پشاور میچ کا بیتابی سے انتظار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ہندوستان کے مابین کراچی اور راولپنڈی میں دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلوں اور سیریز کے برابر ہونے کے بعد اب عوام کی نظریں پشاور میں جعمہ کے روز ہونے والے تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل میچ پر لگی ہوئی ہیں۔ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم پشاور میں یہ پہلا باقاعدہ ون ڈے انٹرنیشنل میچ ہوگا-- پاکستان اور بھارت کے مابین میچ دیکھنے کےلیے پشاور کے تماشائیوں کی دیرینہ خواہش 1989 میں بھی پوری نہ ہوسکی جب کرشناما سری کانت کی قیادت میں دورہ کرنے والی بھارتی ٹیم بارش کی وجہ سے میدان میں اتر نہ سکی اور پشاور کے شہری محدود اوورز کے نمائشی میچ سے ادھورا لطف ہی اٹھا سکے۔ اس مرتبہ سکیورٹی کے خدشات کے باوجود بھارتی ٹیم پشاور میں ون ڈے میچ کھیلنے کے لئے رضامند ہوئی تو پشاوریوں کا جوش وخروش دیدنی ہے۔ انیس سو چون پچپن میں وینو من کٹ کی قیادت میں انڈین ٹیم نے پشاور میں ایک ٹیسٹ میچ میں کھیلا تھا۔ اس میچ میں پاکستان کی قیادت عبدالحفیظ کردار نے کی تھی لیکن سروسز گراونڈ پر کھیلا گیا یہ میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا تھا۔
جمعہ کے روز ہونےوالے میچ کے لئے صوبائی دارالحکومت پشاور کو خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔ شہر کے ہر چوراہے کو رنگ برنگی جھنڈیوں اور خیر مقدمی نعروں پر مشتمل بینروں سے بھارتی کھلاڑیوں اورتماشائیوں کا استقبال کرنے کی تیاریاں کی گئی ہیں- بینروں پر ’پاک بھارت دوستی زندہ باد‘ ، بھارتی کھلاڑیوں کو خوش آمدید اور پشتو میں ’پہ خیر راغلے‘ جیسے خیر مقدمی کلمات لکھے گئے ہیں۔ ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم میں چودہ ہزار آٹھ سو تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے- سٹیڈیم میں کل پانچ انکلوژر بنائے گئے ہیں- انڈیا سے آنے والے شائقین کو وی آئی پی لاؤنچ کے ساتھ والے انکلوژر میں جگہ دی گئی ہے۔ پویلین کے ساتھ بنے ہوئے میڈیا باکس میں 148 صحافیوں کی بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کے گروانڈ منیجر میر بشر خان نے کہا کہ وکٹ برطانوی ماہر اینڈی ایٹ کنسن کی نگرانی میں تیار کی گئی ہے اور یہ بہترین بیٹنگ ٹریک ہے جو بلےبازوں کے لیے جنت ثابت ہوگی- گراونڈ منیجر کا کہنا ہے کہ کراچی اور پنڈی کی طرح جو ٹیم بھی یہاں پہلے بیٹنگ کرے گی اس کے جیتنے کے زیادہ چانسز ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||