BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 April, 2004, 11:26 GMT 16:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ سیریز پر آپ کی رائے
’جیت لو دل‘ کا نعرہ کامیاب رہا؟
’جیت لو دل‘ کا نعرہ کامیاب رہا؟
بھارت نے کرکٹ سیریز کا آخری ٹیسٹ میچ بھی جیت لیا ہے۔ اس ٹیسٹ سیریز کا نام دیا گیا تھا: ’جیت لو دل‘۔ اس کرکٹ سیریز میں عوام کی دلچسپی کافی رہی، پہلی بار بڑی تعداد میں سرحد پار سے لوگوں کو پاکستان کے دورے کے لئے ویزے ملے۔ دونوں ٹیموں نے پانچ ون ڈے میچ اور تین ٹیسٹ کھیلیں۔ ون ڈے اور ٹیسٹ دونوں سیریز سیریز انڈیا جیت گیا۔

آپ کے خیال میں سیاسی، سفارتی اور معاشرتی سطح پر اس کرکٹ سیریز سے کیا حاصل ہوا؟ ’جیت لو دل‘ کا نعرہ کتنا کامیاب رہا؟ دونوں ٹیموں کی کارکردگی کیسی رہی؟ آپ کے خیال میں کن کھلاڑیوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا؟ ون ڈے سیریز اور ٹیسٹ سیریز کی کیا خصوصیات تھیں؟ اس سیریز سے آپ کے جو توقعات تھے کیا وہ پورے ہوئے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


عبدالعلیم، ناگویا، جاپان: میرے خیال میں کرکٹ سے شعیب اختر اور میانداد کو نکال دینا چاہئے۔

عمران سید، امریکہ: سیریز سیاسی لحاظ سے بہت اچھی رہی لیکن کرکٹ کے لحاظ سے بری۔ آخری میچ میں عاصم کمال ہاتھ ٹوٹے ہوئے حالات میں بھی کھیل رہے تھے۔ اور سینیئر کھلاڑیوں سے اِننگ شکست بھی بچائی جاسکی ہے۔

عباس، دوبئی: ٹیم میں ڈرامہ باز کھلاڑیوں کو نکال دیں جو سفید ہاتھی بنے ہوئے ہیں اور ڈِسپلن خراب کررہے ہیں۔

عاصم علی خان، لاہور: آج تک پاکستانی کرکٹ سے ہمیشہ ایک ہی شکایت رہی ہے کہ کبھی بھی ان کے کھیل میں ایک جیسا معیار برقرار نہیں رہا۔

عامر خان، دوبئی: واقعی پاکستانی ٹیم نے انڈینس کے دل جیت لئے، خاص کر شعیب صاحب نے تو دل جیتنے میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ اس سیریز کے شروع میں سچِن بنام شعیب کی سیریز کہا جارہا تھا۔ سچن نے تو پہلے میچ میں ایک شاندار سنچری بناکر اپنا حق ادا کردیا لیکن شعیب صاحب نے کیا کیا؟

شعیب اختر کا کیا ہوگا؟
میں صرف اس بات پر حیران اور دکھی ہوں کہ ہمارے کرکٹ بورڈ نے تو پیسے کما لیے مگر ملک کی عزت کا جنازہ نکالنے والے کھلاڑی شعیب اختر کو ٹیم سے نہیں نکال سکتے؟
ڈاکٹر عرفان آصف، کینیڈا

ڈاکٹر عرفان آصف، کینیڈا: میں صرف اس بات پر حیران اور دکھی ہوں کہ ہمارے کرکٹ بورڈ نے تو پیسے کما لیے مگر ملک کی عزت کا جنازہ نکالنے والے کھلاڑی شعیب اختر کو ٹیم سے نہیں نکال سکتے؟ شاید اس لئے کہ اس کے نام پر ہی پیسہ کمایا جارہا ہے، ورنہ دنیا کا ہر میڈیا اس کھلاڑی کا مزاق اڑا رہا ہے جو گزشتہ دو سالوں سے صرف اپنے منہ سے اپنی تعریف کیے جارہا ہے۔

ڈی جے آمنہ، جدہ: میچ سے پہلے یہی شور تھا کہ ہمارے بولر اچھے ہیں اور انڈیا کی بیٹِنگ لیکن نہ پاکستان کی بیٹِنگ چلی، کم از کم بیٹِنگ ہماری کوئی طاقت نہیں تھی تو، بولِنگ کا کیا ہوا؟

