| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک بھارت سیریز دکھانے کے حقوق
ٹین اسپورٹس کے چیئرمین عبدالرحمن بخاطر نے منگل کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان اور چیف ایگزیکٹیو رمیزراجہ سے اہم ملاقات کی ہے جس کے نتیجے میں ان شکوک و شبہات کا خاتمہ ہوگیا ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی تاریخی کرکٹ سیریز کے نشریاتی حقوق کے سلسلے میں گزشتہ کئی روز سے موضوع بحث بنے ہوئے تھے۔ عبدالرحمن بخاطر اس ملاقات کے لئے خاص طور پر لاہور پہنچے تھے جس میں ٹین اسپورٹس کے چیف ایگزیکٹیو کرس میکڈانلڈ اور شارجہ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹیو زاہد نورانی بھی موجود تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے بین الاقوامی میچوں کے نشریاتی حقوق کا ٹین اسپورٹس سے معاہدہ گزشتہ سال جنوری میں کیا تھا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد نئے چیئرمین شہریار خان نے سابق چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیرضیاء کے دور میں کئے گئے تمام معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ تمام موجودہ معاہدوں کی پاسداری بھی کرے گا۔ ان کے متضاد بیانات کے بعد سے ٹین اسپورٹس جو شارجہ کرکٹ کے روح رواں عبدالرحمن بخاطر کی ملکیت ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مستقبل کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں ہورہی تھیں اور مختلف حلقے یہ خیال ظاہر کررہے تھے کہ بھارت کے خلاف سیریز کی غیرمعمولی اہمیت کے پیش نظر پاکستان کرکٹ بورڈ نشریاتی حقوق کا کسی دوسرے ادارے سے جو زیادہ بڑی پیشکش کرے گا معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یا وہ ٹین اسپورٹس سے ہی رقم میں اضافے کے لئے کہے گا۔ تاہم عبدالرحمن بخاطر کی شہریار خان اور رمیزراجہ سے ملاقات کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے تمام تر شکوک وشبہات کا یہ کہہ کر خاتمہ کردیا ہے کہ پاک بھارت کرکٹ سیریز کے نشریاتی حقوق ٹین اسپورٹس کے پاس ہی ہیں اور وہ اے آر وائی کے ساتھ ان میچوں کو ٹیلی کاسٹ کرے گا۔ عبدالرحمن بخاطر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ پاکستان میں یہ میچز پاکستان ٹیلی ویژن دکھائے گا۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوران نشریاتی حقوق کے تنازعہ نے شائقین پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ نہیں دیکھ سکے تھے۔ اس سیریز میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان ٹیلی ویژن کو نظرانداز کرتے ہوئے سیریز کے نشریاتی حقوق جیو ٹی وی کو پانچ لاکھ ڈالرز میں فروخت کردیئے تھے لیکن جیو ٹی وی بین الاقوامی کرکٹ ٹیلی کاسٹ کرنے کے ضروری قواعد وضوابط پورے کرنے میں ناکام رہا اور بروقت اپ لنکنگ لائسنس حاصل نہ کرنے پر وہ پہلا ون ڈے نہیں دکھاسکا۔ یہ تنازعہ اس قدر شدت اختیار کرگیا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو اس میں مداخلت کرنا پڑی اور جیو کو پاکستان ٹیلی ویژن کے خلاف اپنی پروپیگنڈہ مہم پر معافی مانگنا پڑی تھی۔ عبدالرحمن بخاطر نے اس بات پر خوشی ظاہر کی ہے کہ پاک بھارت کرکٹ سیریز سے جو تاریخی اہمیت کی حامل ہے دونوں ملکوں کے تعلقات کو معمول پر لانے میں مدد ملے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سیریز کی وجہ سے شارجہ کے روایتی کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد ممکن نہ ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپریل کے بعد شارجہ کا موسم کرکٹ کے لئے موزوں نہیں ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قراردیا کہ مراکش میں صرف ایک ٹورنامنٹ کے بعد کرکٹ کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مراکش میں اس سال کرکٹ ٹورنامنٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاک بھارت سیریز سے قبل فروری میں شارجہ میں دونوں ملکوں کے ماضی کے اسٹار کھلاڑی ایک روزہ میچ میں ایکشن میں نظرآئیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||