’فوجی تعیناتی سے تعلقات بہتر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے کہا ہے کہ سن دو ہزار دو میں پاک بھارت سرحد پر ہندوستانی فوجی کی بھاری تعداد میں تعیناتی سے فریقین کے درمیان تعلقات کے فروغ کو مدد ملی ہے۔ روزنامہ ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے وزیراعظم واجپئی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’خاموشی سے سہے چلے جانے سے بھارتی انکار کے سبب ہی امریکہ اور دیگر ممالک نے دہشت گردی کے ضمن میں پاکستان پر دباؤ ڈالا‘۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ تو ہو ہی رہا تھا لیکن اسی دوران سن دو ہزار ایک میں دہلی میں ملکی پارلیمان کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی حکومت نے اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا لیکن پاکستان نے اس کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کی۔ اس واقعہ کے بعد سے اسلام آباد نے شدت پسند گروہوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا جس کے بعد اب دونوں ممالک امن کے عمل کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور آمد و رفت کی بحالی کے علاوہ کھیلوں کا انعقاد بھی اسی کوشش کی ایک کڑی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||