انڈیا پاک کرکٹ سیریز کون جیتے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو نواسی کے بعد پہلی بار بھارتی کرکٹ ٹیم دس مارچ سے پاکستان کا دورہ کرے گی۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے بعد ممکن ہورہا ہے۔ پروگرام کے مطابق تیرہ سے چوبیس مارچ کے درمیان دونوں ٹیمیں پانچ یک روزہ میچ کھیلیں گیں۔ یہ یک روزہ سیریز لاہور، کراچی، پشاور اور راولپنڈی میں منعقد ہوگی۔ اس کے علاوہ گیارہ مارچ کو دونوں ٹیمیں لاہور میں ایک پریکٹِس میچ بھی کھیلیں گی۔ اٹھائیس مارچ سے سترہ اپریل کے درمیان تین ٹیسٹ میچ بھی لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں منعقد ہونگے۔ ماضی میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونیوالے میچوں کے نتائج کچھ یوں ہیں: پاکستان کی سرزمین پر انڈیا کی ٹیم نے صرف تین میچ جیتے ہیں، جبکہ پاکستان نے دس۔ انڈیا میں پاکستان نے دس میچ جیتے ہیں جبکہ انڈیا نے چار۔ تیسرے ممالک میں کھیلے جانیوالے میچوں میں پاکستان نے بتیس جیتے جبکہ انڈیا نے تئیس۔ آپ کے خیال میں تیرہ مارچ سے شروع ہونیوالی انڈیا پاک کرکٹ سیریز میں کون ٹیم کامیاب رہے گی؟ دونوں ٹیموں میں کون کھلاڑی بہترین کھیل کا مظاہرہ کریں گے؟ اور کیوں؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ عرفان پاشا، کینیڈا: میرے خیال میں دونوں ٹیمیں کافی بیلنس ہیں۔ انڈیا کو اگر بیٹِنگ کے شعبے میں برتری ہے تو پاکستان کا باؤلِنگ اٹیک زیادہ مضبوط ہے۔ فرحان صدیقی، کراچی: کرکٹ کا عروج اور دلکشی دیکھنی ہو تو انڈیا اور پاکستان سے بہتر میچ کوئی نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کا ریکارڈ انڈیا کے خلاف بہت اچھا ہے۔ اس سیریز میں انڈیا بہترین بیٹِنگ اور کافی بہتر باؤلنگ کے ساتھ ہوگا۔ جبکہ فیلڈِنگ میں بھی انڈیا کو برتری حاصل ہوگی۔ حامد افغانی، ہرات سٹی، افغانستان: انشاء اللہ، انڈیا جیتے گا۔ عثمان ضیاء، پاکستان: میرے خیال میں انڈیا کی ٹیم اچھے فارم میں ہے۔ اس سیریز کا پروٹوکول یہ ہے کہ انڈیا ڈِکٹیٹ کرتا ہے اور پاکستان اس کی پیروی کرتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سیریز پہلے سے ہی انڈیا کے حق میں ہے۔ طفیل جمالی، لڑکانہ، سندھ: جو بھی جیتے مگر سلسلۂ محبت اسٹارٹ ہوگا۔ ماجد اقبال، ملتان کینٹ: میرے خیال سے پاکستان جیتے گا کیونکہ کافی عرصے بعد یہ لگتا ہے کہ انڈیا فیورِٹ ہے اور پریشر انڈیا پر زیادہ ہوگا۔ یہ بات نہ بھولیں کہ انڈیا کی ٹیم پریشر میں کولیپس کرجاتی ہے۔ اس لئے پاکستان جیت سکتا ہے۔ ہنی نیازی، کینیڈا: انڈیا ون ڈے سیریز جیتے گا اور پاکستان ٹیسٹ سیریز۔ سید مصطفیٰ، دبئی: پاکستان سیریز جیت جائے گا۔ انشااللہ۔۔۔ شاہد خیر ساجدی، پاکستان: میرے خیال میں پاکستان جیتے گا کیونکہ ہماری بیٹنگ بہت مضبوط ہے۔ فیصل مجید، گوجرانوالہ: میرے خیال میں پاکستان سیریز جیت جائے گا کیونکہ پاکستان کی بولنگ مضبوط ہے۔ خالد اقبال، سوات: پاکستان یہ سیریز جیت جائے گا کیونکہ پاکستان کی بولنگ بھارت سے کہیں بہتر ہے۔ عثمان غنی، چارسدہ: اگر اللہ نے چاہا تو بارت ہار جائے گا اور پاکستان باآسانی سیریز جیت جائے گا۔ آصف اعوان، ملتان: ففٹی، ففٹی امکانات ہیں، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ عمران علی، دبئی: میرے خیال میں بھارت جیت جائے گا کیونکہ پاکستانی ٹیم میں شامل بیشتر کھلاڑی نئے ہیں اور بھارتی بیٹنگ خاصی مضبوط ہے۔ راشد اعجاز ملک، پاکستان: پاکستان کے جیتنے کے آثار زیادہ ہیں کیونکہ ان کا بولنگ اٹیک بہت اچھا ہے اور اگر ہمارے نئے لے از بھی اچھا کھیل پیش کریں تو پاکستان سیریز جیت سکتا ہے۔ علی مسعود، راجوری، کشمیر: یہ سیریز پاکستان جیت لے گا کیونکہ پاکستانی ٹیم کو تماشائیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہو گی۔ کشمیری بھی پاکستانی کی ٹیم کے ساتھ ہیں۔ ثاقب نیاز، ساہیوال: پاکستان یہ سیریز ہار جائے گا اور بھارت کو کامیابی حاصل ہو گی۔ جاوید اقبال رانا، فیصل آباد: پاکستان ون ڈے سیریز جیتے گا جبکہ ٹیسٹ سیریز بھارت جیت جائے گا۔ یوسف نقوی، سعودی عرب: پاکستان سیریز جیت جائے گا۔ عاصم افضل، گوجرخان: سیریز کون جیتے گا کے مقابلے میں یہ بات زیادہ اہم ہے کہ سیریز ہو رہی ہے۔ عتیق اے سعید، اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کی کرکٹ کی تاریخ کے حوالے سے پاکستان نے زیادہ میچ جیتے ہیں اور اب حالیہ سیریز میں پاکستان کو ہوم سیریز کا اڈوانٹج ہو گا۔ اس کے باوجود کے بھارت کو میچوں کے انعقاد کے لئے شہروں کے انتخاب کی حق دیا گیا ہے، پاکستان زیادہ فیورٹ ٹیم ہے۔ عارف شہزاد، لاہور: پاکستان جیتے گا۔ نسیم واحد بھٹی، ملتان: شعیب اور سمی کی وجہ سے پاکستان کا بولنگ اٹیک خاصا مضبوط ہے۔ انڈیا کی بیٹنگ اچھی ہے لیکن پاکستان کے انضمام اور یوسف یوحنا بھی ونڈرفل ہیں۔ امید ہے کہ پاکستان جیت جائے گا۔ عاصم رضا، فیصل آباد: اگر پاکستان کے بلے باز چل جاتے ہیں تو پھر ہماری بولنگ بھی کامیاب ہو گی ورنہ بھارت جیت جائے گا۔ نذیر کپدی، کویت: بھارت تمام میچ اس لئے جیت جائے گا کیونکہ اس کی بیٹنگ بہت مضبوط ہے اور بلے باز بھی فارم میں ہیں۔ اسماعیل خان، پاکستان: ایک روزہ میچ بیٹنگ سے جیتے جاتے ہیں اور ٹیسٹ میچ بولنگ کی وجہ سے۔ موجودہ صورتِ حال میں پاکستان کی بولنگ مضبوط ہے اور انڈیا کی بیٹنگ۔ اس لئے ایک روزہ انڈیا جیتے گا اور ٹیسٹ پاکستان۔ مسعود اعوان، لاہور: میچ اچھے ہونے چاہئیں۔ یہ نہ ہو کہ دونوں ٹیمیں ڈر ڈر کو میچز کو ڈرا کی طرف لے کر جائیں۔ ہماری پچز بھی تیز اور باؤنسی بنانی چاہئیں۔ باقی انڈیا کے اتنے نخرے بھی نہ اٹھائیں۔ وزیرِ اعظم جتنا پروٹوکول۔۔۔وڈے نخرے باز عمر ببری، کینیڈا: انڈین ٹیم ایک روزہ میچوں میں زیادہ مضبوط ثابت ہوگی کیونکہ اس کی بیٹنگ لائن مضبوط اور لمبی ہے تاہم ٹیسٹ میچوں میں سے فیصلہ کن صرف ایک ہی ہوگا اور اس میں پاکستان کا پلہ تھوڑا سا بھری نظر آتا ہے۔ عمران چٹھہ، پاکستان: انڈین لاہوریوں سے ویسے ہی ڈرتے ہیں اس لئے وہ دباؤ میں کھیلیں گے اور کرکٹ میں دباؤ میں کھیلنے والے ہارتے ہیں۔ شریف اللہ موسیٰ خیل، کابل: بھارت جیت جائے گا۔ عطا حسین، اسلام آباد: دورہ دلچسپ اور سنسنی خیز ہوگا۔ بھارت اچھی فارم میں ہے خاص کر بیٹنگ میں۔ پاکستان کے ابتدائی بلے بازوں کا اچھا آغاز اور انظمام اور یوحنا کا فارم میں رہنا پاکستان کے لئے اچھا شگون ہوگا۔ باؤلنگ میں شعیب اور سمی کی اچھی کارکردگی پاکستان کو جیت کے قریب کر سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر انڈیا کا پلہ بھاری ہے۔ ارشاد خٹک، پاکستان: انشاء اللہ پاکستان جیتے گا کیونکہ لوگوں کی دعائیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ مدثر اقبال، اسلام آباد: پاکستان کو سیریز ہر حال میں جیتنی چاہئے۔ علی رضا علوی، اسلام آباد: ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ کرکٹ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ عبدالغفور، ٹورانٹو: پاکستان اپنی ٹیم میں نیا خون شامل کررہا ہے۔ چونکہ اس بار ہماری ٹیم میں وسیم اور وقار نہیں ہونگے، لہذا سورو گنگولی کی قیادت میں انڈیا کی ٹیم بہتر پوزیشن میں ہے۔ حال ہی میں انڈیا کے باؤلروں نے آسٹریلیا کی بیٹِنگ کے سامنے اچھی باؤلِنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ سیریز کون جیتے گا۔ آصف ججہ، ٹورانٹو: میں سمجھتا ہوں کہ انڈیا کے پلیئر مضبوط ہیں۔ اور مجھے امید ہے کہ وہی جیتیں گے۔ صالح محمد، راولپنڈی: میرا خیال ہے انڈیا کی ٹیم بیٹِنگ لائن اپ میں بہت بہتر ہے اور اس پر یقین کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی بیٹِنگ لائن اپ کا کچھ نہیں کہا جاسکتا، یہ تو زِمبابوے جیسی ٹیم کے خلاف ایک سو بیس پر آؤٹ یا پھر پانچ سو بیس۔ دوسری طرف باؤلِنگ سائڈ پر پاکستان پلہ بھاری ہے، بالخصوص شعیب کی وجہ سے۔ پاکستان کو انڈیا کے اسپنر سے کچھ خطرہ ہوسکتا ہے لیکن فاسٹ باؤلِنگ سو کوئی زیادہ خطرہ نہیں۔ میرے خیال میں جو ٹیم اچھی بیٹِنگ کرے گی وہی جیتے گی۔ خالد محمود، ہانگ کانگ: پاکستان جیتے گا۔ خرم شہزاد، جرمنی: میری دعائیں اور نیک خواہشات تو پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہیں، لیکن اگر اسپورٹسمین کی نظر سے دیکھا جائے تو اسی ٹیم کا پلہ بھاری ہوگا جو میچ والے دن اچھا کھیلے گی اور خصوصی طور پر فیلڈِنگ اچھا کرے گی۔ امید ہے کہ اس سیریز میں ہار اور جیت سے قطع نظر اسپورٹسمینشِپ زیادہ دیکھنے کو ملے گی۔ اور آنیوالے دنوں میں دونوں ممالک کرکٹ کھیل کی طرح کھیلیں گے، جنگ کی طرح نہیں۔ سعید اظہر، لاہور: یہ سیریز انڈیا جیتے گا۔ عثمان سید، گلبرگ، کراچی: یقینی طور پر یہ سیریز بہت ہی دلچسپ ثابت ہوگی، ایک طرف پاکستان کے نوجوان کھلاڑی بھرپور جوش و جذبے سے میدان میں اتریں گے اور دوسری جانب ہندوستانی کھلاڑی اپنی حالیہ بہتر کارکردگی اور تجربے کی بنیاد پر بلند حوصلے کے ساتھ آئینگے۔ لیکن ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کی وجہ سے پاکستان کی نوجوان ٹیم کے کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ احمد باوجہ، دوبئی: پاکستان جیتے گا لیکن یہ آسان سیریز نہیں ہے۔ عبداللہ حسنی، بلوچستان: میں سمجھتا ہوں کہ دونوں میں انڈیا کی ٹیم ٹاپ پر ہے۔ لیکن صرف شعیب اختر ہی انڈیا کو روک سکتا ہے۔ لئیق احمد، بہار: انڈیا یہ سیریز جیتے گا اور عرفان پٹھان مین آف دی سیریز ہونگے۔ شفیق اعوان، لاہور: انڈیا کی ٹیم جیت جائے گی۔ انڈیا کی ٹیم میں اسپورٹس مین کی اسپرِٹ زیاد ہے۔ ہماری ٹیم میں کھلاڑی بہت جلد ہیرو بن جاتے ہیں۔ انڈیا کے کپتان اچھے کھیل کا مظاہرہ کرینگے۔ اگر پاکستان کے کپتان وزن کم کرلیں تو شاید کچھ اسکور بن سکے۔ منیر احمد، لاہور: مجھے یقین ہے کہ پاکستانی ٹیم جیتے گی لیکن مشکل سے۔ عمران فاروق، شیکاگو: میرے خیال میں دونوں ٹیموں پر دباؤ زیادہ ہوگا۔ اس دباؤ کا سامنا جو ٹیم بہتر کرے گی وہ کامیاب ہوگی۔ ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی کامیابی کے زیادہ چانسز ہیں، شعیب اختر اور محمد سمیع کے باؤلنِگ اٹیک کی وجہ سے۔ انڈیا کی بیٹِنگ اچھے فارم میں ہے۔ شیما صدیقی، کراچی: کرکٹ لک کا گیم ہے، جس کی قسمت نے ساتھ دیا وہی ٹیم جیتے گی۔ دونوں ٹیمیں پوری کوشش کریں گی۔ لیکن مجھ جیسے شخص کو جسے کرکٹ سے کوئی دلچسپی نہیں رہی اس کو بھی اس سیریز کا شدت سے انتظار ہے۔ بہت عرصے کے بعد دل چاہ رہا ہے کہ کھیل جلد سے جلد شروع ہو۔ سلیمان وسان، کراچی: میرے خیال میں دونوں ٹیموں کے لئے یہ سب سے مشکل کرکٹ سیریز ہے۔ لیکن پاکستان کو فائدہ اس طرح ہے کہ یہ ہوم سیریز ہے۔ حسنین عالمانی، جھنگ: پاکستان میچ جیتے گا۔ سعدیہ اسد، اسلام آباد: میرے خیال میں انڈیا کے جیتنے کے چانسز زیادہ ہیں اگر ان کی ٹیم کراؤڈ پریشر کا بہادری سے سامنے کرلے۔ سچِن، ڈریوِڈ، لکشمن اور گنگولی سبھی اچھے فارم میں ہیں جبکہ پاکستانی بیٹسمین کا پرفورمنس مسلسل اچھا نہیں ہے۔ پاکستان کو ہوم گراؤنڈ کا فائدہ ہے۔ یہ کرکٹ ہے، کوئی بھی جیتے یا ہارے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ فاروق ببلو، جھنگ، پاکستان: انشااللہ پاکستان جیتے گا۔ اسد حسن، اسلام آباد: قبل از وقت اندازا لگانا مشکل ہے۔ تاہم امکان ہے کہ مردہ وکٹ کی وجہ سے ٹیسٹ سیریز ڈرا ہوجائے گا۔ جبکہ ون ڈے سیریز میں پاکستان کو ہوم گراؤنڈ کا فائدہ ہوگا۔ پاکستان ٹیم میں یوحنا اور انڈیا ٹیم میں ڈریوِڈ بہترین اسکورر رہیں گے۔ انضمام اور نتدولکر کی گیم بھی دیکھنے لائق ہوگی۔ باؤلِنگ سائڈ می شعیب اختر اور عرفان پٹھان توجہ کا باعث ہونگے۔ محفوظہ پٹھان، پاکستان: انشااللہ یہ سیریز پاکستان جیتے گا۔ محمد یومان، میرپور خاص، پاکستان: ارے جیتے گا کون؟ کیا مطلب ہے؟ صرف اور صرف پاکستان یہ سیریز جیتے گا۔ انڈیا کے پاس شعیب اختر نہیں ہے، سمیع نہیں ہے، تندولکر پاکستان کے پاس نہیں ہے تو کیا یہ دونوں اس کو سنبھال لیں گے؟ انضام اور پاکستان کی ٹاپ آرڈر بیٹِنگ اس وقت بیسٹ ہے اور ریکارڈ ہولڈر بھی ہے۔ اس لئے انڈیا سیریز جیت نہیں سکے گا۔ محمد خالد شفیق، لاہور: مجھے یقین ہے پاکستان جیتے گا۔ سعید کھٹک، نوسہرہ، پاکستان: خدا ہی جانتا ہے کون سیریز جیتے گا۔ گُڈ لک ٹو پاکستان ٹیم اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ انڈیا ٹیم کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ یہ تمام پاکستانیوں کے لئے افسوس کا باعث ہوگا۔ ریکارڈ کے حساب سے ہوسٹ ٹیم جیتتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے یوحنا اور کپتان انضام اور راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر اہم ثابت ہونگے۔ انڈیا ٹیم سے عرفان پٹھان، انِل کمبلے اور راہُل ڈریوِڈ پاکستان کے لئے مسئلہ پیدا کرسکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||