نسیم ریکھی، سیالکوٹ: میانداد بڑے شرم کی بات ہے کہ آپ اتنے روپئے تنخواہ لیکر بھی ٹیم کی کارکردگی بہتر نہ کرسکے۔ آپ کو تو استعفی دیدینا چاہئے۔

عثمان رفیق، پاکستان: میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ سیریز بہت اچھی تھی۔ انڈیا نے کافی اچھا کھیلا اور امپائرِنگ بھی اچھی تھی۔ ستر رن پر راہول ڈراوِڈ کا کیچ چھوڑ دینا خطرناک ثابت ہوا۔

احمد شیخ، پاکستان: یہ سیریز فِکس تھی، اس لئے اس پر کوئی ایکشن نہ لیں۔ اس سیریز میں حکومتی لیول پر جوا ہوا ہے۔

عمر بابری، کینیڈا: انڈیا اس وقت اچھی ٹیموں میں ہے، جس پر شک نہیں ہونا چاہئے۔ جبکہ پاکستانی ٹیم سے وسیم اکرم اور وقار یونس کی ریٹائرمنٹ سے کافی نقصان ہوا۔ انضی نے کافی کوششیں کی ہے، یوسف کا پرفارمنس معیاری نہیں تھا۔ عرفان مستقبل قریب میں فاسٹ بولر کی حیثیت سے دنیا میں جانا جائے گا اور اس طرح انڈیا کی ٹیم اگلی ورلڈ چیمپیئن۔

عمران کاظمی، لاہور: میرا خیال ہے کہ یہ سیریز انتہائی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ انڈیا نے میچز اور دل جیتے اور پاکستان نے بہت سا منافع کمایا جس کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ مرا جا رہا تھا۔ باقی پاکستان کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے نتائج کے بارے میں مجھے واقعی شک ہے۔ انڈیا کے تیسرے درجے کے بولنگ اٹیک کا وہ مقابلہ نہیں کرسکے جب کہ کچھ ہی عرصہ پہلے وہ جنوبی افریقہ کے ورلڈ کلاس بولنگ کا مقابلہ کرچکے ہیں۔ ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہے لیکن ایسی ہار۔ امید ہے کہ پاکستان اپنی اس بغیر کچھ کئے ہارنے کے تجربے سے کچھ سیکھے گا۔

سونالی، دہلی: میرے خیال میں یہ سیریز کافی مہنگی ثابت ہوگئی پاکستان کے لئے۔ انضمام بحیثیت کپتان بری طرح ناکام رہے۔ راشد لطیف کو جس مقصد کے لئے باہر کیا گیا تھا وہ اب پورا ہوگیا ہے۔ اب انہیں واپس لا کر ٹیم دوبارہ بنانی چاہئے کیونکہ عمران کے بعد وہ سب سے دلیر کپتان تھے۔

یاسر امین، پاکستان: یہ سرِ عام دھوکہ تھا۔

مبارک انڈیا کو، پاکستان کو بھی
 پہلے میں انڈیا کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اور پھر پاکستان کو بھی مبارکباد، جنہوں نے آپس میں بحران پیدا کرکے یہ سیریز ہاری۔ آخر میں میں شعیب اختر کو مبارک باد پیش کرتی ہوں جنہوں نے اپنے کپتان کے ساتھ عزت سے پیش آکر یہ سیریز ہروائی۔
آمنہ مریم، راولپنڈی

آمنہ مریم، راولپنڈی: سب سے پہلے میں انڈیا کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اور پھر پاکستان کو بھی مبارکباد، جنہوں نے آپس میں بحران پیدا کرکے یہ سیریز ہاری۔ آخر میں میں شعیب اختر کو مبارک باد پیش کرتی ہوں جنہوں نے اپنے کپتان کے ساتھ عزت سے پیش آکر یہ سیریز ہروائی۔ انڈیا کے اچھے کھیل کا مظاہرہ اس لئے بھی تھا کہ وہ اپنے کپتان کی کوئی بات مسترد نہیں کرتے تھے۔

