واجپئی کی انتخابی مہم کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی نے سیاسی استحکام کو اہم مسئلہ بتاتے ہوئے اپنے انتخابی حلقے لکھنئو میں انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ وزیرِاعظم نے ملک کو عدم استحکام سے بچانے کے لئے واضح اکثریت کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس پر اس سے پہلے کی چار حکومتوں کو گرانے کا الزام لگایا۔ اس کے ساتھ ہی وزیِر اعظم نے نائب وزیرِ اعظم لال کرشن اڈوانی کی ’ بھارت اودے رتھ یاترا ‘ کا خیر مقدم بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لئے استحکام ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پانچ چھ برس تک مرکز میں ایک مستحکم حکومت رہی ہے اور اسی وجہ سے ملک کی ترقی ممکن ہو سکی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں بھارت کی ساکھ بہتر ہونے کی وجہ بھی سیاسی استحکام ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ نشستیں کوئی پرساد نہیں ہیں جو ہر پارٹی کو تھوڑی تھوڑی دی جائیں یہ ملک کی ترقی کا سوال ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہوگا اگر ہر چھ مہینے میں ملک کا وزیرِ اعظم تبدیل ہو؟ بی جے پی کے باقی رہنما منگل سے انتخابی مہم کا آغاز کر رہے ہیں۔ نائب وزیرِاعظم ایل کے اڈوانی کے ساتھ اختلافات کو انہوں نے ٹالتے ہوئے کہا کہ ایسی غلط خبریں تو اڑتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اڈوانی جی نہیں چاہتے تو آج وہ ملک کے وزیرِ اعظم نہیں ہوتے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دراصل لوگوں کو پریشانی ہے کہ آخر پچاس سال سے یہ جوڑی ایک ساتھ کیسے ہے۔ اٹل بہاری واجپئی نے 1942 میں مخبری کے الزام کی بھی تردید کی انہوں نے کہا کہ الیکشن جیتنے کے لئے کسی کی کردار کشی نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی اخلاقی حدود کو پار کرنا چاہئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||