’بہت ہوچکا، اور کتنا لڑیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کہا ہے کہ لڑنے جھگڑنے کی بجائے پاکستان کو اب بھارت کے ساتھ مل کر رہنے کا احساس ہونے لگا ہے۔ بھارتی ریاست بہار کے ایک دن کے دورے کے دوران ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اٹل بہاری واجپئی نے پاکستان اور بھارت کے تبدیل ہوتے ہوئے رشتے کا خاص طور پر تذکرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے دوستوں سے کہا ہے کہ ’ہماری آپ کی لڑائی بہت ہو چکی، اور کتنا لڑیں گے اور لڑ کر کیا نتیجہ پائیں گے۔ بہت ہو چکی آؤ بیوپار کریں، ایک دوسرے کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں۔‘ بھارتی وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری سے دنوں ملکوں کو لابھ ہوگا اور دنیا ’ہمارے جھگڑوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گی۔‘ انہوں نے کہا ’یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ اس میں کچھ وقت تو لگ سکتا ہے مگر یہ بات سمجھ میں آ جائے گی۔‘ انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے خود کو ایک سچا بہاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ریاست سے انہیں مکمل حمایت کی پوری امید ہے۔ اٹل بہاری واجپئی نے کانگریس کے اس الزام پر کڑی نکتہ چینی کی کہ ہندو اور مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے میں مرکزی حکومت کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس اس طرح کے الزامات نہ لگائے بلکہ ان کو ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے اس الزام سے بھی انکار کیا کہ گزشتہ پانچ برس میں بھارت میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اٹل بہاری واجپئی کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ برس میں اٹھاسی لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||