کس کا پلہ بھاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکٹ سیریز کے بارے میں متعلقہ ٹیموں کی ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر پیشگوئی کرنا خطرے سے خالی نہیں، خاص طور پر کسی ایسی سیریز کے بارے میں جس میں جذبات کا اتنا عمل دخل ہو جو پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔ لیکن پاکستان اور بھارت کے معاملے میں اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ بھارت نے آخری بار پاکستان کا انیس سو ستانوے میں دورے کیا تھا اور حالیہ چار سالوں میں دونوں ٹیموں کا صرف ایک بار سامنا ہوا ہے۔
بی بی سی سپورٹس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی میں کھیلے گئے مقابلوں کو سامنے رکھ کر آئندہ ہونے والی سیریز کے دوران ممکنہ نتائج کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے۔ دونوں ٹیمیں کراچی میں اس سے پہلے تین بار ایک دوسرے کا سامنا کر چکی ہیں۔ ایک میچ مکمل نہیں ہوا تھا جبکہ ایک ایک میچ دونوں نے جیتا۔ انیس سو ستانوے کی سیریز کے دوران کراچی میں ایک روزہ میچ چار وکٹوں سے بھارت کے حق میں گیا تھا۔ شاہد آفریدی نے اس میچ میں چھپن گیندوں پر بہتر رنز بنائے تھے اور انضمام الحق نے چوہتر۔ بھارت کی طرف سے موجودہ کپتان سارو گنگولی نے نواسی رنز سکور کئے۔ کراچی میں پاکستان کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ بھارت نے راولپنڈی میں کبھی میچ نہیں کھیلا۔ پاکستان نے راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں سات میں سے پانچ میچ جیتے ہیں۔ اس سٹیڈیم میں کھیلے گئے سات میچوں کے بارے میں ایک بات اہم کہ یہاں سات میں سے چھ بار دوسری اننگز میں بیٹنگ کرنے والی ٹیمیوں کامیاب ہوئی ہیں۔ اس طرح راولپنڈی کے میچ میں ٹاس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔بی بی سی سپورٹس نے اس میچ کے لئے لندن میں فرضی ٹاس کیا جو بھارت کے حق میں گیا۔ اس طرح فی الحال اس میچ میں بھارت کی کامیابی کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ بھارت کی ٹیم نے پشاور میں کبھی ایک روزہ میچ نہیں کھیلا۔ پاکستانی ٹیم کا پشاور کے ارباب نیاز سٹیڈیم میں ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں ہے جہاں وہ آٹھ میں سے صرف چار بار جیتے ہیں۔ پاکستان کے سپِن بالر ثقلین مشتاق نے اس سٹیڈیم میں حالیہ دو میچوں میں سات سات وکٹیں حاصل کی ہیں اور ان کی کوشش ہو گی کہ کامیابیوں کا یہ سلسلہ جاری رہے ۔ اس میچ میں پاکستان کی کامیبی کی امید ہے کیونکہ ٹائی بریکر جیتنے میں اس کا ریکارڈ زیادہ بہتر ہے۔ لاہور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے تینوں میچ پاکستان نے جیتے ہیں۔ قذافی سٹیڈیم میں پاکستان کی ٹیم نے چونتیس میں سے تئیس میچ جیتے ہیں۔ ایک اور بات میزبان ٹیم کے حق میں جاتی ہے کہ نائٹ کرکٹ شروع ہونے کے بعد اس نے اِس میدان میں ہونے والے تمام چھ میچ جیتے ہیں۔ اس طرح لاہور میں کھیلا جانے والا پہلا میچ پاکستان کے حق میں جا سکتا ہے جبکہ دوسرا میچ بھارت کے حق میں کیونکہ وہ سیریز مثبت انداز میں ختم کرنے کے لئے پورا زور لگائیں گے۔ اس طرح ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کی دو کے مقابلے میں تین میچوں سے کامیابی کی امید ہے۔ پاکستانی ٹیم نے اپنے ملک میں بھارت کے خلاف اب تک پندرہ میں سے دس میچ جیتے اور تین ہارے ہیں۔ پچاس اوور کے میچوں میں بھارت کا اوسط سکور دو سو چوبیس رنز ہے جبکہ دوسری ٹیموں کی اس کے خلاف دو سو ستاسٹھ رنز کی اوسط ہے۔ اپنے ملک کے باہر بھارتی ٹیم کا ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں۔ ملک سے باہر کھیلے جانے والے ایک سو اکسٹھ میچوں میں سے وہ صرف تریسٹھ میچ جیت سکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||