’ وہاٹ اے میچ۔۔ ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں پہلے ایک روزہ میچ میں بھارت کی سنسنی خیز جیت کے فورا بعد جب سابق آسٹریلوی بیٹسمین اور کمنٹیٹر ڈین جونز نے آخری اوور پھینکے والے آشیش نہرا سے پوچھا کہ ان کے ذہن میں کیا چل رہا تھا تو انہو ں نے کہا ’مجھے لگا کہ یہ میری زندی کا اہم ترین اوور ہے‘۔ آشیش نہرا کی یہ ’لائن‘ بہت دیر تک کرکٹ کی تاریخ میں دہرائی جائے گی۔ صرف اس لئے نہیں کہ انہوں نے آخری اوور میں اپنے اوسان پر مکمل قابو رکھتے ہوئے بھارت کے لئے میچ جیت لیا بلکہ اس لئے کہ یہ میچ ہی ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ترین میچوں میں شمار ہوگا، یا چند مبصرین کے خیال میں اب تک کا سب سا ’بڑا‘ میچ بھی۔ اور پاک، بھارت سیریز کی شروعات اس سے بہتر کیا ہو سکتی تھی۔ سنسنی خیز میچ جس میں’ورلڈ ریکارڑ‘ چھ سو ترانوے رن بنے، شاندار بیٹنگ جو سیہواگ، ڈراوڈ، یوحنا اور سب سے بڑھ کر انضمام کی بدولت دیکھنے کو ملی، ہند و پاک میں ’ٹینشن‘ اور جوش کا سما (سگریٹ پینے والوں نے بھی ریکارڑ توڑ دیئے) ، تماشائیوں کا جنون (اور صبر بھی)، سٹوڈیوز اور ڈرائنگ رومز میں بیٹھے تجزیہ کاروں کا ہر بال اور ہر شاٹ پر گر سا پڑنا، اور گھروں میں ٹی وی سیٹوں کے آگے یا تو سکوت یا پھر نعرے بازی۔
’وہاٹ اے میچ‘ ۔۔ دنیا بھر کے موبائل فونز پر یہ پیغام برق رفتاری سے سفر کر رہا ہے۔ میانداد نے بھی یہی کہا۔ سری نگر فو ن کیا تو ایک ہی کمرے میں بچوں، بڑوں اور بوڑھوں سے بات ہو گئی، اور پتا چلا کہ سڑکوں پر کوئی نہیں ہے، کرفیوں کا سا سما ہے۔
میچ کی تعریف میں اور قصیدے لکھے جا سکتے ہیں، لیکن پھر کبھی۔۔۔ پاکستان نے مقابلہ زبردست کیا اور آخری اوور تک انکے جیتنے کا بڑا چانس تھا۔ (صرف چند نجومی دوستوں نے حتمی طور پر پہلے ہی کہ دیا تھا اور شہ سرخی بھی تیار کر لی تھی کہ جیت بھارت کی ہوگی) لیکن میچ ہارنے کی وجوہات؟ شاید بہت زیادہ ایکسٹراز کے باعث، یا پھر اوپنرز کی غلط حکمت عملی سے۔۔ بڑا ہدف عبور کرنے کے لئےبہت ضروری ہے کہ اوپننگ پارٹرشپ بڑی ہو۔
لیکن ان دونوں وجوہات سے بڑھ کر پاکستان کو اس وکٹ پر پہلے بیٹنگ کرنی چاہئیے تھی۔ اس طرح بولرز کو پریشر میں نہیں اترنا پڑتا، اور شائقین کو خوش کرنے کے لئے اور اس لئے کہ ’ہم بھارت کو اپنی تیز رفتار سے ڈھیر کر دینگے‘ شعیب اور سمیع اپنا ڈسپلن نہ کھو دیتے۔ پہلے بیٹنگ کرکے بڑا سکور کھڑا کرنا کراچی کی وکٹ پر آسان تھا، اس کے بعد اپنی ’بہتر، بولنگ کے زور پر اور ایک مشکل ہدف کے سامنے بھارتی بیٹنگ کو دباؤ میں ڈالا جا سکتا تھا۔۔۔ ‘ خیر، کچھ کمنٹیٹر کہتے ہیں کہ پھر شاید میچ اس قدر دلچسپ اور ’کلوز‘ نہ ہوتا۔ کیونکہ اننچاسویں اوور تک مقابلہ براربری پر تھا، بلکہ کسی حد تک پاکستان کے حق میں ہو گیا تھا۔۔۔
انہوں نے ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ نصف سنچریاں بنائی ہیں، انہتر۔ کاش وہ ان کو سنچریوں میں تبدیل کر سکتے۔ ان کی صرف آٹھ سنچریاں ہیں۔ دوسری بات، آپ کے پاس کتنے ہی ’عظیم اور تیز رفتار‘ بولر کیوں نہ ہوں ، اگر انہیں نو بالز اور وائڈز کی تمیز نہیں تو وہ ’میچ ونر‘ نہیں ’لُوزر‘ بن جاتے ہیں۔ بقول میانداد ’ایک روزہ کرکٹ میں وائڈز اور نو بالز کی کوئی جگہ نہیں ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||