پاکستانی ٹیم کا انتخاب درست؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارت کے خلاف سولہ رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا ہے جس میں انضمام الحق ( کپتان)، عمران فرحت، یاسرحمید، یوسف یوحنا، یونس خان، معین خان، مصباح الحق، شعیب ملک، شاہد آفریدی، شعیب اختر، محمد سمیع، شبیراحمد، ثقلین مشتاق،عبدالرزاق، رانا نویدالحسن اور راؤ افتخار شامل ہیں۔ انڈیا پہلے ہی اپنی ٹیم کا اعلان کر چکا ہے۔ پاکستانی ٹیم میں جہاں ایک طرف شاہد آفریدی اور ثقلین مشتاق ایک بار پھر سلیکشن کمیٹی کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں وہاں ڈومیسٹک سیزن میں غیرمعمولی کارکردگی کی بناء پر آل راؤنڈر رانا نوید الحسن کی بھی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے جبکہ تیز بولر راؤافتخار سکواڈ میں نیا اضافہ ہیں جنہوں نے اس سال ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم یہ سکواڈ صرف پہلے دو ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کے لئے ہے۔ کیا سلیکشن کمیٹی کی یہ حکمتِ عملی درست ہے؟ کیا آپ ٹیم کے اس چناؤ سے مطمئن ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں ثقلین مشتاق اور شاہد آفریدی کی واپسی ٹیم کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی؟ پاکستانی ٹیم کے لئے اہم ترین کھلاڑی کون ثابت ہوگا؟ نئے کھلاڑیوں سے آپ کی کیا توقعات ہیں؟ آپ کا ردِّ عمل۔ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ عبدالعزیز شِنواری، پشاور: شاہد آفریدی اور وسیم اکرم کے بغیر پاکستان ٹیم نہیں جیت سکتی۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: ہم تو صرف انڈیا اور پاکستان کو کرکٹ کھیلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی بھی جیتے۔ عبدالطیف خان، کوئٹہ: میں خیبر افغان کرکٹ ٹیم کا کپتان ہوں۔ میرے پاس بیس سال کا تجربہ ہے اور میں کہنا چاہتا ہوں کہ عمران نظیر کو ٹیم میں واپس آنا چاہئے کیونکہ یہ ہوم سیریز ہے۔ سلیم عزیز قریشی، سعودی عرب: ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سیریز میں کھلاڑیوں کی جانب سے کسی بھی طرح کی کوئی غیرضروری اپیل نہ ہو، اور کھیل اچھا ہو۔ خورشید احمد، مظفرگڑھ: ٹیم میں وقار یونس ضروری تھے۔ شعیب پر ریلائی کرنا بہت بڑی بیوقوفی ہے۔ سب جانتے ہیں اس کی پٹائی ہوتی ہے تو وہ بھاگ جاتا ہے۔ سعید انور کی کمی شدت سے محسوس ہوگی۔ فیصل: میرے خیال میں جو ٹیم اناؤنس کی گئی ہے وہ اچھی ہے۔ عنایت شاہ، نیویارک: اچھی ٹیم ہے لیکن اب دیکھنا ہے کہ گیارہ کھلاڑیوں میں کون ہونگے؟ میرے خیال میں اگر ثقلین اور آفریدی کو ضرور کھیلنا چاہئے۔ جنید اقبال، جرمنی: ٹیم بالکل صحیح ہے اور دونوں ٹیموں میں بہت ٹیلنٹ ہے۔ اس لئے بہت ہی اچھی سیریز ہوگی۔ ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہے۔ جاوید، صاحب آباد، پاکستان: اس ٹیم کے چناؤ پر ہم خوش ہیں۔ فرہاد گل، پاکستان: یہ ٹیم بیلینسڈ ہے۔ لیکن ہمیں وقار یونس جیسا تجربہ کار کھلاڑی چاہئے۔ اگر شعیب اختر انفِٹ ہوجائے تو ہمارے پاس تجربہ کار باؤلر نہیں ہوگا۔ محمد طحہ حیدر، لاہور: وقار یونس بہت یاد آئے گا۔ ٹیم سے باہر رکھنا سمجھ میں نہیں آتا۔ ابھی وقار کے بغیر باؤلِنگ اٹیک نامکمل ہے۔ شعیب پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ فرزانہ اشرف، ابوظہبی: میرے خیال ون ڈے کے لئے یہ کافی اچھی ٹیم ہے۔ ٹیم کو بغیر کسی دباؤ کے اپنا نیچرل گیم کھیلنا چاہئے۔ اس سیریز سے انضمام، یوحنا، شیعب اختر اور عبدالرزاق کا پرفورمنس ثابت ہوجائےگا۔ خلیل چودھری، میلبورن: میرے خیال میں وقار یونس کی ٹیم میں شدید ضرورت ہے۔ رزاق اور معین خان اہم کردار ادا کرینگے۔ محمد عامر خان، کراچی: شاہد آفریدی کی ٹیم میں ضرورت نہیں تھی کیونکہ پچھلی سیریز میں ہمارے اوپینرس نے اچھا اسٹارٹ دیا تھا جبکہ ثقلین کو لاکر ایک بڑا رِسک لیا گیا ہے۔ بیٹِنگ میں ہم یاسر حمید کو نظر انداز کررہے ہیں۔ میرا خیال ہے یاسر پاکستان ٹیم کے لئے سیریز کے پلیئر ہونگے۔ اگر انضمام اور یوحنا نے اچھا پرفروم کیا تو پاکستان سیریز جیت نہ بھی سکتا ہو برابر ضرور کردےگا۔ کاشف شیخ، وینکوئیر: اگرچہ انڈیا کی بیٹِنگ پاکستان سے اچھی ہے، مگر پاکستان کی ٹیم زیادہ بیلنسڈ ہے۔ مصباح الحق کی جگہ عمران نظیر کو چانس ملے تو اچھا ہوگا۔ محمود احمد، پاکستان: ثقلین مشتاق کی کارکردگی حالیہ دنوں میں معیاری نہیں ہے۔ اسلئے اسے ونڈے کے بجائے ٹیسٹ میں موقع دینا چاہئے تھا۔ پاکستان کے لئے اس سیریز میں اہم کھلاڑی شعیب اور یوحنا ہوسکتے ہیں۔ وقار انجم، امریکہ: جی ہاں یہ بہترین ٹیم ہے لیکن اسے وقار یونس کی ضرورت ہے۔ شان ملک، لاہور کینٹ: میرے خیال میں یونس خان کے علاوہ تمام ٹیم کا نتخاب ٹھیک ہے۔ یونس خان میں ٹیلنٹ کی کمی ہے اور یوں لگتا ہے کہ انہوں نے سلیکشن میں کوئی بڑی سفارش لڑائی ہے۔ ورنہ وہ قومی ٹیم کے کھلاڑی نہیں ہیں۔ حسن رضا بہتر کھلاڑی ہیں لیکن ان کے پاس شاید کوئی سفارش نہیں تھی۔ جاپانی سپیشل: ٹیم ٹھیک ہے۔۔۔اور کیا عالم ارواح سے کھلاڑی منگوانے تھے۔۔۔؟ یہی لوگ تھے اور انہی نے کھیلنا ہے۔ محمد سلیم، کویت: ہمیں خدا پر یقین ہے اور ہمیں جیتیں گے۔ محمد یاسین، راچی: میں اس سلیکشن سے مطمعن نہیں ہوں۔ رحمٰن خان، پشاور: ٹیم میں توازن ہے لیکن عمران نذیر کو ضرور کھیلانا چاہئے تھا کیونکہ وہ اچھے بلےباز اور فیلڈر ہیں۔ امید ہے کہ شاہد آفریدی اس بار قوم کو مایوس نہیں کریں گے اور غالباً وہی مین آف دی سیریز ہوں گے۔ جاوید خان، ٹورانٹو: ٹیم بظاہر ٹھیک دکھائی دیتی ہے لیکن مجھے شاہد آفریدی کی سلیکشن پر حیرانگی ہے کیونکہ انہیں بارہا آزمایا گیا ہے اور وہ ہمیشہ ناکام ہوئے ہیں۔ حسن باجوہ، رحیم یار خان: پاکستانی ٹیم میں وقار یونس اور عمران نذیر کی کمی محسوس ہو گی۔ طیب محمد، پشاور: عمران نذیر کو ٹیم میں شامل کیا جانا چاہئے تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستانی صرف یہی نہ کہیں کہ جیت ہماری ہو گی کیونکہ کرکٹ ایک کھیل ہے اور اس میں کوئی بھی ٹیم جیت سکتی ہے۔ فرید اللہ الکوزئی، دبئی: میرے خیال میں ٹیم کا انتخاب صحیح طریقے سے نہیں ہوا ہے۔ سنجے ٹھاکر، انڈیا: میرے خیال میں پاکستان کی خوش گمانی بلاجواز نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی تعمیر نو کا مرحلہ مکمل کرنے کے بعد یہ چاہ رہا ہے کہ اپنی افادیت ثابت کر سکے۔ جبکہ حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کے بڑے حریف بھارت کو بالادستی رہی ہے۔ پاکستان کی مثبت نظری کی دوسری وجہ وی بی سیریز میں بھارت کی غیرمعیاری کارکردگی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی فتح سے اسے قومی سطح پر فخر کرنے کا موقع ملے گا خاص طور پر ایسے وقت میں کہ جب جوہری پھیلاؤ اور دہشت گردی کے تناظر میں پاکستان کا نام لیا جاتا رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ پاکستان کو کامیابی حاصل ہو لیکن میری روح اور میرا دل بھارت کا طرفدار ہے اور اگر مجھے پیسے لگانے ہوئے تو بھارت کی جیت پر لگاؤں گا۔
الیاس بنگش، ٹورانٹو: سٹے بازوں سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ عمران سولنگی، صادق آباد: میرے خیال میں عمران نذیر کو یونس خان کی جگہ کھیلنا چاہئے تھا۔ باقی ٹیم ٹھیک ہے۔ عمران جاس، میانوالی: ثقلین مشتاق بھارتی بلے بازوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اس لیے ان کا فائدہ ہو گا۔ شاہد آفریدی آسمان کی طرف گیند نہ پھینکیں تو اچھا سکور ضرور بن سکتا ہے۔ سہیل کوندھار، پاکستان: پاکستانی ٹیم میں وقار یونس کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے۔ امید ہے کہ پاکستان سیریم جیت جائے گا۔ قمر سید، سویڈن: شعیب کو ہیرو بنانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ میچ وننگ بولر نہیں ہیں۔ ان کے مقابلے میں سمیع بہت بہتر ہیں۔ اسی طرح شاہد آفریدی کا سلیکشن بھی غیر ضروری ہے، وہ ایک بوجھ ہیں۔ آفتاب احمد خسکھیلی، بدین: میرے خیال میں پاکستانی ٹیم بھارتی ٹیم کے مقابلے میں مضبوط ہے۔ خرم احمد، ایریزونا: ہمارے پاس سعید انور جیسے عظیم اوپننگ بیٹسمین نہیں ہیں۔ اگر کارل ہوپر کو ٹیم میں دوبارہ بلایا جا سکتا ہے تو ہم سعید انور کو ٹیم میں شامل کیوں نہیں کر سکتے؟ شیراز علی طور، سرگودھا: میں پاکستانی ٹیم کے انتخاب سے مطمعن ہوں۔ فہیم عثمانی، یو اے ای: اگر پاکستان شراجہ میں کھیلی گئی گزشتہ سیریز جیسے کارکردگی پیش کرتا ہے تو سیریز جیت جائے گا۔ قیصر، بیجنگ: میرے خیال میں عامر نذیر کو موقع ملنا چاہئے تھا۔ ثقلین کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔ سلیم حسین، نارتھ ناظم آباد: پاکستان کو چاہئے کہ اگر وہ ٹاس جیتے تو پہلے بیٹنگ کرے اور کم از کم دو سو نوے رن کا ٹارگٹ ضرور دے۔ سرمد میر، پاکستان: اظہر محمود کو ضرور کھیلنا چاہئے۔ وہ بِگ ہٹر ہیں اور عمدہ بولر بھی ہیں۔ شاہد مراد، نوشہرہ: پاکستانی ٹیم خاصی اچھی ہے۔ شاہ رخ عبدالباری، دبئی: پاکستان کو مثبت سوچ کے ساتھ تیز وکٹیں تیار کرنی چاہئیں کیونکہ اس کے پاس شعیب جیسا میچ وننگ بولر موجود ہے۔ تاہم شاہد آفریدی اور ثقلین کو ثابت کرنا ہو گا کہ ان کا انتخاب کیا جانا درست فیصلہ تھا۔ علی سجاد شیخ، برطانیہ: پاکستان کو بیٹنگ پر توجہ دینی ہو گی کیونکہ اس حوالے سے بھارت کے ساتھ مقابلہ خاصا سخت ہے۔ پاکستان کو عمدہ اوپننگ پارٹنرشپس کی ضرورت ہو گی۔ آصف منہاس، ٹورانٹو: میری رائے میں وقار یونس کو ٹیم میں ضرور شامل کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ شعیب اگر ان فٹ ہو جاتے ہیں تو وقار ہی ٹیم کی اہم ضرورت ہیں۔ وقار ویسے بھی انتہائی تجربہ کار بولر ہیں۔ نامعلوم: میرے خیال میں دونوں کھلاڑیوں کا ٹیم میں شامل کیا جانا اچھا فیصلہ نہیں ہے کیونکہ اگر وہ فارم میں تھے تو ٹیم سے باہر کیوں تھے؟ محمد آفاق، بریڈ فورڈ: ٹیم بہت اچھی ہے بس وسیم بھائی نہیں ہیں۔ البتہ ثقلین اور آفریدی سے امید برقرار ہے اور پھر شعیب بھی محنت کر رہے ہیں۔ پاکستان کو مڈل آرڈر بیٹنگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ قمر الٰہی، کینیڈا: میرے خیال میں موجودہ کھلاڑیوں میں سے کیا گیا انتخاب بالکل درست ہے۔ تاہم کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ یہ نوجوان کھلاڑی میچوں میں دباؤ کے وقت کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ حیدر علی، پاکستان: پاکستان کی ٹیم میں آفریدی کا شامل ہونا اچھا تھا۔ اگر عمران نذیر کو بھی شامل کیا جاتا تو بہت بہتر ہوتا۔ تاہم موجودہ ٹیم بھی اچھی ہے۔ علی شاہ، ٹورانٹو: میرے خیال میں وقار کو ٹیم میں شامل کیاجانا چاہئے تھا۔ آفریدی کا ٹیم میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ شکیل خان، کوہاٹ: میرے خیال میں راشد لطیف کو بھی پاکستانی ٹیم میں ہونا چاہئے تھا۔ بلال احمد کہلون، سانگلہ ہلز: ہم تو صرف اسی وقت مطمعن ہو سکتے ہیں جب پاکستان جیتے گا۔ محمد حیدر اورکزئی، کوہاٹ: پاکستان کو بہت احتیاط سے کھیلنا ہوگا کیونکہ ان کی دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک کا سامنا ہے۔ آفریدی اور ثقلین کوئی خاص فرق نہیں ڈال سکتے تاہم دونوں ٹیموں میں فرق شعیب ہی ڈال سکتے ہیں۔ شاہین خان، قطر: افریدی اور ثقلین کو واپس لانے سے ٹیم مصبوط ہو گئی ہے۔ رابعہ احمد، دوبئی: ٹیم کی سلیکشن میں وقار یونس کی کمی ہے۔ شعیب اور سمی پر وقار کے بغیر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ شعیب ابھی میچ وننگ باؤلر نہیں ہیں اور نہ ہی یہ گارنٹی ہے کہ وہ دوسرے میچ میں فٹ رہیں گے۔ محمد نذیر، کراچی: موجودہ ٹیم بہترین ہے۔ عدنان ملک، سپین: اچھی ٹیم ہے، انشاءاللہ پاکستان کی فتح ہوگی، بس وسیم اکرم کی کمی ہے وہ بھی ہوتے تو اچھا ہوتا۔ محمد علی اصغر، ڈیرہ اسماعیل خان: مجھے ٹیم کے چناؤ سے مکمل اتفاق ہے۔ محمد تزئین پاشا، بحرین: پاکستان کے پاس بہترین ٹیم ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیم میں انتشار نہ ہو اور سب مل کر پاکستان کے لئے کھیلیں۔ دوسرا مصباح الحق کی سلیکشن حیران کن ہے اور شاہد آفریدی کو موقعہ دینا سلیکشن کمیٹی کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ ملک مومن، گجرات: مجھے چناؤ سے مکل اتفاق ہے۔ محمد حنیف منہاس، کویت: میرے خیال میں انہیں عمران نذیر کو ہر صورت میں شامل کرنا چاہئے۔
محمد اشرف اسحاق، ابوظہبی: ایک روزہ کے لئے بہترین ٹیم ہے۔ اس میں اچھے آل راؤنڈر ہیں جیسے کہ شعیب ملک، شاہد آفریدی، عبدالرزاق۔ معین بھی بہت تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔ تاہم فیصلہ کن کارکردگی انضمام، یوحنا اور شعیب اختر کی ہی ہوگی۔ مبشر ملک، مونٹریال: یونس خان کی جگہ عمران نذیر کو موقعہ دینا چاہئے تھا اور راؤ افتخار کی جگہ وقار یونس کو۔ ثقلین مشتاق کی جگہ نہیں بنتی ان سے بہتر شعیب ملک ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||