BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسام: بی جے پی اور نیا سیاسی دور

ریاست میں ہندی بولنے والوں کے خلاف شدید جذبات رہے ہیں
ریاست میں ہندی بولنے والوں اور مقامی باشندوں کے درمیان تشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں
آسام ملک کے شمال میں وہ ریاست ہے جہاں وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی جماعت بی جے پی کو کامیابی کی پوری امید ہے۔ دیگر شمالی ریاستوں میں بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں یا تو پہلے ہی سیٹیں جیت کر اب مزید اضافے کی امید نہیں کرسکتی ہیں جیسے بہار اور اڑیسہ میں، یا پھر ان کے لئے اب کوئی امید نہیں بچی ہے جیسے ریاست مغربی بنگال میں۔

آسام میں بی جے پی کے لئے اپنی حالت سدھارنے کے لئے بہت مواقع ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں یہاں کی چودہ پارلیمانی نشستوں میں سے دو ہی اسے ملی تھیں جبکہ کانگریس نےدس سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اس کے بعد ہونیوالے اسمبلی انتخابات میں اچھی کامیابی کے بعد کانگریس اب اقتدار میں ہے۔

بی جے پی آسام میں بہتری کے مواقع پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ لیکن یہاں انتخابی کامیابی حاصل کرنا بہت آسان بھی نہیں ہے۔ یہ وہ ریاست ہے جہاں کانگریس نے گزشتہ عشرے میں اپنی حالت سدھاری ہے۔ انیس سو نوے کے عشرے کے آغاز میں بہیراگت مخالف تحریک کی وجہ سے کانگریس کمزور ہوئی تھی۔ انیس سو تراسی میں کانگریس کو کامیابی ملی تھی لیکن یہ اس کی مقبولیت کی علامت نہیں تھی۔

انیس سو پچاسی میں علاقائی جماعت اسم گن پریشد اقتدار میں آئی جس کے بعد سے کانگریس کا زور کم ہونے لگا۔ لیکن پریشد کی کامیابی برقرار نہ رہ سکی اور انیس سو اکیانوے میں پھر کانگریس ریاست میں اقتدار میں آگئی۔

انیس سو چھیانوے میں یہاں اسمبلی اور پارلیمانی الیکشن ساتھ ساتھ ہوئے تھے اور پھر اسم گن پریشد کامیاب ہوگئی۔ لیکن ایک بار پھر بدعنوانیوں کے الزامات اور پارٹی میں داخلی سیاست کی وجہ سے پریشد کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا۔

بی جے پی کی برتری؟
بی جے پی کو برتری اسی وقت حاصل ہوگی جب کانگریس کو آٹھ فیصد کا نقصان ہو اور بی جے پی کو اتنا ہی فائدہ ہو۔ لیکن اگر اسم گن پریشد اپنی پرانی حمایت تھوڑا بہت بھی برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو بی جے پی کے لئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔
یوگندر یادو

انیس سو ننانوے کے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس نے ریاست سے دس سیٹیں جیتیں اور دو ہزار ایک میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں واضح اکثریت سے کامیابی کے ساتھ ریاست میں اقتدار میں آگئی۔ اس کے بعد پریشد اور کانگریس کے درمیان کی سیاست میں پریشد کا نقصان ہوتا چلاگیا اور ساتھ ساتھ بی جے پی ریاست میں پیر جمانے لگی۔

بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر تعمیر کرنے کی لال کرشن اڈوانی کی تحریک کے بعد انیس سو اکیانوے میں لوک سبھا کے لئے جو انتخابات ہوئے تھے اسی میں بی جے پی نے ریاست میں پہلی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سال بی جے پی نے وادئ براک میں دو پارلیمانی نشستیں حاصل کی لیکن تب اس کے ووٹ صرف دس فیصد سے بھی کم تھے۔

