کرکٹ کےٹھیکے، مشکوک انداز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سات فروری کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی سیریز سے متعلق مختلف شعبوں کے لیے ٹینڈر طلب کیے جانے والی ٹینڈر موصول کیے تاہم پہلے سے کیے گئے اعلان کے مطابق کھولے نہیں۔ نو شعبوں سے تعلق رکھنے والی ان ٹینڈروں کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ وصولی کے دن ہی ٹینڈر بھرنے والوں کے سامنے ہی کھولے جائیں گے۔ تقریبا نو اقسام کے حقوق میں ٹائٹل سپانسرشپ، کو ٹائٹل سپانسر شپ، ریڈیو پر نشریات کے حقوق، انٹر نیٹ اور دیگر تکنیکی شعبے، سٹیدیم کے اندر ہورڈنگز، مہمان داری کے باکسز، ایونٹ مینجمنٹ، خوراک اور مشروبات مہیا کرنا اور ٹکٹوں کی فروخت شامل ہیں۔ یاد رہے کہ پاک بھارت کرکٹ سیریز کی ٹی وی نشر یات کے حقوق کا معاہدہ سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاء کے دور میں دبئی کے ایک ٹی وی چینل ٹین سپورٹس کے ساتھ ہو چکا ہے۔ ان حقوق کو حاصل کرنےکے لیے آغاز میں دنیا بھر سے تیئس کمپنیوں نے پیشکشیں کی تھیں تاہم سات فروری بروز ہفتہ بارہ کمپنیوں نے اپنے ٹینڈر پی سی بی کو پیش کیے تاہم ان میں دو کمپنیوں نے پی سی بی کے مقرر کردہ آزاد آڈیٹر کے سامنے صبح دس بجے کی ڈیڈ لائن گزرنے کے چند منٹ بعد اپنے ٹینڈر پیش کیے جنہیں منظور کر لیا گيا جس پر دیگر کمپنیوں کے نمائندوں نے احتجاج کیا۔ بعد ازاں پی سی بی کے چیئرمین شہر یار خان نے کہا کہ ہم نے انہیں اس لیے منظور کیا کہ تاخیر سے آنے والی کمپنیوں نے تاخیر کی معقول وجہ بتائی تھی۔ یہ معاملہ تو ایک طرف پی سی بی نے کمپنیوں کے نمائندوں سے کہا ہے کہ ٹینڈرز پر لیے جانے والے فیصلے کا اعلان نو فروری کو کیا جائےگا۔ پی سی بی کے اس غیر متوقع اقدام کی بابت چیئرمین کرکٹ بورڈ شہر یار خان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس لیے دو دن لیے ہیں تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ بولی لگانے والی کمپنی کی ساکھ اور استطاعت کا جائزہ لے سکیں، کیونکہ کچھ کمپنیاں اپنی معاشی استطاعت سے بڑھ کر بولی لگاتی ہیں جن سے بعد ازاں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ شہر یار خان نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ بات آپ کے ہر معاملے کو شفاف رکھنے کے دعوے کے خلاف نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ شفاف کاری کے عمل کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔ تاہم چیئرمین کی اس وضاحت کے باوجود مبصرین کہتے ہیں کہ ٹینڈرز کو مقررہ وقت پر نہ کھول کر شہر یار خان نے شفاف کاری کے اپنے بلندوبانگ دعوے کی نفی کی ہے۔ ادھر پی سی بی کو ایک اور مسئلے کا سامنا ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کی بڑی اشہتاری کمپنی انٹرفلو کے مطابق انہوں نے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاء کے دور میں ایک معاہدہ کیا جس کی بنیاد پر سٹیڈیمز کے اندر تمام حقوق ان کی کمپنی کو حاصل ہیں۔ یہ معاہدہ پی سی بی کے سابق مارکیٹنگ ڈائریکٹر زاہد بشیر نے کیا تھا۔پی سی بی کے نئے چئئرمین نے آتے ہی سب سے پہلے زاہد بشیر کو نکالا تھا۔ پی سی بی نے انٹر فلو کے ساتھ اس معاہدے سے انکار کر دیا تھا جس کے سبب انٹرفلو کے ڈاریکٹر طاہر خان نے سندھ ہائی کورٹ میں معاہدے کی خلاف ورزی پر پی سی بی پر مقدمہ دائر کر دیا۔ شہر یار خان نے بتایا کہ کورٹ کے حکم کے مطابق ٹینڈر جمع کرانے والی تمام کمپنیوں کو اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے اور بورڈ اس کے لیے کورٹ میں مقابلہ کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||