہے کیونکہ لوگوں نے واجپائی کو اسی فیصد ریٹنگ دی جبکہ سونیا گاندھی کی مقبولیت اٹھاون فیصد ہے۔ گویا بھارتی جنتا پارٹی اتنی مقبول نہیں ہے جتنا کہ واجپائی مقبول ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ واجپائی جن کے بل پر پورے ہندوستان میں بھارتی جنتا پارٹی کے امیدوار انتخابات جیتنے کی امید لگاۓ ہوۓ ہیں انھیں خود اپنے حلقہ میں ایک سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اسے اپنے سر درد کی وجہ بتا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد