BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2004, 16:13 GMT 21:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی ٹیم پاکستان میں: آپ کی رائے
شائقین کو سچن اور شعیب کا بےصبری سے انتظار
شائقین کو سچن اور شعیب کا بےصبری سے انتظار
پاکستان میں ہونے والی پاک بھارت کرکٹ سیریز بھارتی حکام کی طرف سے پیش کیے جانیوالے حفاظتی خدشات کے پیش نظر ملتوی ہو سکتی ہے۔ بھارت کے جونیئر وزیر داخلہ سوامی چنمئے آنند نے بی بی سی ہندی سروس کو بتایا کہ پاکستان میں بھارتی کھلاڑیوں کی سلامتی کی ضمانت ابھی نہیں دی جا سکتی، اس لئے وہ مجوزہ دورے کے بارے میں از سر نو سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورے کی منسوخی کی اطلاعات محض قیاس آرائی ہے۔ پاکستانی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ بھارتی ٹیم نہیں آئی تو پاکستان ہرجانے کے لئے آئی سی سی سے رجوع کرے گا۔

آپ کے خیال میں کیا بھارتی کرکٹ ٹیم کو پاکستان جانا چاہئے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


منیر حسین، اسلام آباد: میرے خیال میں یہ صرف ایک نفسیاتی حربہ ہے جو انڈیا پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ دورہ ضرور ہوگا تاہم ہوسکتا ہے کہ جو بھارتی چینلز اپنے کھلاڑیوں کو دیوتا بنا کر پیش کرتے ہیں براڈ کاسٹنگ کے حقوق نہ ملنے پر سازش کر رہے ہوں۔

ذیشان قریشی، ملتان: پاکستان کو کھیل میں سب سے پہلے اپنے وقار کا خیال رکھنا چاہئے تھا کیونکہ جب ہماری ٹیم انڈیا گئی تھی تو ہم نے تو سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں اٹھایا تھا۔

محمود صادق، کراچی: بھارتی اہلکار پاکستانی کرکٹ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اس لئے وہ نہ آنے کا بہانہ تللاش کر رہے ہیں۔

عمران خواجہ، پشاور: ہاں، انہیں پاکستان آنا چاہئے کیوں کہ سیاست اور کھیل دو علیحدہ چیزیں ہیں اور ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔

عاصم علی خان، پاکستان: بھرتی ٹیم کو پاکستان میں کوئی خدشہ نہیں ہے کیونکہ اسے پہلے ہی صدارتی سطح پر سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے اور بھارتی میڈیا ہر چیز کو دس گنا بڑھا کر پیش کرتا ہے۔

سردار خان، دوبئی: پاکستان کے عوام بھارتی کرکٹروں کو اعلیٰ مقام دیں گے۔ بالک چھوٹے بچے بھی تمام بھارتی کھلاڑیوں کو جانتے ہیں۔ اس سیریز سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہونگے۔

یاسمین علی، امریکہ: اگر صدر مملکت محفوظ نہیں، اگر صدر مملکت کو یہ نہیں معلوم کی خان لیبارٹری میں کیا ہورہا ہے، تو دوسروں کی زندگی کی ضمانت کون دے گا؟ اگر صدر مملکت دہشت گردوں کے خوف سے خود کو چھپارہے ہیں، تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے؟

فیصل تقی، کراچی: کرکٹ سے اس قدر لگاؤ تو نہیں لیکن پھر بھی کہوں گا کہ اگر یہ دورہ تاخیر کے ساتھ ہی صحیح، دوستانہ ماحول میں منقعد ہوجائے تو کیا مضائقہ ہے؟ ہمیں ہندوستانی کھلاڑیوں کے خدشات کو اہمیت دینی چاہئے۔

پرتاپ، ٹورانٹو: بھارتی سیاست میں سب بزدل لوگ ہیں۔ اگر موت کا اتنا ہی خوف ہے تو پھر ٹینک کے اندر بیٹھ کر کرکٹ کھیلیں۔ جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے اس نے سب کے دل میں پاکستان کا خوف ڈال دیا ہے۔

شعیب شوبی، پاکستان: سیکیورٹی ایک مسئلہ تھا، لیکن انڈیا میں میڈیا نے اس کو اتنا بڑا مسئلہ بنادیا ہے جتنا یہ ہے نہیں۔

