’لالو لاجواب ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے آغاز میں اب صرف تین دن باقی بچے ہیں لہذا اس میں حیرت نہیں کہ انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور ہر سیاسی رہنما ووٹرز کو اپنی جانب مائل کرنے میں کوشاں ہے۔ بہار کی وزیر اعلیٰ اور لالو یادو کی اہلیہ رابڑی دیوی بھی گزشتہ تین دنوں سے بذریعہ ہیلی کاپٹر ریاست کے مختلف حصوں کا دورہ کر رہی ہیں۔ گزشتہ سات سالوں سے ریاست میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے والی رابڑی دیوی اب ایک آزمودہ کار سیاست داں بن چکی ہیں۔ وہ دن گئے جب وہ لالو یادو کی مرضی کے بغیر ذرائع ابلاغ تو کیا اپنے کسی ماتحت سے بھی بات نہیں کرتی تھیں۔ رابڑی دیوی حالیہ انتخابی مہم میں بی جے پی کی ’فِیل گڈ‘ یا خوشنما احساس اور ’انڈیا شائننگ‘ یعنی درخشاں انڈیا کے دعووں پر انتہائی بے باک انداز میں تبصرہ کرتی رہی ہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات میں رابڑی دیوی نے کہا کہ اٹل بہاری واجپئی ایک ناکام وزیراعظم ثابت ہوئے ہیں اور انہیں مستعفی ہو جانا چاہئے۔ ’واجپئی جی ایک بہت ہی کمجور(کمزور) پردھان منتری(وزیر اعظم) ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے حلقہ انتخاب لکھنؤ میں انہی کی پارٹی کے لیڈر لال جی ٹنڈن نے انتخابی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رائے دہندگان میں ساڑھیاں تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ اس تقریب میں بتیس کے آس پاس غریب مہیلائیں(خواتین) ہلاک ہوئیں۔ الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ بی جے پی کے خلاف سخت سے سخت اقدامات کرے۔ واجپئی جی کو چاہئے کہ وہ اس واقعے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں کیونکہ لکھنؤ ان کا انتخابی حلقہ ہے‘۔ مظفر پور سے جنتا دل یونائیٹڈ کے امیدوار اور واجپئی کی کابینہ میں وزیرِدفاع جارج فرنینڈس پر تنقید کرتے ہوئے رابڑی دیوی نے کہا کہ لوگ لالو یادو پر مالی خرد برد کے الزامات عائد کرتے ہیں لیکن ’حقیقت یہ ہے کہ جارج فرنینڈس سمیت بی جے پی کے کئی دیگر وزراء مخلتف گھوٹالوں میں ملوث رہے ہیں۔ جارج فرنینڈس نے، جو نالندہ سے بھاگ کر مظفر پور آ گئے، ہماری سینا(فوج) کا کفن کھا لیا، تابوت اور تہلکہ گھوٹالوں میں وہ ملوث تھے۔ اس کے علاوہ یو ٹی آئی، زمین اور ٹیلی کام جیسے گھوٹالوں میں بھی بی جے پی کے وزراء شامل تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دیش کے پردھان منتری نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔ نہ کسی معاملے کی جانچ ہو رہی ہے، نہ کوئی جیل نہیں جا رہا ہے اور نہ کسی کے خلاف مقدمے دائر ہو رہے ہیں‘۔ جمعے کے روز ایک نجی ٹیلی ویژن چینل نے اپنے انتخابی سروے میں کہا تھا کہ بہار میں لالو یادو کی جماعت راشٹریہ جنتا دل اور ان کی حلیف جماعتوں کو ریاست کی کل چالیس نشستوں میں سے چوبیس پر کامیابی ملے گی۔ لیکن جیسا کہ الیکشن کے زمانے میں سیاست داں دعوے کرنے کے عادی ہوتے ہیں، رابڑی دیوی بھی کسی سے مختلف نہیں ہیں۔ ان کے مطابق انہیں حالیہ انتخابات میں تمام چالیس سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ رابڑی دیوی نے اپنے شوہر لالو یادو کے بارے میں کہا کہ لالو مدھے پورا اور چھپرہ دونوں جگہوں سے کامیاب ہوں گے۔ چھپرہ میں لالو کے خلاف بی جے پی کے امیدوار اور شہری ہوا بازی کے وزیر راجیو پرتاپ روڈھی میدان میں ہیں۔ اپنے شوہر کے خصوصی انداز میں مسٹر روڈھی پر تنقید کرتے ہوئے رابڑی کہتی ہیں ان کا اور لالو کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ ’روڈھی وہ انسان ہیں جو چودہ سو روپے کا مرغا کھاتے ہیں اور گووا جا کر عیش کرتے ہیں۔ اس لئے جنتا(عوام) ان سے بیزار ہو چکی ہے۔ روڈھی کو اب پتہ چلا ہے کہ جنتا انہیں کس طرح بھگا رہی ہے۔ انہیں یقیناً شکست ہوگی۔‘ بہار میں راشٹریہ جنتا دل اور سونیا گاندھی کی کانگریس پارٹی کا انتخابی اتحاد ہے۔ رابڑی کے مطابق مرکز میں اکثریت حاصل کرنے کی صورت میں سنیا گاندھی کو وزیراعظم بننا چاہئے کیوں کہ ’وہ نہ صرف ہندوستان کی بہو ہیں بلکہ وہ عام لوگوں کی طرح ہندوستانی شہری بھی ہیں‘۔ سارا دن انتخابی مہم میں حصہ لینے کے بعد وہ گھریلو کام کاج مثلاً کھانا بنانا اور گھر کی صفائی جیسی ذمہ داریوں کو کس طرح انجام دیتی ہیں؟ رابڑی کہتی ہیں ان دنوں یہ ذمہ داریاں ان کی بیٹیاں نبھا رہی ہیں۔ ’ویسے ہم انتخابی مہم کےدوران کھاتے ہی کیا ہیں۔ دو سوکھی روٹی، سیب اور سنترے ہماری غذا ہوتے ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||