مشہود، لاہور: پاکستان اور انڈیا میں واحد فرق پیشہ ورانہ طریقہ کار کا ہے۔ پاکستانی ٹیم اس سیریز کی اخباری اہمیت کا دباؤ برداشت نہ کرسکی۔ پاکستانی ٹیم نے جان لڑا کر کھیلنے کا جذبہ نہیں پیدا کیا جو مشکلات سے نمٹنے کا واحد طریقہ ہوتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود میں کہوں گا کہ انڈیا نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی۔

ماجد اقبال، ملتان کینٹ: یہ دو اور لو نہیں دو اور دو تھا لیکن اب مشرف صاحب کو سبق سیکھنا چاہئے کہ جو لوگ میدانِ جنگ میں نہیں جیت سکتے وہ کھیل کا میدان بھی نہیں جیت سکتے۔

عرفان، اسلام آباد: کاش پاکستانی کھلاڑی بھی قومی وقار کے لئے کھیل سکتے جیسے کہ انڈینز نے کیا۔

اختر نواز، لاہور: اس سیریز کے بعد یہ یقینِ کامل ہوگیا ہے کہ آئی ایس آئی میں کشمیر سیل اور افغان سیل کے بعد اب کرکٹ سیل بھی کھل گیا ہے۔

احمد خان، امریکہ: میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ انگریزی کھیل ویسے بھی کھیلنا بند کرکے شمشیرزنی، کبڈی، کشتی وغیرہ شروع کردینے چاہئیں۔

محمد اسماعیل، ملتان کینٹ: یہ کہنا کہ ہماری ہار بھی ایک سیاسی چال ہے انڈیا کو خوش کرنے کے لئے، یہ تو میں نہ مانوں ہار والی بات ہوئی۔ سچ کڑوا ہوتا ہے اسی لئے ہم لوگ ہضم نہیں کر پا رہے۔

شاہد امین، بہاولپور: ہار جیت ہوتی ہے۔ ہم ہار گئے لیکن کوئی تو آیا پاکستان کھیلنے۔ جیت لو دل سیریز تھی سو ہم نے جیت لی۔ اب اگلی دفعہ ہم جیت لو کپ سیریز کھیلیں گے اور انشاء اللہ جیتیں گے۔

کبھی پاکستان کامیچ نہ دیکھوں
 کیا کروں میری پاکستانی کرکٹ ٹیم سے محبت ہی ایسی ہے۔ پاکستان ہار جاتا ہے تو میں ساری ساری رات سو نہیں سکتا۔ سوچتا رہتا ہوں کہ اگر پاکستان ایسا کر لیتا تو ٹھیک ہوتا۔ اگر میں یہ سوچ سکتا ہوں تو پاکستانی کپتان ایسا کیوں نہیں سوچ سکتا۔
رضوان اصغر بٹ، لاہور

رضوان اصغر بٹ، لاہور: ٹیمیں اور قومیں جیتتی ہیں جذبے، ڈسپلن اور اتحاد سے اور اللہ کا پڑا کرم ہے کہ ان میں سے کوئی ایک چیز بھی ہماری ٹیم میں موجود نہیں۔ لگتا ہے کھلاڑیوں کو پہلے ہی پتہ ہوتا ہے کہ یہ میچ ہم ہاریں گے یا جیتیں گے۔ شاید میں زیادہ ہی دل برداشتہ ہوں لیکن کیا کروں میری پاکستانی کرکٹ ٹیم سے محبت ہی ایسی ہے۔ پاکستان ہار جاتا ہے تو میں ساری ساری رات سو نہیں سکتا۔ سوچتا رہتا ہوں کہ اگر پاکستان ایسا کر لیتا تو ٹھیک ہوتا۔ اگر میں یہ سوچ سکتا ہوں تو پاکستانی کپتان ایسا کیوں نہیں سوچ سکتا۔ شاید اب میں کبھی بھی پاکستانی کرکٹ کا میچ نہ دیکھ سکوں۔

قیصر، بیجنگ: یہ واقعی دل جیت لو کرکٹ تھی جس میں صرف دل ہی جیتے گئے اور کچھ نہیں جیتا گیا۔ بہر حال اچھا کرکٹ دیکھنے کو ملا اور مستقبل میں بھی یہ جاری رہنا چاہئے۔

