پشاور میچ: فیصلہ کن ثابت ہوگا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کے بعد پاکستان نے اب پشاور میں کھیلے جانے والے تیسرا ایک روزہ میچ جیت کر انڈیا کے خلاف دو ایک کی سبقت حاصل کر لی ہے۔ اس میچ میں پاکستان کے دونوں نوجوان کھلاڑیوں یاسر حمید اور شبیر احمد نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یاسر حمید صرف دو رن سے اپنی سینچری سے محروم رہے جبکہ شبیر احمد نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے انڈیا کے اہم ترین بیٹسمینوں کو بشمول سچن ٹینڈلکر کے، شروع ہی میں آؤٹ کر دیا۔ اسی طرح انڈیا کی طرف سے یوراج سنگھ اور عرفان پٹھان کی کارکردگی مثالی تھی جس نے بڑی حد تک مقابلے کو سنسنی خیز بنایا۔ تاہم پچھلے میچز کی طرح یہ میچ بھی کافی حد تک سنسنی حیز رہا جس میں مقابلہ آحر تک جاری رہا۔ کیا آپ کے خیال میں یہ میچ سیریز کے نتائج میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا؟ کیا میچز اگے بھی اسی طرح سنسنی خیز ہوں گے اور آخری بال تک مقابلہ جاری رہے گا؟ ان تین میچز کی روشنی میں دونوں ٹیموں کے لیے کون سے کھلاری اہم ثابت ہوں گے؟ آپ کا ردّعمل یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ فرخ شاہ، ریاض: باقی میچ بھی اسی طرح ہوں گے اور کوئی بھی کھلاڑی کچھ بھی کر سکتا ہے۔ رضوان آفریدی، پاکستان: باقی دو میچوں کا فیصلہ بھی ضرور ہو گا کیونکہ انڈیا کی بیٹنگ اچھی ہے اور پاکستان کے بولر قدرے بہتر ہیں لیکن پچ بلے بازوں کے لئے زیادہ سازگار ہے۔ عبدالرحمٰن طاہر، مونٹریال: میرے خیال میں پشاور کا میچ دونوں ٹیموں کے لئے بہت اہم تھا لیکن پاکستان نے اچھا میچ جیتا اور بھارت پر نفسیاتی برتری حاصل کر لی۔ اگر پاکستان نے اپنی بولنگ اور فیلڈنگ پر مزید توجہ دی تو پاکستان سیریز جیت سکتا ہے۔ ذیشان خان، پاکستان: میچ بہت دلچسپ تھا اور یاسر حمید نے پاکستان کی جیت میں مرکزی کردار ادا کیا۔ سجاد حیدر، ہڑپا: لاہور کے میچ میں پتہ چلے گا کہ ہمارے بولر تندولکر کو بڑا سکور کرنے سے روک پاتے ہیں یا نہیں۔ قمر الٰہی، کینیڈا: نوجوان کھلاڑیوں نے اپنے انتخاب کو درست ثابت کر دکھایا۔ یاسر حمید بہت جلد پاکستان کے تندولکر بن جائیں گے۔ حسنین کاظمی، امریکہ: پاکستان نے مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھائی لیکن اس کے باوجود ہمارے بولر بہت زیادہ ایکسٹرا رن دے رہے ہیں۔ بہرحال پاکستان اب اس پوزیشن میں آ گیا ہے کہ لاہور کا میچ جیت جائے۔ فراج علی، ابو ظہبی: ایک اور زبردست میچ لیکن اگرچہ ہم جیتے ہمارے پیسرز سمیع اور شعیب پھر آخری اوروں میں بہت مہنگے ثابت ہوئے۔ جس کی وجہ صرف گرم مزاجی ہی ہے۔ انہیں مزاج ٹھنڈا رکھنا چاہیے ورنہ بالا جی چھکے چوکے مارا ہی کریں گے۔ محمد سعید، کویت: تینوں میچ بہت دلچسپ رہے ہیں اور دونوں ٹیمیں بہت اچھا کھیل رہی ہیں۔ پشاور کے میچ میں شبیر، یاسر، رزاق اور معین نے بہت اچھا کھیلا لیکن ایمپائرنگ بری تھی۔ محمد فیصل جمال، چکوال: میرا خیال ہے کہ اب تک کھیلے گئے میچ اتنے سنسی خیز رہے ہیں کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کون سی ٹیم سیریز جیتے گی۔ نہ ہی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ کون سا کھلاڑی سب سے اہم تھا کیونکہ یہ میچ ون مین شو نہیں تھے۔ پاکستان کو اپنی فیلڈنگ بہتر بنانا ہوگی اور انڈیا کو بولنگ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||