مین آف دی میچ یاسر حمید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یاسر حمید کی شاندار اٹھانوے رنز کی اننگز کی بدولت پاکستان نے پشاور کے ارباب نیاز سٹیڈیم میں کھیلا جانے والا تیسرا ایک روز میچ چار وکٹوں سے جیت لیا ہے۔ یاسر حمید کو میچ آف دی میچ قرار دیا گیا۔ یاسر صرف دو رنز کے فرق سے سینچری بنانے کے اعزاز سے محروم رہے۔ انہیں عرفان پٹھان نے آؤٹ کیا۔ انڈیا کی ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں نو کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے پر دو سو چوالیس رنز بنائے۔ جواب میں پاکستان نے مطلوبہ سکور چھ وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ عبدالرزاق نے 53 رنز بنا کر پاکستان کی فتح کو یقینی بنایا۔ وہ ناٹ آؤٹ رہے۔ وکٹ کیپر بیٹسمین معین خان نے ناقابل شکست 22 رنز بنائے۔ پاکستان کے آخری آؤٹ ہونے والے کھلاڑی انضمام الحق تھے جنہیں سچن تندولکر نے ایل بی ڈبلیو کیا۔ انہوں نے اٹھائیس رنز بنائے۔ انضمام الحق نے ٹاس جیت کر انڈیا کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔ انڈیا کی طرف سے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی سچن تندولکر تھے جنہیں شبیر احمد نے اپنے پہلے ہی اوور میں صفر کے سکور پر آؤٹ کیا۔ ان کا کیچ وکٹ کیپر معین خان نے لیا۔ شبیر نے وریندر سیہواگ کو 13 اور وی وی ایس لکشمن کو تین کے سکور پر آؤٹ کیا۔ شبیر احمد نے دس اوورز میں 33 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ انڈیا کا جب سکور 36 تھا تو اس وقت اس کے تین اچھے بیٹسمین آؤٹ ہو چکے تھے۔ اس کے بعد سورو گنگولی اور راہول ڈراوڈ نے 68 رنز کی پارٹنرشپ بنائی۔ سورور گنگولی 39 کے ذاتی سکور پر عبدالرزاق کی گیند پر وکٹ کیپر معین خان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ پانچواں آؤٹ ہونے والے کھلاڑی راہول ڈراوڈ تھے۔ انہوں نے 33 رنز بنائے اور انہیں شعیب ملک کی گیند پر معین خان نے کیچ کیا۔ انڈیا کی طرف سے یوراج سنگھ ٹاپ سکورر رہے اور انہوں نے 65 رنز بنائے۔وہ محمد سمیع کی گیند پر یوسف یوحنا کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ عبدالرزاق اور شعیب ملک نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پاکستان کے دونوں تیز بالروں شعیب اختر اور محمد سمیع نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ پاکستان کی اننگز کا آغاز بھی کوئی اچھا نہیں ہوا اوپننگ بیٹسمین شاہد آفریدی چھ رنز بنانے کے بعد عرفان پٹھان کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ اس کے فوراً بعد عرفان پٹھان کی ہی گیند پر یوسف یوحنا کو لکشمن نے کیچ آؤٹ کیا۔ یونس خان بھی 55 کے سکور پر رن آؤٹ ہو گئے۔ ان کا انفرادی سکور 18 تھا۔ پاکستان کی طرف سے چوتھے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی شعیب ملک تھے۔ وہ ظہیر خان کی گیند پر سیہواگ کے ہاتھوں سلپ میں کیچ ہوئے۔ انضمام کو تندولکر کی گیند پر ایمپائر ندیم غوری نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ دیا۔ لیکن ٹی وی کیمروں کی مدد سے ایسا نظر آ رہا تھا کہ گیند باہر جا رہی تھی۔ اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ انڈیا کھیل میں واپس آ گیا ہے لیکن معین خان اور عبدالرزاق کا تجربہ کام آ گیا اور انہوں نے عمدہ کھیل کی بدولت 48 ویں اوور میں ہی میچ کا فیصلہ کر دیا۔ انڈیا نے اپنی سائڈ میں صرف ایک تبدیلی کی ہے اور اشیش نہرا کی جگہ بائیں ہاتھ سے تیز گیند کروانے والے بیس سالہ عرفان پٹھان کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔ جبکہ پاکستان کی وہی سائڈ کھیل رہی ہے جس نے راولپنڈی میں دوسرا ایک روزہ میچ جیتا تھا۔ پاکستان: یاسر حمید، شاہد آفریدی، یوسف یوحنا، انضمام الحق (کپتان)، یونس خان، عبدالرزاق، شعیب ملک، معین خان (وکٹ کیپر)، شعیب اختر، محمد سمیع، شبیر احمد انڈیا: سورو گنگولی (کپتان)، وریندر سہواگ، راہول ڈراوڈ، وی وی ایس لکشمن، یوراج سنگھ، محمد کیف، عرفان پٹھان، ظہیر خان، لکشمی پتی بالاجی، رمیش پوار پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تیسرے ایک روزہ میچ کے لئے صوبائی دارالحکومت پشاور میں خصوصی انتظامات کیے گئے۔ اس موقع پر مقامی سطح پر عام تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اب تک دونوں ٹیموں نے ایک ایک میچ جیتا ہے۔ بھارتی کرکٹ حکام ابتدائی طور پر پشاور میں میچ کے لئے تیار نہیں تھے تاہم بعد میں پاکستان کی طرف سے سکیورٹی کے بارے میں یقین دہانی کے بعد وہ ایک روزہ میچ کھیلنے کے لئے راضی ہوگئے۔ حالیہ دورے کے آغاز پر کراچی میں کھیلے گئے میچ میں بھارت نے پاکستان کو پانچ رنز سے شکست دی تھی۔ جبکہ راولپنڈی میں ہونے والے میچ میں پاکستان نے بارہ رنز سے فتح حاصل کی تھی۔ دونوں میچوں کی خاص بات یہ تھی کہ ان میں مجموعی طور سے چھ سو سے زیادہ رنز بنے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||