عمران سیال، کراچی: اب جاوید میانداد کو بغیر کسی ڈر کے استعفیٰ دیدینا چاہئے۔ سب نے دیکھا کیسے پاکستانی ٹیم نے اپنے قوم کا جنازہ نکالا۔ بڑے شرم کی بات ہے، ہم کر بھی کچھ نہیں سکتے۔ اس سے تو اچھا یہ تھا کہ ہم بغیر کھیلے یہ کپ انڈیا کو دیدیتے۔

احمد ملک، مانٹریال: پاکستانی ٹیم نے عوام کو بہت مایوس کیا۔ پاک ٹیم اتنی بھی بری نہیں تھی کہ جتنی کھیلی۔ لیکن میں صرف اور صرف انضمام کو داد دینا چاہتا ہوں۔ انہوں نے صحیح مقابلہ کیا لیکن کیا کریں جب باقی ساتھ نہ دیں۔

فیصل احمد خان، سالمیہ، کویت: میرے خیال میں ایک اچھی سیریز دیکھنے کو ملی، انڈیا کے ہر کھلاڑی کی کامیابی کے پیچھے کسی نہ کسی پاکستانی کھلاڑی کا ہاتھ رہا۔

آپ یہی چاہتے تھے؟
 سیاسی، سفارتی اور معاشرتی لحاظ سے تو اس کرکٹ سیریز کا فائدہ ہی ہوا، دل جیت لو والی بات بھی بالکل ٹھیک ہے، انڈین ٹیم نے اپنے عوام کے دل بھی جیت لئے، اور دونوں سیریز جیت کر انہیں خوش بھی کردیا، یہی چاہتے تھے نہ آپ اس سیریز سے؟
شاہدہ اکرم، ابوظہبی

شاہدہ اکرم، ابوظہبی: سیاسی، سفارتی اور معاشرتی لحاظ سے تو اس کرکٹ سیریز کا فائدہ ہی ہوا، دل جیت لو والی بات بھی بالکل ٹھیک ہے، انڈین ٹیم نے اپنے عوام کے دل بھی جیت لئے، اور دونوں سیریز جیت کر انہیں خوش بھی کردیا، یہی چاہتے تھے نہ آپ اس سیریز سے؟ تو وہ مقصود پورا ہوگیا اور کیا چاہئے آپ کو؟ پیٹ بھر کر پیسہ بھی کمالیا کرکٹ سے، کیا ہوا اگر اپنے عوام کے دل نہیں جیتے؟ اپنے عوام کو خوش نہیں کیا؟ دوستی تو کرلی؟۔۔۔۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان: کرکٹ کے نام پر بیوقوف بنایا جارہا ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام کو، ایک کو الیکشن کی وجہ سے اور دوسرے کو وردی کے نام پر۔ واہ رے لیڈرشِپ!

محمد ایف خان مبشر، مسقط: دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کرکٹ سیریز شروع کرنے کا فیصلہ اچھا قدم تھا۔ ہم سب بھائی ہیں اور برادرانہ تعلقات رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ صرف سیاسی رہنما ہی معصوم عوام کے درمیان تعلقات کو خراب کردیتے ہیں۔ کرکٹ میچ نے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان تعلقات کے دروازے کھول دیے ہیں۔۔۔۔ میں کرکٹ کے نتائج کے بارے میں فکرمند نہیں۔ لیکن انڈین کھلاڑیوں نے کافی اچھا کھیلا، جبکہ شائقین کو پاکستانی کھلاڑیوں سے مایوسی ہوئی۔

نثار احمد ملک، امریکہ: مجھے لگتا ہے کہ پاکستان کو اپنی پوری ٹیم بدل دینی چاہئے، شعیب اختر کو بھی۔ پہلے اوپنر تلاش کریں اور پھر میڈیم فاسٹ بولر۔

وقار احمد، ریاض: دل جیت لو تو ہر لحاظ سے بہت زبردست رہا۔ بس ایک مسئلہ ہوگیا کہ پاکستانی ٹیم کو صرف دل جیتنے کی فکر تھی اور انڈین ٹیم کو میچ جیتنے کی۔ اور وہ دونوں جیت بھی گئے، پاکستانی ٹیم میچ تو ہار گئی مگر کم از کم انڈین ٹیم کا دل تو ضرور جیت لیا۔ اب تو وہ ہر سال آنا پسند کرینگے، اور سارے میچ بس ملتان اور لاہور میں کھیلیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد