BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 April, 2004, 18:34 GMT 23:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹنڈن کے خلاف رشوت کا مقدمہ
بھارتی انتخابات
اٹل بہاری واجپئی نے مرنے والوں کے احترام میں سادگی سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے
بھارتی الیکشن کمیشن نے اتر پردیش حکومت کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما لعل جی ٹینڈن کے خلاف رشوت کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

مقدمہ کی وجہ لکھنؤ شہر میں انتخابی مہم کے دوران پیر کے روز ان کی سالگرہ کی تقریب کے دوران مفت ساڑھیاں تقسیم کرنےکے متعلق ایک اعلان ہے ۔اس موقع پر ہزاروں افراد جمع ہوئے تھےاور تقریب کے دوران بھگدڑ مچ جانے سے اکیس عورتیں اور ایک بچہ ہلاک ہو گیا تھا۔

بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی بھی آنے والے انتخابات میں لکھنؤ سے حصہ لے رہے ہیں۔ وہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچے تاکہ ہلاک ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے اظہارِ افسوس کر سکیں۔

الیکشن کمیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی کہا ہے کہ وہ اپنے رہنما کے خلاف کارروائی کرے۔

انتخابات منگل کے روز شروع ہوئے اور ووٹنگ دس مئی تک جاری رہے گی۔

بھارتی الیکشن کمیشن نے یہ کارروائی حزبِ مخالف کی جماعت کانگریس کی طرف سے عائد الزامات پر کی ہے۔ کانگریس کا کہنا تھا کہ ساڑھیاں تقسیم کرنے کا اعلان رشوت دینے کے زمرے میں آتا ہے اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

اندوہناک واقعہ
 واقعہ اس قدر اندوہناک ہے کہ سوچنے پر میری سانس رک جاتی ہے
وزیرِ اعظم واجپئی

الیکشن کمیشن نےلکھنؤ کے ضلعی میجسٹریٹ اور سنیئر سپریٹنڈنٹ پولیس کو بھی تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے۔

اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو نے بھی واقعہ کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیاہے۔

لعل جی ٹینڈن نے اس واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلی ایک مقامی سماجی گروپ نے منعقد کی تھی اور یہ ان کی جماعت کا پروگرام نہیں تھا۔

جمعہ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئیر رہنما پرمود مہاجن نے کہا کہ لعل جی ٹینڈن کبھی بھی اٹل بہاری واجپئی کے الیکشن ایجنٹ نہیں رہے ہیں جیسا کہ بیان کیا جا رہا ہے۔

وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی نے منگل کے روز مرنے والوں کے احترام میں سادگی سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے اور اس موقع پر کوئی تقریب منعقد نہیں کی گئی۔

انھوں نے کہاکہ ’ واقعہ اس قدر اندوہناک ہے کہ سوچنے پر میری سانس رک جاتی ہے۔لیکن ایسے واقعات کبھی کبھی ہو جاتے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ متاثریں کی مدد کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد