حکومت سازی کے لئے غور و فکر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں کانگریس کو ایک حیران کن فتح سے ہمکنار کرنے کے بعد سونیا گاندھی نے حکومت سازی کے لیے اپنی اتحادی جماعتوں سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ وزیر اعظم کے لیے امیدوار ہوں گی۔ کانگریس کی اطالوی نژاد رہنما سونیا گاندھی نے ایک مضبوط مستحکم اور سیکولر حکومت کے قیام کا عزم کیا ہے۔ حکومت سازی کے لیے مختلف پارٹیوں سے مذاکرات کےسلسلے کا آغاز کرتے ہوئے جمعہ کو سونیا گاندھی نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہنما شرد پوار سے ملاقات کی۔ شرد پوار نے سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد کہا کہ سونیا گاندھی کو وزیر اعظم کا امیدوار نامذ کرنے کا فیصلہ تمام اتحادی جماعتوں اور مستقبل میں قائم کی جانے والی حکومت کے متوقع حامیوں سے کے مشترکہ اجلاس میں کیا جائے گا۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہمنا نے کہا کہ کانگریس کی قیادت میں قائم ہونے والی مخلوط حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ ان کی پارٹی کی مجلسِ عاملہ کرئے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ایک مستحکم حکومت بنانے کےلیے کانگریس سے مکمل تعاون اور حمایت کرئے گی۔
کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ہندوستان کی آئندہ حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گی اور ان کی جماعت شروع سے ہی پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق سابق وزیراعظم واجپئی کے اقدامات کی حمایت کرتی رہی ہے۔ کانگریس پارٹی کے بیشتر ارکان کی رائے میں ملک کی وزیراعظم سونیا گاندھی ہی کو ہونا چاہئے۔ لیکن ہندو قوم پرست اور کانگریس کی بعض حلیف جماعتیں یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ بھارت کے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کی اطالوی نژاد بیوہ، وزیراعظم کے عہدے کے لئے ناقابلِ قبول ہیں کیونکہ سونیا غیر ملکی ہیں۔ حالیہ انتخابات میں کانگریس پارٹی کو بی جے پی کے مقابلے میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد بھارتی وزیراعظم اور مخلوط اتحاد بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپئی مستعفی ہو گئے تھے۔ قومی ٹی وی پر خطاب کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کرتے ہیں اور ’میری جماعت اور اتحاد کو شکست ہوئی لیکن جیت بھارت کی ہوئی‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||