ہند پاک دورہ: پاکستانی کوششیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کوشش کر رہا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کسی بد مزگی کی وجہ سے دورہ نامکمل چھوڑ کر واپس نہ جائے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے بھارتی ہم منصب سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ہونے والے دورے کے باہمی معاہدے کے اس حصے کو تبدیل کرے جس کے تحت اگر کھیل کے میدان کے علاوہ بھی ٹیم کو کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو ٹیم واپس چلی جائے گی۔ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رمیض راجہ نے کہا ہے کہ اگر بھارتی ٹیم حفاظتی صورتِ حال کی وجہ سے واپس جائے گی تو پاکستان کرکٹ بورڈ دورہ مکمل نہ کرنے کا کوئی ہرجانہ طلب نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ دورے کی منسوخی کے لیے اس طرح کی صورتِ حال کا پیدا ہونا انتہائی بد قسمتی ہو گا۔ بھارتی ٹیم دونوں ملکوں کے درمیان چودہ سال تک مسلسل جاری رہنے والی سیاسی کشیدگی کے بعد دس مارچ کو پاکستان کا دورہ شروع کرنے والی ہے۔ پاکستان میں عدم تحفظ کی صورتِ حال پر بھارتی کھلاڑیوں کی تشویش کے باعث کراچی اور پشاور میں ٹیسٹ میچوں کی بجائے صرف ایک روزہ میچ رکھے گئے ہیں۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جگ موہن داس ڈالمیا نے رمیض راجہ کے بیان پر کوئی تبصرہ کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ یہ بورڈ کی دستاویز ہے نہ کہ عام دستاویز۔ بھارت نے انیس سو ستانوے میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اس دوران کراچی کے میچ کے دوران تماشائیوں کی جانب سے پتھراؤ کی وجہ سے بھارتی کھلاڑی کھیل چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس کے علاوہ آخری ٹیسٹ کے دوران ایک تماشائی میدان میں داخل ہو گیا تھا اور اس نے بھارتی کپتان کرس سری کانت دھمکایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||