BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 February, 2004, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیصلہ بھارتی کرکٹ بورڈ کریگا

کپتان سارو گنگولی
کپتان سارو گنگولی نے سلامتی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا
بھارتی کرکٹ ٹیم کے مجوزہ دورہ پاکستان کے دوران سہولتوں اور خاص کر سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے پاکستان آئے ہوئے بھارتی وفد نے یہ واضح کردیا ہے کہ دورے کے بارے میں حتمی فیصلہ بھارتی کرکٹ بورڈ ان کی رپورٹ ملنے کے بعد کرے گا۔

اس تین رکنی وفد نے جس میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے جوائنٹ سیکرٹری رتناکر سیٹھی ، ڈائریکٹر کمیونیکیشن امرت ماتھر اور آئی جی پولیس یشوردھن آزاد شامل ہیں پاکستان میں کرکٹ کے مراکز کا دورہ کر رہے ہیں جہاں بھارتی کرکٹ ٹیم اپنے میچ کھیلے گی۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے جوائنٹ سیکریٹری رتناکر سیٹھی نے نیشنل سٹیڈیم میں صحافیوں سے مختصر گفتگو میں اس بات کی وضاحت کی کہ انہوں نے سکیورٹی پر اطمینان کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ، یہ معاملہ یشوردھن آزاد دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفد کے دیگر دو ارکان ٹیم اور میڈیا کو دی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

پندرہ فروری کو وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ حتمی میٹنگ کے بعد وطن جاکر اپنی رپورٹ بھارتی کرکٹ بورڈ کو پیش کرنے والے ہیں۔

سیٹھی نے بھارتی اخباری اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا جن میں بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے بھارتی کرکٹ بورڈ کو دورہ مختصر کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔

دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ کی ورکنگ کمیٹی نے دورے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار صدر جگ موہن ڈالمیا کو سونپ دیا ہے۔

راولپنڈی اور پشاور کے بعد وفد نے جمعرات کو کراچی میں مصروف دن گزارا۔ اس نے رینجرز کے صدر دفتر میں بریفنگ میں شرکت کی جس میں اسے رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی کے لئے وہ انتظامات کئےگئے ہیں جو عام طور پر وی آئی پی شخصیات کے لئے مخصوص ہوتے ہیں۔

میچ کے دوران نیشنل سٹیڈیم اور اس کے قریب پولیس اور رینجرزکے چھ سو جوان تعینات کئے جائیں گے جبکہ ہوٹل اور سٹیڈیم کے راستے میں بھی سخت سکیورٹی ہوگی۔

وفد کو ٹیم کے ہوٹل اور اسٹیڈیم کے راستے میں کی جانے والی سکیورٹی کی ریہرسل بھی کرکے دکھائی گئی۔ وفد نے ٹیم ہوٹل میں کھلاڑیوں کے ممکنہ کمروں کا بھی جائزہ لیا اور ہوٹل کی پارکنگ کا بھی معائنہ کیا۔

واضح رہے کہ اسی ہوٹل کے باہر خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں فرانسیسی انجینئرز ہلاک ہوئے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا تھا جب نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم ہوٹل سے سٹیڈیم کے لئے روانہ ہونے والی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد