’نیوکلئیر سکینڈل سنجیدہ معاملہ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف دوسرے ممالک کو نیوکلئیر ٹیکنالوجی کی منتقلی کے سکینڈل کے بعد ان کا ملک ضروری سیکورٹی اقدامات کررہا ہے۔ یہ بات انہوں نے لکھنؤ میں اپنے انتخابی حلقے کے ایک دورے کے دوران کہی۔ مسٹر واجپائی کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور ہندوستان اس سلسلے میں ضروری سیکورٹی اقدامات کررہاہے۔ اگرچے مسٹر واجپائی نے ان سیکورٹی اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی لیکن ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ اقوامِ متحدہ کے تحت ایک ایسا نظام بنایا جائے گا جو خفیہ طور پر اس ٹیکنالوجی کی منتقلی کو روک سکے گا۔ مسٹر واجپائی نے کہا کہ اُس وقت تک نیوکلئیر عدم پھیلاؤ کے معاہدوں پر متفق ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک اس بات کو یقینی نہ بنایا جائے کہ نیوکلئیر ٹیکنالوجی بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں نہ پہنچ پائے۔ ہندوستان کا اصرار ہے کہ پاکستانی سائنیسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرف سے نیوکلئیر ٹیکنالوجی کی دوسرے ممالک کو منتقلی کے سکینڈل کے سلسلے میں عالمی فورم پر بحث ہونی چاہئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||