BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 May, 2004, 05:51 GMT 10:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت سازی کے لئے غور و فکر
News image
کانگریس پارٹی کی اطالوی نژاد سربراہ سونیا گاندھی
بھارت میں کانگریس کو ایک حیران کن فتح سے ہمکنار کرنے کے بعد سونیا گاندھی نے حکومت سازی کے لیے اپنی اتحادی جماعتوں سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ وزیر اعظم کے لیے امیدوار ہوں گی۔

کانگریس کی اطالوی نژاد رہنما سونیا گاندھی نے ایک مضبوط مستحکم اور سیکولر حکومت کے قیام کا عزم کیا ہے۔

حکومت سازی کے لیے مختلف پارٹیوں سے مذاکرات کےسلسلے کا آغاز کرتے ہوئے جمعہ کو سونیا گاندھی نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہنما شرد پوار سے ملاقات کی۔

شرد پوار نے سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد کہا کہ سونیا گاندھی کو وزیر اعظم کا امیدوار نامذ کرنے کا فیصلہ تمام اتحادی جماعتوں اور مستقبل میں قائم کی جانے والی حکومت کے متوقع حامیوں سے کے مشترکہ اجلاس میں کیا جائے گا۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہمنا نے کہا کہ کانگریس کی قیادت میں قائم ہونے والی مخلوط حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ ان کی پارٹی کی مجلسِ عاملہ کرئے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ایک مستحکم حکومت بنانے کےلیے کانگریس سے مکمل تعاون اور حمایت کرئے گی۔

اب تک کے نتائج
کانگریس اور اتحادی: 217
بی جے پی اور اتحادی: 185
دیگر:136
نیشنل انفارمیٹکس سینٹر

کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ہندوستان کی آئندہ حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گی اور ان کی جماعت شروع سے ہی پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق سابق وزیراعظم واجپئی کے اقدامات کی حمایت کرتی رہی ہے۔

کانگریس پارٹی کے بیشتر ارکان کی رائے میں ملک کی وزیراعظم سونیا گاندھی ہی کو ہونا چاہئے۔

لیکن ہندو قوم پرست اور کانگریس کی بعض حلیف جماعتیں یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ بھارت کے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کی اطالوی نژاد بیوہ، وزیراعظم کے عہدے کے لئے ناقابلِ قبول ہیں کیونکہ سونیا غیر ملکی ہیں۔

حالیہ انتخابات میں کانگریس پارٹی کو بی جے پی کے مقابلے میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد بھارتی وزیراعظم اور مخلوط اتحاد بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپئی مستعفی ہو گئے تھے۔

قومی ٹی وی پر خطاب کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کرتے ہیں اور ’میری جماعت اور اتحاد کو شکست ہوئی لیکن جیت بھارت کی ہوئی‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد