واجپئی کے لیے جارجٹ کی شیروانیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف جب آگرہ گئے تھے تو اٹل بہاری واجپئی کو ان کی شیروانی بہت پسند آئی تھی اور جب جنرل مشرف نے ان سے پوچھا کہ جب پاکستان آئیں گے تو کیا تحفہ پسند کریں گے تو واجپئی جی نے کہا: ’شیروانی‘ اس کے بعد پاکستان میں صدر مشرف کی شیروانیاں بنانے والے امیر عدنان واجپئی کے لیے شیروانیاں بنا رہے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ شیروانیاں بن چکی ہیں بلکہ ان میں سے ایک جا بھی چکی ہے اور ایک جانے والی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ واجپئی الیکشن کی وجہ سے مصروف ہیں اس کے بعد وہ خود ان شیروانیوں کو لیکر جائیں گے۔ امیر عدنان نے واجپئی کے ناپ کے بارے میں بتایا کہ ان کا قد پانچ فٹ دس انچ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ناپ ذرا مشکل ہے اور اسے عام اوسط قسم کا ناپ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے کاندھے بیس انچ آستین ساڑھے چوبیس انچ،سینہ تیتالیس انچ، گردن سترہ انچ ہے جب کے ان کا شیراوانی کا کالر اٹھارہ انچ رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی شیروانی کی لمبائی چوالیس انچ ہے، جب کہ ان کی کمر اّتالیس انچ ہے۔ ان شیروانیوں کے لیے ایک غیر معمولی کپڑے کا انتخاب کیا گیا ہے اور یہ کپڑا جارجٹ ہے۔ تاہم ان کی شیروانیوں کے لیے جو جارجٹ استعمال کی گئی ہے وہ انہائی نرم ، غیر چمکدار اور شکنوں سے پاک ہے۔ امیر عدنان سے جب پوچھا گیا کہ اگر عام آدمی ان سے یہ شیروانی بنوائے تو اس کی کیا قیمت ہو سکتی ہے تو ان کا جواب تھا: ’ہم عام آدمی کے لیے شیروانی بناتے ہی نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ چار پہیوں، ایک سٹیرنگ، اور کالے رنگ کی آپ کو کئی کاریں مل جائیں گی لیکن مرسیڈیز سے سوزوکی تک ان کی کئی قیمتیں ہوتی ہیں۔ اسی طرح ان کے پاس بھی مخلتف قیمتوں کی شیروانیاں ہوتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||