| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف، واجپائی ’خیر سگالی‘ ملاقات شروع
صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے درمیان خیرسگالی ملاقات ایوان صدر میں شروع ہوگئی ہے۔ پیر کی صبح ملاقات کے لئے ایوان صدر جانے سے پہلے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے بھارتی ہائی کمشن کے رہائشی کمپلکس کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے سلسلے میں لگاتار نئے سوالات پیدا ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کی مشکلات کو سمجھیں اور ساتھ مل کر کام کرنے کا راستہ نکالیں۔ بھارتی ہائی کمشن کا رہائشی کمپلکس اسی جگہ پر تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں پچیس سال پہلے مسٹر واجپئی نے بطور وزیر خارجہ بھارتی ہائی کمشن کی چانسری کا افتتاع کیا تھا۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ واجپائی نے وزیراعظم ظفراللہ جمالی سے ملاقات کی ہے اور صدر پرویز مشرف سے ملاقات کے لیے کہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ملاقاتیں خیر سگالی کے لیے ہیں۔ کل وزیر اعظم جمالی کی واجپائی سے آدھ گھنٹہ کی ملاقات کے بعد ہندوستان کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں کی گئی پیش رفت کی رفتار کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور ملاقات دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ واجپائی اور مشرف کی دو طرفہ ملاقات اس سیاق و سباق میں ہورہی ہے جب ہندوستان کے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور سلامتی کے امور سےمتعلق مشیر برجیش مشرا تین دن سے پاکستان میں پس پردہ سفارت کاری میں مصروف ہیں اور پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ اور پس پردہ سفارت کاری کی اہم شخصیت نیاز اے نائیک کا کہنا ہے کہ برجیش مشرا نے پاکستان کی قیادت کے بہت سے اہم لوگوں سے ملاقات کی ہے جن میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائیریکٹر جنرل احسان الحق سے بھی شامل ہیں۔ برجیش مشرا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کرتے آۓ ہیں اور پانچ سال پہلے وزیراعظم واجپائی کے لاہور میں دورہ کے موقع پر انھوں نے اعلان لاہور کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ آج صدر مشرف اور وزیراعظم واجپائی کی ملاقات کو ہندوستان سرکاری طور پر خیرسگالی کی ملاقات بتارہا ہے تاہم یہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ معاملات میں ایک نمایاں پیش رفت سمجھی جاسکتی ہے جس سے باضابطہ مذاکرات کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||