BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 March, 2004, 19:06 GMT 00:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کی ہار، کرکٹ کی جیت

News image
پرجوش تماشائیوں کے زبردست شور اور ڈھول تاشوں میں شعیب اختر کی وریندر سہواگ کو کرائی گئی پہلی گیند کے ساتھ ہی سکیورٹی کے بارے میں ضروری یا غیرضروری خوف ختم ہوگیا اور میچ کی آخری گیند پر پاکستان نہیں ہارا بلکہ کرکٹ جیت گئی۔

نیشنل سٹیڈیم کراچی پاکستان کرکٹ کی شاندار روایت کا امین رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے ون ڈے کے موقع پر کراؤڈ کے مثالی نظم و ضبط نے سرحد پار سے آئے ہوئے مہمانوں کی اس شہر کے بارے میں منفی پروپیگنڈے کے ذریعے قائم کی گئی رائے کو یقینا تبدیل کردیا ہوگا۔

پاکستان کی شکست پر برہمی دکھانے کے بجائے شائقین کا بھارتی کرکٹ ٹیم کو تالیوں کے ساتھ خراج تحسین اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظہر تھا۔ اس میچ کو دیکھنے والوں میں پاکستان کے وزیرداخلہ فیصل صالح حیات، وزیرخزانہ شوکت عزیز اور وزیراطلاعات شیخ رشید احمد بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ بھارت سے آئی ہوئی پریانکا گاندھی، ان کے شوہر اور بھائی ذرائع ابلاغ کی بھرپور توجہ کا مرکز رہے۔ پریانکا گاندھی مختلف سٹینڈز میں بھی گئیں۔

تماشائیوں کا نظم و ضبط
پاکستان کی شکست پر برہمی دکھانے کے بجائے شائقین کا بھارتی کرکٹ ٹیم کو تالیوں کے ساتھ خراج تحسین اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظہر تھا۔

سکیورٹی اور پروٹوکول سے میچ کی طرف آئیں تو اس میں بھی ایک وقار جھلک رہا تھا۔ پہلی گیند سے آخری گیند تک کرکٹ اپنے پورے عروج پر رہی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم اگر 350 رنز کا ہدف عبور کرنے میں کامیاب ہوجاتی تو یہ عالمی ریکارڈ ہوتا اس سے قبل آسٹریلیا نے گزشتہ سال پورٹ الزبتھ میں جنوبی افریقہ کے خلاف میچ سات وکٹوں پر 330 رنز بناکر جیتا تھا۔ 1995 کے شارجہ کپ میں سری لنکا کی ٹیم 333 رنز کا ہدف عبور کرنے کی کوشش میں 329 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی گویا پاکستان نے میچ جیتنے کی ناکام کوشش کا عالمی ریکارڈ ضرور اپنے نام کرلیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کی وکٹوں کی تیاری کے لئے آئی سی سی کے ماہر اینڈی ایٹکنسن کی خدمات حاصل کی ہیں جنہوں نے پہلے میچ کی جو وکٹ تیار کی اسے ون ڈے کی آئیڈیل وکٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔

پاکستانی بولرز اگر نپی تولی بولنگ کرتے تو بھارتی بیٹسمین آزادی سے سکور کرنے میں کامیاب نہ ہوتے۔ لیکن انہوں نے ایکسٹرا رنز کی بھی بھرمار کی اور لینتھ لائن کا بھی فقدان تھا۔

سچن ٹنڈولکر شعیب اختر کی گیند پر یونس خان کے ہاتھوں کیچ ہوگئے تھے لیکن وہ نوبال تھی۔ البتہ وہ اس کا زیادہ فائدہ نہ اٹھاسکے۔ البتہ صفر پر کیچ ڈراپ ہونے کا سہواگ نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے 79 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔

بھارتی بیٹسمینوں نے پاکستان اے کے اوسط درجے کے بولنگ اٹیک کے ساتھ جو سلوک کیا تھا پاکستان کے صف اول کے بولرز بھی اس سے نہ بچ سکے۔ محمد سمیع، شعیب اختر، عبدالرزاق اور رانا نوید الحسن سب ہی ان کی لپیٹ میں آئے۔

بیٹنگ وکٹ پر پاکستان کے لئے ہدف تک پہنچنے کے امکانات موجود تھے لیکن اس کے لئے چند اچھی اننگز کی ضرورت تھی جو بدقسمتی سے ابتدا میں نہ مل سکی۔ لیکن انضمام الحق نے جس طرح یوسف یوحنا اور یونس خان کے ساتھ ابتدائی نقصان کی تلافی کی اس نے کپتان گنگولی کو سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔

پہلے ون ڈے میں بولرز کی کارکردگی یقینا انضمام الحق کے لئے لمحہ فکریہ ہوگی اور وہ دوسرے میچ میں شعیب اختر اور محمد سمیع سے خصوصاً بہتر کارکردگی کی توقع کرینگے جو ان کے فرنٹ لائن بولر اور امیدوں کا مرکز ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد