پشاورمیں بھی کرکٹ بخار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان پشاور میں تیسرے ایک روزہ کرکٹ میچ کے لئے سولہ ہزار ٹکٹوں کی فروخت پیر سے شروع ہو گئی ہے۔ فروخت شروع ہوتے ہی سینکڑوں کی تعداد میں شائقین ٹکٹوں کی خریداری کے لئے جمع ہو گئے۔ شائقین کی سہولت کے لئے پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ نے دو مقامات پر یہ ٹکٹ فروخت کرنے کے انتظامات کئے ہیں۔ مہنگے ٹکٹوں کا انتظام بورڈ نے اپنے پاس رکھا اور ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم سے ملحق جمخانہ کے گراونڈ میں اسے فروخت کیا گیا۔ جبکہ سو روپے کے عام انکلوژر کے ٹکٹ ایک بنک کے ذریعے فروخت کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ جمخانہ میں تو فروخت کے آغاز کے وقت صبع کوئی خاص رش نہیں تھی۔ چند درجن شائقین جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی ٹکٹیں خریدنے کے لئے کھڑے تھے۔ لیکن کئی نوجوان پانچ پانچ ٹکٹ بھی خریدتے دیکھے گئے۔ کئی خریدار پندرہ سو کی ٹکٹ خرید کر بعد میں پشیمان بھی نظر آئے کہ اتنے مہنگے دام میں انہوں نے ٹکٹ کیوں خریدا۔ اس موقعہ پر پی سی بی کے ایک اہلکار محمد ادریس نے بتایا کہ وہ سولہ میں سے گیارہ ہزار خود اور بنکوں کے ذریعے مختلف مقامات پر فروخت کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات میں کمی آئے۔ کم شائقین کی موجودگی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے بہتر انتظام کی وجہ سے ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹکٹ انٹرنٹ پر بھی فروخت کئے جا رہے ہیں۔ انہیں یقین تھا کہ اس طوفانی میچ کے لئے لوگوں کی دلچسپی میں کوئی کمی نہیں آئی گی۔ لیکن چند شائقین ان کی پسند کے انکلوژر کے ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض بھی تھے۔ ان میں عدنان خان بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ٹکٹ حکام نے آن لائن فروخت کر دیے ہیں۔ قدرے خوشحال افراد کی خریداری کے برعکس اصل میلہ سوسو روپے کی ٹکٹوں کی فروخت والے بنکوں کے باہر میدان میں لگا تھا۔ ان میں ایک بڑی تعداد میں نوجوان تھے جو صبح سے بنک کے باہر کھڑے نظر آرہے تھے۔ بنک انتظامیہ نے بھی لوگوں کے شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی پولیس اور ٹینٹوں کا انتظام کیا ہوا تھا۔ اس لائن میں کھڑے ایک نوجوان وقاص احمد کا کہنا تھا کہ ہر کسی کی جیب تو پندرہ سو خرچ کرنے کی اجازت نہیں دیتی لہذا وہ سستے ٹکٹ کے لئے یہاں آئے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ میچ دیکھنا اتنا ضروری ہے کہ دھوپ میں کئی گھنٹے کھڑا ہوا جائے۔ تو ان کا جواب تھا کہ ہاں اگر کسی اور ملک کے ساتھ ہوتا تو شاید وہ یہ مصائب برداشت کرنے کو تیار نہ ہوتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||