BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 February, 2004, 04:47 GMT 09:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری پھیلاؤ:مغرب کادامن داغدار

ڈاکٹر خان
ملائشیا کی پولیس کے مطابق سری لنکا کے ایک تاجر بخاری سید ابو طاہر نے بھی پوچھ گچھ کے دوران یہ اعتراف کر لیا ہے کہ وہ لیبیا اور ایران کو پاکستان کے سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ایماء پر جوہری آلات اور مواد فراہم کرنے میں ملوث رہے ہیں۔

ملائشیا کی پولیس کے مطابق مسٹر طاہر نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس کاروبار میں ان کے ساتھ برطانیہ کے ایک تاجر پیٹر گریفین اور ان کے صاحبزادے پال گریفین بھی شریک تھے۔ان باپ بیٹوں کا کاروبار دوبئی اور پیرس دونوں جگہ ہے۔

اس سے پہلے جب مسٹر گریفین کا نام اس سلسلے میں آیا تھا تو انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی تھی لیکن مسٹر طاہر کے اس مبینہ انکشاف کے بعد اطلاعات کے مطابق جب اخباری نمائندوں نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو کسی نے ٹیلیفون اٹھانے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی۔

اب مسٹر طاہر کا یہ مبینہ بیان، جو ملائشیا کی پولیس کے حوالے سے سامنے آیا ہے، کتنا قابل اعتبار ہے، یہ فیصلہ کرنا تو بہت مشکل ہے لیکن اس سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کے اس ناجائز کاروبار کی جڑیں نہ صرف گہری ہیں بلکہ بہت پھیلی ہوئی بھی ہیں۔

یوں تو توانائی جیسی بھی ہو اس کا حصول ہمیشہ سے انسانی توجہ کا مرکز رہا ہے اس لئے کہ اسی پر انسانی ترقی کا دارومدار ہے لیکن ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے جانے کے بعد، پہلی مرتبہ جب ارباب حل وعقد کو یہ اندازہ ہوا کہ اتنی آسانی سے وہ اپنے دشمن کو تباہ وبرباد کر سکتے ہیں تو جوہری رازوں کو چھپانے اور ان کی چوری اور ان کے ناجائز کاروبار کا سلسلہ کچھ ایسی شدت سے شروع ہوا کہ اور ساری چیزیں پس پشت چلی گئیں۔

سوشلسٹ اور مغربی مملک کے جاسوسی کے نظام کا سارا مقصد ہی یہ رہ گیا کے اپنے جوہری راز کیسے چھپائے جائیں اور دوسرے کے کیسے معلوم کئے جا ئیں اور اس شبہے میں بعض ایسے لوگ بھی سولیوں پر چڑھا دیئے گئے جن کے بارے میں عام خیال تھا کہ بے گناہ تھے۔

لیکن اتنی احتیاطی تدابیر کے باوجود بھی ہیروشیما اور ناگاساکی پر بم گرائے جانے کے بعد صرف بیس سال سے بھی کم عرصے میں روس، برطانیہ، فرانس اور چین جوہری طاقتیں بن چکی تھیں اور اس عرصے میں جب بھی تیسری دنیا کے رہنماؤں کی جانب سی اس دیوانگی اور جنگی جنون کی مذمت میں بات کی جاتی تو اسے سن کر اڑادیا جاتا۔

نہ صرف یہ بلکہ سرد جنگ کے زمانے میں ہر دو بلاک کی بڑی طاقتیں اپنے اپنے حواریوں کو جن کی وفاداریوں پر انہیں مکمل یقین تھا، جوہری اسلحہ کی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد بھی دے رہی تھیں۔

بڑی کدوکاوش کے بعد 31 اکتوبر 1958 کو جنیوا کانفرنس میں امریکہ، روس اور برطانیہ میں یہ طے پایا کہ وہ عارضی طور پر آزمائشی جوہری دھماکے بند کردیں گے اور عام خیال ہے کہ یہ فیصلہ بھی اس لئے کیا گیا تھا کہ فرانس اور چین کو جوہری طاقتیں بننے سے کسی طرح روکا جائے اس لئے کہ فرانس اور چین ابھی جوہری اسلحہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ اور غالباً امریکہ اور سوویت یونین یہ نہیں چاہتےتھے کہ یہ دونوں مما لک جوہری طاقتیں بنیں اس لئے کہ یہ دونوں ممالک کبھی کبھی ان کے سامنے تن کر کھڑے ہونے کی جسارت بھی کرلیتے تھے۔

بہر حال فرانس نے 1960 کے اوائل میں اور چین نے اکتوبر 1964 میں اپنے اپنے آزمائشی دھماکے کرکے اپنے جوہری طاقت ہونے کا اعلان کردیا تو اب یہ ہوا کہ جولائی 1968 میں جوہری ٹیکنالوجی کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر تین ملکوں نےدستخط کردیئے ان میں امریکہ، سوویت یونین اور برطانیہ شامل تھے ۔

