بھارتی انتخابات: نئی ریاستوں کا پیش خیمہ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرکزی حکومت کی ’انڈیا شائننگ ‘ مہم، لال کرشن اڈوانی کی ’بھارت ادئے یاترا‘ اور سونیا گاندھی کے روڈ شوز کی خبروں کے درمیان بھارت کے آئندہ عام انتخابات کے بعض اہم مسائل میڈیا میں وہ جگہ نہیں حاصل کر سکے جس کے وہ حقدار تھے۔ ایسا ہی ایک مسئلہ علیحدہ ریاستوں کے قیام کا مطالبہ ہے۔ جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں تلنگانہ اور مہاراشٹر میں الگ ودربھ ریاست کا مطالبہ مقامی سطح پر انتخابات کا اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔ اسی طرح جموں و کشمیر میں بھی علیحدہ جموں ریاست کی مانگ انتخابی مہم میں گونج رہی ہے۔ پچھلے عام انتخابات کے ایک سال بعد تین نئی ریاستیں جھاڑ کھنڈ، چھتیس گڑھ اور اترانچل وجود میں آئیں تھیں۔ علیحدہ ریاستوں کے بارے میں آندھرا پردیش میں سیاسی جماعتوں کا رخ واضح ہے۔ وردبھ کے لئے دونوں قومی سیاسی جماعتوں ، بی جے پی اور کانگریس مؤقف بدلتی رہی ہیں۔ علیحدہ جموں کے بارے میں صرف بی جے پی کی مقامی تنظیمیں سنجیدہ نظر آتی ہیں حالانکہ اس کی مرکزی قیادت اس کے خلاف ہے۔ ساحلی علاقہ آندھرا ، اندرونی علاقہ رائل سیما اور تلنگانہ پر مشتمل آندھرا پردیش کا قیام 1953 میں عمل میں آیا تھا۔ 1956 میں اس ریاست میں نو اور اضلاع شامل ہوئے اور کرنول کی جگہ حیدر آباد کو صدر مقام بنایا گیا۔ اس کے تیرہ سال بعد 1969 میں علیحدہ تلنگانہ کے لئے جدوجہد شروع ہو گئی جو آج کل عروج پر ہے۔ اس علاقہ میں پارلیمان کی سولہ اور ریاستی اسمبلی کی ایک سو سات نشستیں ہیں اور انتخابات کا سب سے بڑا ایشو علیحدہ ریاست کا قیام ہے۔ اس کی بنیاد ’تلنگانہ پرجا سمیتی‘ نے رکھی تھی اور 1970 میں اس نے دس نشستیں جیتی تھیں لیکن اس جماعت کے کانگریس میں ضم ہو جانے سے یہ جدوجہد رک گئی۔ تقریباً بیس سال بعد چندر شیکھر راؤ نے وزیرِ اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو کی تیلگو دیشم پارٹی سے الگ ہو کر اپنی علیحدہ
آندھرا پردیش کے وزیرِ اعلیٰ البتہ اس مسئلہ پر دونوں جماعتوں کے اس اتحاد پر بہت خفا ہیں۔ ان کے خیال میں کانگریس کو اس اتحاد کے نتائج دوسری ریاستوں میں بھگتنے پڑیں گے۔ انھوں نے کانگریس کو یاد دلایا ہے کہ ان کی قائد اندرا گاندھی ہمیشہ متحدہ آندھرا کی حامی رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین آندھرا پریدیش کے انتخابی نتائج کے شدت سے منتظر ہیں کیونکہ یہ ملک میں ایک نئی ریاست کے قیام کا باعث بن سکتے ہیں۔ تلنگانہ کی ہی طرح مہاراشٹر میں الگ ودربھ ریاست کے قیام کی جدوجہد بھی مقامی سیاست میں بہت اہمیت حاصل کر چکی ہے۔تلنگانہ راشٹر سمیتی کی طرح یہاں کوئی بڑا اتحاد اس کی مدد نہیں کر رہا پھر بھی بال ٹھاکرے کی شیو سینا کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں کا مؤقف واضح نہیں ہے۔ شیو سینا علیحدہ ودربھ ریاست کے قیام کی سخت مخالف ہے ۔ اس کا نعرہ ہے ’جے۔ مہاراشٹر‘۔ ودربھ ریاست کے قیام کے لئے توانا آواز بنواری لال پروہت نے اس علاقے کی تمام نشستوں پر اپنی جماعت کے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا تھا مگر اب کہا ہے کہ اگر کانگریس اپنے منشور میں نئی ریاست کے قیام کی قرارداد شامل کر لے تو وہ ایک بھی نشست پر امیدوار نہیں دیں گے۔ وہ بی جے پی کی طرف سے ایم پی اے رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے بی جے پی نے یہ قرارداد اپنے منشور میں شامل کی تھی مگر اب وہ وعدہ سے پھر گئی ہے۔ بی جے پی کے سنئیر رہنماء اڈوانی کا کہنا ہے کہ ان کا اتحاد اس مطالبہ کو تسلیم نہیں کرتا۔ جموں کو کشمیر سے الگ ریاست بنانے کا مطالبہ ہندوستانی سیاست میں برابر موضوع بحث رہا ہے لیکن انتخابات میں صرف بی جے پی کی مقامی تنظیمیں ہی اس مسئلہ میں دلچسپی دکھا رہی ہیں۔ ادھم پورہ اور ڈوڈا کے علاقے سے امیدوار پروفیسر چمن لال گپتا نےگذشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرنے والے انھیں کامیاب کریں وہ اس مطالبہ کو منظور کروائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||