مستحکم معاشی ترقی اور انتخابات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاست کا ایک پرانا اصول ہے۔ اور وہ یہ کہ انتخابات کے نتائج کا انحصار اکثر ملکی معیشت پر ہوتا ہے۔ اس لئے اگر بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ملک میں مئی کے مہینے میں عام انتخابات منعقد کروانے کا اعلان کیا ہے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ شروع کے چند سالوں میں خشک سالی، جس نے اس کثیر آبادی والے زرعی ملک کے لئے قحط سالی کا خطرہ پیدا کر دیا تھا، کے بعد اب ملکی معیشت کے واپس راہ پر آجانے کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بھارت کی اقتصادی شرح نمو آٹھ فی صد سے زیادہ ہے اور اس کا مقابلہ صرف چین سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ اضافہ صرف زراعت کے شعبہ ہی میں نہیں ہوا ہے بلکہ صعنت میں بھی شرح پیداوار بڑھی ہے اور پھر خدمات کے شعبہ نے تو بانس کی طرح نمو پائی ہے۔ زرعی شعبہ کو تو تقریباً ایک دہائی پر محیط مون سون کی بارشوں سے خاصا فائدہ ہوا ہے۔ اس تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ واجپئی مذہب کو انتخابی مہم کا حصہ بنائے بغیر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ حکومت بھی یہی تاثر دے رہی ہے کہ سب ٹھیک ہے اور اس کے لئے ٹی وی اور شاہراہوں پر اشتہاروں کی بھر مار ہے جن میں ایک ہی پیغام ہے: ’خوشحال بھارت‘۔ بھارت کی معاشی ترقی کے بارے میں بین الاقوامی ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ پوئرز نے بھی اچھی رپورٹ دی ہے۔ ایسے حالات میں انتخابات یقیناً حکمران جماعت کے لئے سودمند سودا ہے۔ اگرچہ بھارت کی زیادہ آبادی اب بھی ایک ڈالر یومیہ سے کم پر زندہ ہے۔ لیکن شہروں میں دکانیں غیر ملکی اشیائے خورد و نوش اور سامان زیبائش و آرائش سے اٹی پڑی ہیں۔ دس سال پہلے اس کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ اس وقت تو ایک ٹیلی فون لگوانے کے لئے بھی برسوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ جبکہ اس وقت ملک بھر میں تین کروڑ موبائل ٹیلی فون صارفین کے پاس ہیں اور اندازہ ہے کہ سال بھر میں ان کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہو جائے گا۔ ملک میں اس وقت تقریباً تیس کروڑ افراد متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کی تنخواہیں مغربی ملکوں کے مقابلے میں کم ہے تاہم ان کی قوت خرید میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس کا مثبت اثر ان کے معیار زندگی پر بھی نظر آتا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں ہر سال تئیس لاکھ گریجویٹس فارغ التحصیل ہو رہے ہیں۔ امریکہ کے مقابلے میں یہ تعداد دگنی ہے۔ یہ بھارتی گریجویٹس انگریزی زبان پر اچھی دسترس رکھتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ بھارتی ترقی کے اثرات سمندر پار بھی محسوس کیے جانے لگے ہیں۔ سستی اور لائق افرادی قوت کا یہ ہجوم یورپی اور امریکی صنعت کاروں اور تجارتی اداروں کو بھی اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ کمپیوٹر اور مواصلات کے شعبے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان حالات میں حکومت عوام کو باور کروا سکتی ہے کہ وہ ان کی جیبوں کی رکھوالی کر رہی ہے۔ اس طرح اسے مذہبی اور نسلی منافرت سے دامن بچانے کا موقعہ ہاتھ آیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||