چین اور فرانس نے اگرچہ بعد میں اس معاہدے پر دستخط کیے لیکن ابتداء میں انہوں نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا اور غالباً اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ جوہری اسلحہ کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق جو اس میں دفعات ہیں وہ ناکافی اور اور اگر دیکھا جا ئے تو حقیقت بھی یہی تھی کہ جو ٹیکنالوجی معرض وجود میں آ چکی تھی اور جس کی جنگی افادیت کا ناقابل تردید ثبوت بھی ہیروشیما اور ناگاساکی میں فراہم کیا جا چکا تھا اس کو پھیلنے سے کیسے روکا جاسکتا تھا۔

چنانچہ اس معاہدے کے بعد جوہری اسلحہ کی دوڑ رکی تو نہیں ذرا اس کی رفتار سست پڑ گئی اور وہ ممالک جو یہ طاقت حاصل کرنا چاہتے تھے ان کے لئے اور کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے لئے چوری چھپے پرزے اور مواد حاصل کریں۔

دیکھتے دیکھتے یہ کاروبار چل نکلااور اس میں وہ عناصر بھی شریک ہو گئے جو سیاسی مفادات سے زیادہ مالی مفادات میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ایک اطلاع کے مطابق جرمن حکام نے 1992 میں جوہری مواد کی اسمگلنگ کے کوئی سو واقعات کی تفتیش کی جبکہ اس سے پہلے والے سال میں ایسے مقدمات کی تعداد صرف 29 تھی۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد اس کاروبار میں اور تیزی آگئ۔طلب اور رسد دونوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ کچھ ممالک بڑی طاقتوں کی چشم پوشی کے نتیجے میں جوہری صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے بعض نے سارے تکلفات بلائے طاق رکھ دیئے۔ کچھ نے ایسے بہانے بنائے کہ ان کو روکا ہی نہیں جاسکتا تھا۔

چنانچہ ہندوستان نے 1974 میں اپنا پہلا دھماکہ کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ چین چونکہ ایٹمی طاقت بن گیا ہے اور اس سے ہمارا مقابلہ ہے اس لئے ہمارے لئے جوہری طاقت بنے بغیر چارہ نہیں۔ اس کے بعد پاکستان کو جوش آیا اس نے کہا کہ ہندوستان نے یہ صلاحیت اختیار کرلی ہے اور چونکہ علاقے میں طاقت کا توازن قائم رہنا ضروری ہے اس لئے اس کا بھی جوہری طاقت بننا ضروری ہے، سو وہ بھی اس دوڑ میں شریک ہو گیا۔

اب اگر دیکھا جائے تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان جیسے ملک کو جوہری طاقت تو بنا دیا اس میں ان کے علم وکمال کو کتنا دخل ہے یہ تو یا وہ خود بتا سکتے ہیں یا پاکستان کی حکومت لیکن ان کا اگر کوئی کارنامہ ہے جو یقینی طور پر ان کے مخالفین بھی تسلیم کریں گے وہ یہ ہے کہ وہ ان ذریعوں کو تلاش کرنے میں کامیاب رہے جہاں سے ان کے اس پروگرام کی تکمیل کے لئے پرزے اور دوسرا ضروری مواد مہیا ہوسکتا تھا اور اب تک جو باتیں سامنے آئی ہیں اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ یہ ذریعے انہیں بیشتر ان ہی ملکوں میں حاصل ہوئے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کرچکےتھے۔

اب رہا یہ مسئلہ کہ انہوں نے دوسرے ملکوں کو یہ ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا کاروبار بھی شروع کردیا تھا تو عرض یہ ہے کہ لالچ بری بلا ہے جن لوگوں کو عراق کے خلاف 1991 کی کارروائی یاد ہے ان کو یہ بھی یاد ہوگا کہ برطانیہ امریکہ کے ہمراہ اس کارروائی میں پیش پیش تھا اور برطانیہ ہی کی ایک کمپنی عراق کو ایک ایسی توپ بنانے کے لئے آلات فراہم کررہی تھی جو اگر بن جاتی تو ساری توپوں کی ماں ہوتی۔

جوہری اسلحہ کے پھیلاؤ کے تدارک کی تو صرف ایک ہی صورت ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ وہ تمام ممالک جو جوہری اسلحہ بنا چکے ہیں وہ بیٹھ کر یہ قطعی فیصلہ کریں کہ جوہری اسلحہ بند اور جو بن چکا ہے اسے ناکارہ بنا دیا جائے ۔ اس طرح کی بات اگرچہ خیالی پلاؤ پکانے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی لیکن ایسے مسائل کا حل ایسی ہی فراخدلی اور انسان دوستی کے مظاہرے سے ممکن ہوسکتا ہے۔ ورنہ کوئی قانون اور کوئی معاہدہ اس وقت تک جوہری اسلحہ کے پھیلاؤ کو نہیں روک سکتا جب تک دنیا کے کسی ایک ملک کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد