| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف، واجپائی گھنٹہ طویل ملاقات
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے پیر کی صبح ساڑھے دس بجے ایوان صدر میں ایک دوسرے سے ملاقات کی جو ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے وزراۓ خارجہ سمیت اعلی سرکاری عہدیدار بھی شریک تھے۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات شروع ہوتے وقت گرمجوشی سے ہاتھ ملایا اور کچھ دیر تک ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے رکھا۔ صدر مشرف سے ملاقات کے لیے جانے سے پہلے وزیراعظم واجپئی اسلام آباد میں ہندوستان کے سفارت خانے کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے گۓ اور اینٹ رکھتے ہوۓ کہا کہ ’میں اینٹ رکھ رہا ہوں یہاں عمارت ضرور بنے گی‘۔ وزیراعظم واجپئی نے اس موقع پر کہا کہ نۓ سوال کھڑے ہوگۓ ہیں اور نۓ جواب مانگے جا رہے ہیں۔ ’اس لئے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے بارے میں ٹھیک طرح سے آگاہی ہو اور بات چیت لگاتار چلتی رہے اور ایک دوسرے کی مشکل کو سمجھ کر ہم مل کر کام کرنے کا راستہ نکالتے رہیں‘۔ پیر کی صبح اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں ہندوستان اور پاکستان کے وزراۓ خارجہ نے بھی ایک دوسرے سے ملاقات کی جس کی تفصیلات ابھی تک سرکاری طور پرجاری نہیں کی گئیں۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ واجپئی نے وزیراعظم ظفراللہ جمالی سے ملاقات کی ہے اور صدر پرویز مشرف سے ملاقات کے لیے کہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ملاقاتیں خیر سگالی کے لیے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف اور وزیراعظم واجپئی کے درمیان ملاقات کا ایجنڈا طے نہیں کیا گیا۔ آگرہ کی سربراہ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ڈھائی سال کے بعد پہلی بار ایک دوسرے سے ملاقات کی۔ اتوار کو وزیر اعظم جمالی کی واجپئی سے آدھ گھنٹہ کی ملاقات کے بعد ہندوستان کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں میں ہونے والی پیش رفت کی رفتار کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور ملاقات دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ واجپئی اور مشرف کی دو طرفہ ملاقات اس سیاق و سباق میں ہوئی جس میں ہندوستان کے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور سلامتی کے امور سےمتعلق مشیر برجیش مشرا تین دن سے پاکستان میں پس پردہ سفارت کاری میں مصروف ہیں اور پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ اور پس پردہ سفارت کاری کی اہم شخصیت نیاز اے نائیک کا کہنا ہے کہ برجیش مشرا نے پاکستان کی قیادت کے بہت سے اہم لوگوں سے ملاقات کی ہے جن میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائیریکٹر جنرل احسان الحق بھی شامل ہیں۔ برجیش مشرا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کرتے آۓ ہیں اور پانچ سال پہلے وزیراعظم واجپئی کے لاہور کے دورہ کے موقع پر انھوں نے اعلان لاہور کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ صدر مشرف اور وزیراعظم واجپائی کی ملاقات کو ہندوستان سرکاری طور پر خیرسگالی کی ملاقات بتارہا ہے تاہم یہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ معاملات میں ایک نمایاں پیش رفت سمجھی جاسکتی ہے جس سے باضابطہ مذاکرات کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔ پاکستان آنے سے پہلے واجپئی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ صدر مشرف پاکستان کے ایک عظیم قائد ہیں۔ اتوار کو سارک ممالک کے سربراہان کی ضیافت کے موقع پر بھی واجپئی اور مشرف کی ملاقات ہوئی تھی جس میں دوسرے سارک ملکوں کے رہنما بھی شریک تھے۔ صدر مشرف نے ضیافت میں تقریر کرتے ہوۓ کہا تھا کہ پاکستان متنازعہ مسائل کا باعزت حل چاہتا ہے جس میں دونوں فریقین ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کریں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||