نور حبیب، پشاور: مجھے نہیں لگتا کہ انڈیا کی ٹیم کو پاکستان میں سیکیورٹی کا کوئی خدشہ ہے۔

عثمان سید، کراچی: پاکستان کے تماشائی یقینی طور پر کلکتہ اور فیروز شاہ کوٹلہ جیسے واقعات نہیں ہونے دیں گے۔ انڈیا کی حکومت اور کرکٹ بورڈ کو پہلے اپنے ملک میں ہونے والے واقعات کا خیال کرنا چاہئے۔

امین ستار، کینیڈا: انڈیا کو پاکستان ضرور آنا چاہئے، ہار یا جیت گیم کا حصہ ہے۔ اس کو سیاست میں گھسیٹنا نہیں چاہئے۔ پاکستانی ٹیم بھی تو کئی بار انڈیا کا دورہ کرچکی ہے۔ تو پھر انڈیا کو کیا پریشانی ہے پاکستان آنے میں؟

انیس احمد، کراچی: انڈیا کو پاکستان آکر یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ بہادر، عظیم اور ایک جمہوری قوم ہیں۔

شفیق اعوان، لاہور: انڈیا کو پاکستان ضرور آنا چاہئے لیکن پاکستانی ذرا جذباتی ہیں لیکن انہیں معلوم ہے کہ اپنے مہمانوں کے ساتھ کیا رویہ اپنانا چاہئے۔ کھیل کو سیاست سے دور رکھا جائے۔

مسرور علی، کراچی: اگر بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کسی مسئلہ کے بغیر پاکستان میں کرکٹ کھیل سکتے ہیں تو انڈیا کو کیا پرابلم ہے؟ نیوکلیئر ایشو اور کرکٹ دونوں مختلف چیزیں ہیں۔

احمد سعید، کویت: انڈیا کو پاکستان کا دورہ ضرور کرنا چاہئے اور پاکستان کو بھی تیار رہنا چاہئے۔ انڈیا اتنی جلدی ہار نہیں مانیں گے، وہ پوری تیاری کرکے آئیں گے۔

واجد علی، ٹورانٹو: مجھے یقین ہے کہ انڈیا کی ٹیم پاکستان نہیں جائے گی کیونکہ حقیقت میں وہ پاکستان کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں۔

عامر خان، کراچی: پوری دنیا اس سیریز کا انتظار کررہی ہے۔ اگر بالی ووڈ کے اداکار پاکستان آسکتے ہیں، تو کرکٹ کی ٹیم کیوں نہیں؟

سید فراز، ابوظہبی: یہ سب کچھ سیاست کی وجہ سے ہورہا ہے۔ اگر انڈیا کی ٹیم نہیں آتی ہے تو وقت آگیا ہے کہ پاکستان کچھ بڑے فیصلے کرے۔

عبدالحلیم، جرمنی: اگر واجپئی صاحب خیریت سے واپس ہندوستان پہنچ گئے تو کرکٹ کے کھلاڑیوں کو نہیں ڈرنا چاہئے۔

عرفان فاروق، پاکستان: اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ انڈیا میں پاکستان کی نسبت سیکیورٹی کے خدشات زیادہ رہے ہیں۔ انڈین تماشائیوں نے تو اسٹیڈیم میں آگ بھی لگائی ہے۔

اشرف محمد، کینیڈا: آئی سی سی کو مداخلت کرنی چاہئے اور پاکستان میں سیکیورٹی کے حالات کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہئے۔ آئی سی سی کا فیصلہ ماننا چاہئے۔

الیاس بنگش، ٹورانٹو: انڈین کرکٹ ٹیم کو پاکستان نہیں آنا چاہئے کیونکہ پاکستان کی جو رہی صحیح عزت بچی ہے۔۔۔۔

فاتح اللہ، شارجہ: انڈین ٹیم کو پاکستان دورے پر ضرور جانا چاہئے کیونکہ یہ دونوں ملکوں کے عوام کی خواہیش ہے، سیکیورٹی کا مسئل کچھ مفاد پرست اٹھا رہے ہیں۔

مرزا عاصم محمود، گجرات: پاکستانی قوم مہمان نواز ہے۔ اگر ہم بھارت کی پریوں کو، جیسے ارملا، شلپا، پوجا وغیرہ، آنکھوں پر بیٹھا سکتے ہیں تو کرکٹ کے جنات سے کیوں خوفزدہ ہوں گے۔

صابر چوہدری، دبئی: انہیں بلاشبہ پاکستان آنا ہے۔ وہ لوگ بہت نادان ہیں جو دورے کی منسوخیکی باتیں کر رہے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں لوگ اس سیریز ککے منتظر ہیں۔

خلیل بٹ، کینیڈا: پتہ نہیں بھارت پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے کیوں گھبراتا ہے۔ پہلے اس نے پاکستانی امپائروں پر الزام لگانے شروع کئے اور پھر شارجہ اور کینیڈا میں میچ بھی کھیلے۔

شہزاد آزاد، قطر: بھارتی ٹیم کو پاکستان کا دورہ کرنا چاہئے۔

امتل، برطانیہ: ضرور جانا چاہئے۔

مسعود اعوان، اسلام آباد: جی ہاں کیوں نہیں، بھارت کو اچھے تعلقات اور امن کے فروغ کے لئے پاکستان آ کر سیریز کھیلنی چاہئے۔

عبدالرؤف، چکوال: بھارتی ٹیم کو پاکستان کے دورے پر آنا چاہئے۔

شاہد عالم، ناروے: جی ہاں، ضرور جانا چاہئے۔

رضوان احمد نصاری، سعودی عرب: ہاں، بھارت کو پاکستان ضرور جانا چاہئے۔

علی ممتاز: مجھے بھارتی ٹیم چاہئے۔

فیصل مجید، گوجرانوالہ: میرے خیال میں بھارتی ٹیم کے لئے پاکستان میں سیکیورٹی کے عمدہ انتظاات کئے گئے ہیں اور بھارتی کھلاڑی پوری طرح محفوظ ہیں۔

محمد ذیشان، لاہور: انڈیا کو پاکستان میں ضرور آنا چاہئے۔ ہم اپنے بھائیوں کی حفاظت کریں گے اور اپنی جان پر کھیل کر ان کا تحفظ کریں گے۔

جاپانی سپیشل، جاپان: آتی ہے تو آئے، نہیں آتی تو جہنم میں جائے۔

اکیلا پردیسی، امریکہ: اصل بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان تو اپنے عوام کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتی ایسی صورت میں بھارت کی ٹیم کیونکر محفوظ محسوس کر سکتی ہے۔

بابر مصطفٰی، متحدہ عرب امارات: بھارت کو کھیل اور سیاست میں فرق برقرار رکھنا چاہئے۔ بھارت پہلے کرکٹ کی بات کرتا ہے پھر اسے مکر جانے کی عادت سے ہو گئی ہے۔ مجھے سیریز کے انعقاد سے بہت خوشی تھی اور میں نے کیبل کنیکشن بھی لے لیا تھا لیکن اب تازہ صورت حال دیکھ کر دل ڈوبا جا رہا ہے۔ خدا ان لوگوں کو عقل دے۔ بھارتیوں کو پاکستان میں بہت پیار ملے گا اور سیکیورٹی کا معاملہ اس قدر بڑا مسئلہ نہیں ہے، بات شاید کچھ اور ہی ہے۔

عارف، لاہور: اگر ارمیلا، پوجا اور دیگر اداکار اور سیاستدان پاکستان آ سکتے ہیں تو بھارتی ٹیم کیوں نہیں آ سکتی؟ ہمیں بھارتی ٹیم کا شدت سے انتظار ہے۔ اصل میں یہ ب سیاست کے ہتھکنڈے ہیں اس لئے اب بھارتی ٹیم کو پاکستان آ ہی جانا چاہئے۔

فیصل قادری، کلفٹن: میرا بھارتی کپتان کو یہ مشورہ ہے کہ وہ پاکستان جانے سے خوفزدہ نہ ہوں کیونکہ ان کے پاس اب بہت اچھے بلےباز موجود ہیں اور اب شاید پہلے کی طرح میچ ہیں ہاریں گے۔

فہد کاظمی، چین: بھارت، پاکستانی ٹیم اور یہاں کے شائقین سے خائف ہے اس لئے وہ پاکستان آ کر ایک ارب لوگوں کے سامنے شرمندگی نہیں اٹھانا چاہتا۔

شاہد مجید بٹ، سعودی عرب: بھارتی ٹیم کو پاکستان جانا چاہئے۔ اس سے کرکٹ پر اچھا اثر پڑے گا۔ میرے خیال میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے لئے سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔

خالد عمر منظور، سعودی عرب: بھارتی ٹیم ٹال مٹول اس لئے کر رہی ہے کیونکہ ایک تو وہ آسٹریلیا سے دونوں فائنل ہاری ہے جس کی وجہ سے اس پر دباؤ ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وجہ پاکستان کے فاسٹ بولروں کے آگے ٹِک نہیں پائے گی۔

مسعود قریشی، میرپور: بھارتی ٹیم کو پاکستان میں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کی سیکیورٹی سب سے مضبوط ہے۔

ثاقب پاشا پٹولی، پاکستان: بھارتی ٹیم کو پاکستان کا دورہ کرنا چاہئے کیونکہ کھیلوں سے دوستی بڑھتی ہے۔

محمد انور کھوکھر، کویت: آخر یہ بھارتی پاکستانیوں سے خوفزدہ کیوں ہیں۔ میرے خیال میں حکومت آئنہ انتخابات کے باعث پس و پیش کر رہی ہے۔

ظہیر احمد،کویت: بھارتی ٹیم کو سو فیصدی پاکستان کادورہ کرنا چاہئے تاکہ کرکٹ کو فروغ ملے اور سیریز وقت پر شروع ہو سکے۔

خانم سومرو، کراچی: ایک یہ دورہ منسوخ ہو گیا تو شائقین کو بہت مایوسی ہوگی۔ کھیل اور سیاست کو الگ الگ رکھنا چاہئے اور بھارتی ٹیم کو پاکستان میں کھیلنے سے ڈرنا نہیں چاہئے کیونکہ بھارت میں کراچی اور پشاور سے زیادہ خطرناک شہر تھے جب پاکستان نے بھارت میں میچ کھیلے تھے۔

نامعلوم: بھارت کو پاکستان ضرور آنا چاہئے کیونکہ اس سے دونوں ممالک کی دوستی میں اضافہ ہو گا۔

حفیظ مغل، ایبٹ آباد: بھارت کو پاکستان کا دورہ کرنا چاہئے کیونکہ پاکستان کے لوگ بہت اچھے ہیں۔

سید ابرار شاہ: میرے خیال میں جو بھی کرکٹ کا شوقین ہے وہ یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ بھارت پاکستان نہ آئے۔

سیار احمد، محمند ایجنسی: بھارتی ٹیم کو پاکستان ضرور آنا چاہئے اور پاکستان کی ٹیم اسے شکست فاش دے گی۔

جاوید اختر، اسلام آباد: کھیل، کھیل ہوتا ہے جنگ نہیں ہوتی۔

سردار طیب، مونٹریال: بھارتی حکومت کو چاہئِ کہ وہ کھیل کو سیاست سے دور رکھے۔ بھارتی حکومت خوفزدہ ہے کہ اگر اس کی ٹیم پاکستان میں ہار جاتی ہے تو وہاں منعقد ہونے والے آئندہ انتخابات پر برا اثر پڑے گا۔

نذیر کپدی، کویت: بھارت کی کرکٹ ٹیم پاکستان جا کر کھیلے گی۔

عبدالمتین، سعودی عرب: جی ہاں بھارت ٹیم کو پاکستان جانا چاہئے۔

زرتاشیہ فیصل، یو اے ای: جی بالکل۔ انڈیا کو پاکستان آنا چاہئے۔ اگر کھلاڑیوں کی سلامتی کا مسئلہ ہے تو جنہوں نے انہیں مارنا ہے، وہ انڈیا میں بھی نہیں چھوڑنے والے۔ موت تو آنی ہی ہے، چاہے آپ سو فُٹ نیچے زمین میں چھپ جائیں۔ میرے خیال میں انڈیا کو صرف سیاست کا خوف ہے، اور کچھ بھی نہیں ہے۔

عبدالحادی، کرغزستان: اگر حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو جس طرح انڈیا میں شِو سینا کا پِچ اکھاڑنے یا بھارتی تماش بینوں کا ٹیم کی ہار کی صورت میں اسٹیڈیم میں آگ لگانے جیسے واقعات پاکستان میں کبھی نہیں ہوئے۔

شاہدہ اکرم، یواے ای: انڈیا کرکٹ ٹیم کو بالکل پاکستان جانا چاہئے۔ بہت عرصے کے بعد تو یہ وقت آرہا ہے۔ اللہ کرے کہ یہ ٹائم خیر و خیریت سے آئے اور سب کچھ ٹھیک بھی رہے۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد