جس کے پاس ٹکٹ اسے ویزہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کےدرمیان ہونے والی سیریز دیکھنے کے خواہشمند بھارتی شائقین کو ویزے اور ٹکٹوں کے ضمن میں ہرممکن آسانی فراہم کی جائے گی۔ اس بات کی توقع ہے کہ اسٹار کرکٹرز سے سجی دو روایتی حریفوں کی یہ سیریز دیکھنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں شائقین بھارت سے سرحد پار کریں گے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن ہر اس شائق کو ویـزا جاری کرے گا جس کے پاس میچ کا ٹکٹ ہوگا۔ ٹکٹوں کے حصول کے لئے بھارت میں موجود ٹور آپریٹرز کا پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ ہے۔ سیریز کے ٹور پروگرام پر ہونے والی تاخیر کے نتیجے میں ٹکٹوں کی چھپائی بھی دیر سے شروع ہوئی ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ بدھ سے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے آن لائن ٹکٹوں کی فروخت شروع کررہا ہے جبکہ میچ سے ایک ہفتے پہلے ٹکٹ اسٹیڈیم میں بھی فروخت کے لئے پیش کئے جائیں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک شخص ایک کریڈٹ کارڈ سے دس سے زیادہ ٹکٹ خریدنہیں سکتا اس کامقصد بلیک مارکیٹنگ کو روکنا ہے۔ وزارت داخلہ ، دفترخارجہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی حکام کا غیرمعمولی اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں ہورہا ہے جس میں پاک بھارت کرکٹ سیریز کے سلسلے میں ویزا پالیسی اور دوسرے اہم پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلے کئے جائیں گے۔ وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹری عبدالرؤف چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس کے بعد ہی کوٹہ پالیسی واضح ہوگی اور یہ طے ہوسکے گا کہ بھارت سے کتنی تعداد میں شائقین آئیں گے لیکن انہوں نے یہ بات واضح کردی کہ پاکستان بھارت سے ان میچوں کو دیکھنے کے لئے آنے والوں کے لئے ویزے کے حصول کو آسان بنائے گی اور طریقہ کار کو سہل بنایا جائے گا۔ اس سوال پر کہ تخریب کار عناصر کے پاکستان میں داخلے کو روکنے کے لئے ان کے پاس کیا اقدامات ہیں توانہوں نے کہا کہ ہر شائق کی انفرادی کلیئرنس وقت کی کمی کے سبب ممکن نہ ہوگی رسک تو لینا ہی ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایاکہ فی الحال یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بھارت سے آنے والوں کی تعداد کتنی ہوگی۔ بورڈ کو ہر اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی مجموعی گنجائش کے مطابق بھارتی شائقین کے لئے نشستیں مخصوص کرنی ہوگی تاہم ترجمان نے بتایا کہ ہر اسٹیڈیم کی کل گنجائش کا بیس فیصد بھارت سے آنے والوں کے لئے مخصوص کیا جاسکتا ہے انہوں نےبتایا کہ یہ بات بھی پیش نظر رکھنی ہوگی کہ جو لوگ بھارت سے آرہےہیں وہ صرف کرکٹ دیکھنے کے لئے آرہے ہیں یا ان کا اصل مقصد کرکٹ کے بجائے پاکستان میں اپنے رشتے داروں سے ملاقات کرنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||