سونیا گاندھی اور وزارتِ عظمیٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے حالیہ انتخابات میں ہارنے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس اعلان کے بعد کہ وہ کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے وزیراعظم کے عہدے کے لئے حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے، سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ وہ وزیرِ اعظم نہیں بنیں گی۔ اس سے قبل بی جے پی کے صدر ونکیا نائیڈو کے مطابق اس تقریب کے بائیکاٹ کی وجہ سونیا گاندھی کے غیر ملکی ہونے کے خلاف عوام میں پائے جانے والے احتجاج کو ظاہر کرنا بتایا تھا اور ان کے وزیرِ اعظم بننے پر تحریک چلانے کی دھمکی بھی دی تھی۔ کیا سونیا گاندھی کے وزارتِ عظمیٰ کو مسترد کردینے سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا؟ کیا اس سے انڈیا میں بننے والی کانگریس حکومت سیاسی طور پر زیادہ مستحکم ہوگی؟ کیا سونیا گاندھی کے اطالوی نژاد ہونے کو استعمال کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی کا آخری سیاسی حربہ تھا؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں نجم انور، کراچی: اگر کسی کے ملک کے سیاست دان نااہل ہوں تو پھر کسی غیرملکی کو ہی ملک کی قیادت سنبھالنی پڑتی ہے۔ کوئی لیڈر نہ ہونے سے لیڈر کا ہونا بہتر ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی پارٹی اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق سونیا گاندھی کے خلاف چالیں چل رہی ہیں۔ عمر فاروق، برمنگھم: سونیا گاندھی نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ان کے خیالات کافی عمیق ہیں اور کافی باشعور ہیں۔ انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ جمہوریت کے لئے پرعزم ہیں۔ اس طرح ان کی جماعت مقبول ہوگی اور وہ اگلی بار وزیراعظم بن جائیں گی۔ عادل، کراچی: یہ بات کہ سونیا گاندھی پیدائشی طور پر ہندوستانی نہیں ہیں، بھارتی عوام سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔ سب ہی اس سے آگاہ تھے لیکن اس کے باوجود بھارت کے عوام نے سونیا گاندھی پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی پارٹی کو جتایا۔ اب جو کہ کوئی بھی سونیا گاندھی کے اطالوی نژاد ہونے کو ایشو بناتا ہے اور اس کی بنیاد پر انہیں وزیراعظم نہیں بننے دیتا وہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کرتا ہے۔ خلیل اخون، بہاول نگر: وزیراعظم کے عہدے سے سونیا گاندھی کا انکار ان کے لئے اور پارٹی کے لئے مقبولیت کا سبب بنے گا۔ امین علی، کراچی: میرے خیال میں سونیا جی کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ اس فیصلے سے کانگریس پارٹی کو مستقبل میں ضرور فائدہ ہوگا۔ سونیا جی کے اس فیصلے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ ملک اور قوم کی خدمت کرنا چاہتی ہیں نہ کہ کرسی کے لئے سیاست کررہی ہیں۔
تلاوت بخاری، اسلام آباد: آخر بھارتی جمہوریت کا پول بھی کھل ہی گیا۔ ہندو مذہبی انتہا پسندوں نے ملک کے سیاسی جمہوری فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اسی طرح جیسے سن ستر کے نتیجے کو مغربی پاکستان کے نظریہ بازوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ افسوس ہے کہ بھارت کی جمہوریت بھی ڈھونگ ثابت ہوئی۔ اور یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ہندوستانی برصغیر میں آخری فیصلہ جمہور نے نہیں بلکہ کٹر پنتھی گٹ بندوں کو کرنا ہے۔ اس کے نتیجے بھارت کے لئے خطرناک ہوسکتے ہیں۔ لئیق احمد، بہار: سونیا گاندھی کی مقبولیت بڑھے گی اور بی جے پی کا نقصان ہوگا۔ احمد صدیقی، کراچی: سونیا گاندھی کے فیصلے نے کانگریس کی متوقع حکومت پر ہونے والا ایک بڑا اعتراض ختم کردیا۔ اس سے کانگریس حکومت کو ضرور فائدہ ہوگا۔ اگر کانگریس حقیقت میں طےشدہ پروگرام کے تحت حکومت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے کہ وزیراعظم سونیا گاندھی ہے یا کوئی اور۔ فواد فراز، امریکہ: بی جے پی ایک انتہا پسند جماعت ہے۔ اس نے کبھی اونچی ذات کے ہندوؤں کے سوا کسی کو انسان نہیں سمجھا۔ سونیا گاندھی کو انڈیا میں رہتے ہوئے تیس سال سے زیادہ ہوگئے ہیں اور کیا چاہئے ان کو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ ہندوستانی ہیں؟ دیکھئے اب منموہن سنگھ کے لئے بی جے پی کون سا ہتھکنڈہ استعمال کرتی ہے۔ انجم سید، ہیوسٹن: بی جے پی نے منہ کی کھائی ہے، سونیا کا فیصلہ بہترین ہے۔ خالد محمود، کینیڈا: سونیا کا فیصلہ بی جے پی کے متعصبانہ پالیسیوں پر بھارتی عوام کے فیصلے کے بعد دوسرا تھپڑ ہے۔ جس شایان شان طریقے سے سونیا نے فیصلہ کیا ہے وہ تاریخی ہے اور اس سے کانگریس کو ایک اچھے مستقبل کی امید روشن رکھنے میں بہت مدد ملے گی۔ حامد نواز نقوی، کراچی: انڈیا میں سونیا گاندھی ایک عظیم شخصیت ہیں۔ شمش الاسلام، ٹوکیو: بی جے پی والے ہار کر اب نیچی ذہن کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اور اگر سونیا کے اطالوی ہونے پر کوئی شکایت ہے تو وہ عام کو ہونا چاہئے۔ یہ چند لوگ کچھ نہیں ہیں۔ سب عوام نے سونیا کو قبول کیا ہے اور یہ اب سونیا کا حق ہے اور بحیثیت ایک لیڈر اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ وزیراعظم بن جائیں۔ سید احمد، امریکہ: بی جے پی نے اپنا آخری حربہ اپنایا۔ نورالاسلام شیخ، کوالالمپور: سونیا جی کا اس میں کیا قصور ہے کہ وہ اٹلی میں پیدا ہوئی ہیں۔ دوسری بات کہ ان کی پارٹی انڈیا کے انتخابات میں کامیاب ہوئی ہے۔ ان کے پرائم منسٹر ہونے پر اصولی طور پر بی جے پی اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور بی جے پی کو اپنی ناکامی تسلیم کرنی چاہئے۔
ابرار قاضی، ممبئی: سونیا نے یہ کہہ کر کہ ان کا مقصد ہی نہیں تھا وزیراعظم بننے کا بی جے پی کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ مارا ہے جو وہ اگر بھولنا بھی چاہے تو نہیں بھلاسکتی ہے۔ بہرحال بی جے پی کو اپنی ہار کا بدلہ لینا تھا اور کچھ حد تک اپنے کلیجے کو ٹھنڈا کرنا تھا، مگر افسوس اس میں بھی ناکام ہوئی۔ اب دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ زرغم الدین، دوبئی: کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔ محمد شاہزیر خان، اسلام آباد: وزارت مسترد کرنے سے ان کی مقبولیت میں بےپناہ اضافہ ہوگا۔ پاکستانیوں کو بھی اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ میرے خیال میں سونیا کے بغیر کانگریس کی حکومت زیادہ کامیاب نہیں ہوگی۔ سونیا کو اب بھی اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ مسیح الدین محمد، یو اے ای: ہاں، یہ بی جے پی تھرڈ کلاس اور چیپ سیاست ہے۔ بی جے پی اور این ڈی اے کی منہ پر اچھا طمانچہ ہے۔ عدنان خالق: میرے خیال سے بی جے پی اپنی شکست کے بعد کوئی ایشو بنانا چاہتی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے غریب عوام کے لئے کچھ نہیں کیا اور اب جب ان کو اپنی ہار نظر آئی تو ایک ایسا ایشو کہ سونیا جی اطالوی ہیں جو کہ کچھ خاص نہیں ہے، اٹھانا پاگلپن ہے۔ اصغر خان، چین: سونیا گاندھی کی مقبولیت میں یقینا اضافہ ہوگا۔ کانگریس کی حکومت اس سے مستحکم ہو یا نہ، لیکن بھارت کی جمہوریت پر یہ تاریخ کا ایک بدنما داغ ہوگا۔ قیصر حنیف، لاہور: عوامی رائے کو نہ مان کرمخالفین نے اپنی نام نہاد جمہوریت پسندی کی راز کھول دی ہے۔ سماجی لحاظ سے بھی یہ لوگ اپنی بہو کو تمام زندگی غیر سمجھتے رہے۔ محمد اللہ، پشاور: پارٹی اور قوم کے لئے ایک بڑی قربانی ہے۔ ان کی مقبولیت بڑھے گی اور کانگریس پارٹی مضبوط ہوگی۔
اے رضا، ابوظہبی: وزارت عظمیٰ مسترد کردینے سے سونیا گاندھی کی مقبولیت میں یقینا اضافہ ہوگا۔ اگر وہ کانگریس پارٹی کے پس پردہ قیادت کرتی رہتی ہیں تو کانگریس حکموت کو استحکام رہے گا۔ سونیا گاندھی کے اطالوی نژاد ہونے کو بی جے پی ایک سیاسی ہربح کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ جنید جگنو، ملتان: میرے خیال میں سونیا گاندھی کو ہی وزیراعظم بننا چاہئے۔ لیکن مجھے معلوم نہیں کہ انڈیا کا آئین کیا کہتا ہے۔ شفیق اعوان، لاہور: سونیا گاندھی نے عظیم فیصلہ کیا ہے۔ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔ حقیقت میں وہ جمہوریت کی دیوی بن گئی ہیں۔ کانگریس اپنا انتخاب بھی جیتے گی۔ سید محمود، ریاض: سونیا گاندھی ایسے بھی مقبول تھی لیکن اب ان کی مقبولیت میں اور اضافہ ہوگا۔ مگر سونیا کے بجائے اگر کوئی اور وزیراعظم بنتا ہے تو اس کو کتنے دن چلنے دیا جائے گا؟ یہ کوئی نہیں بتاسکتا کیونکہ کانگریس میں ایک سے زیادہ دعوے دار بننے کے لئے تیار ہیں۔ عزیز محمد افضال، میونخ: اگر سونیا گاندھی وزیراعظم بنتیں تو کشمیر جیسے معاملات پر عملی فیصلہ نہیں کرپاتیں۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: انگور کھٹے ہیں والی مثال بہت اچھی صادق آرہی ہے اور بی جے پی کو جو اپنی من مانی کرنے کی عادت پڑ گئی تھی، اب اپنی ہار ہضم نہیں ہورہی ہے، اس لئے عجیب و غریب اوچھا ہتھکنڈے پر اتر آئی۔ ہم تو صرف یہ سمجھتے تھے کہ ایسا صرف ہمارے ملک میں ہی ہوتا ہے لیکن شاید پورے ایشیا کا یہی مسئلہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||