’جوہری آلات منڈی سے خریدے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ اس نے جوہری آلات غیر قانونی منڈی سے خریدے تھے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے کہا کہ بعض مخصوص آلات ڈیلرز کے ذریعے خریدے گئے لیکن حکام یہ نہیں جانتے کہ یہ کس ذریعہ سے حاصل کیے گئے اور اس ذریعہ کا تعلق کس ملک سے تھا۔ حالیہ ہفتوں میں پاکستان میں جوہری اسلحہ و اثاثہ جات کے خالق اور ملک کی جوہری لیبارٹری خان ریسرچ لیبارٹری کے سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی اور معلومات فراہم کی تھیں۔ جمعہ کو ملیشیاء میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا ککہ عبدالقدیر خان کے ایک ایجنٹ نے ایران کو تیس لاکھ روپے کے عوض جوہری پرزہ جات فروخت کیے تھے۔ ایرانی حکومت کے ترجمان نے یہ تفصیل تو نہیں بتائی کہ کیا پرزہ جات غیر قانونی منڈی سے خریدے گئے تھے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملک کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پر امن ہے۔ گزشتہ برس ایران نے تسلیم کیا تھا کہ وہ اپنی جوہری سرگرمیاں کئی برس تک خفیہ انداز میں کرتا رہا ہے اور اب جوہری توانائی کے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||