لیکن انیس سو اکیانوے کے بعد آسام میں ہونیوالے تمام انتخابات میں بی جے پی کے ووٹوں کی شرح بڑھتی گئی اور ریاست کے مختلف علاقوں میں اس کی سیاسی موجودگی مضبوط ہوتی گئی۔ انیس سو ننانوے کے انتخابات میں بی جے پی کے ووٹ تیس فیصد ہوگئے اور اسے احساس ہوا کہ اب وہ کانگریس کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ ایسا کرنے کے لئے بی جے پی کے پاس دو راستے تھے: اسم گن پریشد کے ساتھ اتحاد، یا پھر اکیلے ہی انتخابی لڑائی۔

دوہزار ایک میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی نے اسم گن پریشد کے ساتھ اتحاد کیا لیکن اسے بری ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اتحاد تو ہوگیا تھا لیکن ریاست میں بی جے پی کے رہنما اور اسم گن پریشد کے رہنما ایک ساتھ مل کر کام نہ کرسکے جو ان کی انتخابی کی ناکامی کی وجہ ثابت ہوئی تھی۔

لیکن اس بار بی جے پی نے اپنے ریاستی رہنماؤں کی بات مان لی ہے اور اسم گن پریشد سے انتخابی گٹھ جوڑ نہیں کررہی ہے۔ پریشد نے بھی اتحاد کے لئے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی دی ہے۔

مہنت کا خاتمہ
دریں اثنا اسم گن پریشد میں پرفُل کمار مہنت کی قیادت کا دور ختم ہوگیا ہے اور حال ہی میں ورِنداون گوسوامی کو پریشد کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ پریشد کے نئے رہنما سیاسی ساکھ بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ مہنت کے سیاسی حریف بھِرگو پھُوکن کو پھر سے پارٹی میں لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اسم گن پریشد میں نئی جان آرہی ہے جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ ریاست میں اس بار سہ طرفہ انتخاب ہوگا۔ آسام میں مختلف طبقات کی جو سیاست ہے اس کے لحاظ سے ریاست میں سہ طرفہ ووٹِنگ کانگریس کے لئے بہتر ثابت ہوگی۔

گزشتہ دو عشروں میں آسام کے مختلف قبیلوں اور طبقات کے درمیان دوری بڑھتی گئی ہے۔ پہلے صرف کانگریس ہی آسامی قومیت کی نمائندگی کرتی تھی اور اسے یہاں کے مقامی آسامی ہندوؤں اور مسلمانوں کے بھی ووٹ حاصل ہوتے رہتے تھے۔ خود مختاری کے لئے آسام تحریک نے کانگریس کے ووٹروں کو بانٹ دیا۔

طبقات کی سیاست
آسامی ہندوؤں میں کانگریس کی حمایت کم ہوگئی ہے اور اب کانگریس اقلیتوں اور باہر سے آکر بسنے والے بنگالیوں اور چائے کےباغوں میں کام کرنے والے غیرآسامی مزدوروں کی جماعت بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کو ملنے والے قبائلی ووٹوں سے اس کی حالت اچھی ہی ہوتی لیکن کانگریس اس کا فائدہ پوری طرح نہیں اٹھا سکی ہے۔

کانگریس کے امکانات
 اس بار آسامی ہندؤوں کے اونچے طبقات کے ووٹروں کا بی جے پی اور اسم گن پرشید کے درمیان تقسیم ہوجانا، کانگریس کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ نچلے طبقات کے ہندو ووٹروں میں کانگریس اور بی جے پی کا برابر کا اثر ہے۔ کانگریس ان قبائل کا ووٹ بھی حاصل ہوگا جن کی نمائندگی کوئی بھی سیاسی جماعت نہیں کررہی ہے اور اسے شیڈول کاسٹ ووٹروں کی حمایت بھی ملے گی۔
یوگندر یادو

ابھی اسم گن پریشد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اس کی حمایت آسامی ہندوؤں میں ہے لیکن انتخاب میں کامیابی کے لئے اتنا کافی نہیں ہے۔ جب پریشد کا اقتدار تھا تو اس نے باہر سے آکر بسنے والے مزدوروں کا دل جیتنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

لہذا اسم گن پریشد کے لئے اپنا سیاسی وجود برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ یونائٹیڈ مائنرِٹی فرنٹ اور دیگر قبائیلی جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد کرے۔

دوسری جانب بی جے پی آسامی قومیت کو ہندو قومیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسے ہندوؤں، بنگالیوں اور بہیراگتوں سے ووٹوں کی امید ہے کیونکہ ان برادریوں کا مسلمان سے ٹکراؤ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کو پہلی کامیابی وادئ براک میں ملی تھی کیونکہ یہاں مسلمان کے مقابلے میں بہیراگتوں کی آبادی زیادہ ہے۔ رفتہ رفتہ بی جے پی کا اثر زیریں اور بالائی آسام میں بھی مضبوط ہوگیا۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں پہلے اسم گن پریشد کا اثر و رسوخ تھا۔

لیکن اس بار آسامی ہندؤوں کے اونچے طبقات کے ووٹروں کا بی جے پی اور اسم گن پرشید کے درمیان تقسیم ہوجانا، کانگریس کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ نچلے طبقات کے ہندو ووٹروں میں کانگریس اور بی جے پی کا برابر کا اثر ہے۔ کانگریس ان قبائل کا ووٹ بھی حاصل ہوگا جن کی نمائندگی کوئی بھی سیاسی جماعت نہیں کررہی ہے اور اسے شیڈول کاسٹ ووٹروں کی حمایت بھی ملے گی۔

لیکن ممکن ہے کہ قبائلیوں کی سیاست کانگریس کے لئے مشکلات پیدا کردے۔ کاربی انگلانگ اور کوکراجھار کے پارلیمانی حلقوں میں بالترتیب کاربی اور بوڑو برادریوں کی اکثریت ہے۔ کاربی انگلانگ کی سیٹ گزشتہ چار انتخابات میں مارکسوادی۔لیننوادی ڈیمانڈ کمیٹی کو ملتی رہی ہے۔یہ جماعت اب مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (مالے) میں ضم ہوگئی ہے۔ کوکراجھار کی سیٹ مقامی طلباء کی تنظیم بوڑو چھاتر سنگھ کی حمایت سے ایک آزاد امیدوار کو ملی تھی۔

ہندی۔آسامی ٹکراؤ
بوڑو چھاتر سنگھ کا باہر سے آکر بسے ہندی زبان بولنے والے سنتھالوں سے ٹکراؤ رہا ہے۔ یہاں کے رکن پارلیمان نے وزیراعظم واجپئی کے اتحاد این ڈی اے کی حمایت کی تھی جس کی وجہ سے امید کی جارہی ہے کہ وہ اس بار نہیں جیتیں گے۔

کانگریس کو اس ریاست سے گزشتہ الیکشن میں دس سیٹیں ملی تھیں۔ لیکن اگر اس بار اسے تین فیصد ووٹ کا نقصان ہوا تو نتائج بدل سکتے ہیں۔ اور اگر اسے نقصان چھ فیصد کا ہوا تو بی جے پی کانگریس کے برابر آسکتی ہے۔

لیکن بی جے پی کو برتری اسی وقت حاصل ہوگی جب کانگریس کو آٹھ فیصد کا نقصان ہو اور بی جے پی کو اتنا ہی فائدہ ہو۔ لیکن اگر اسم گن پریشد اپنی پرانی حمایت تھوڑا بہت بھی برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو بی جے پی کے لئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔

جبکہ دوسری جانب اگر بی جے پی اسم گن پریشد کو کنارے لگاکر کانگریس کے برابر آجاتی ہے تو ریاست کی سیاست پر اس کے دور رس نتائج ہوں گے اور ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد