BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2004, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ: سیاست کی نذر؟

News image
اسٹیڈیم میں سینیئر بھارتی افسر
بھارت میں اس برس اپریل اور مئی کے درمیانی عرصے میں انتخابات منعقد کرانے کی تیاریاں جاری ہیں لیکن ساتھ ہی بی جے پی کی قیادت والی بھارتی مخلوط حکومت میں شامل ایک طاقتور گروہ یہ چاہتا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کا آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ ملتوی ہو جائے۔

بظاہر اس کی وجہ پاکستان میں بھارتی کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کے معاملے کو بتایا جا رہا ہے جو بعض حلقوں کے مطابق ایک جائز تشویش ہے۔ بعض مبصرین کے خیال میں بی جے پی کے کچھ اراکین کو تشویش ہے کہ پاکستان میں بھارتی ٹیم کی ممکنہ شکست پارٹی کے انتخابی امکانات پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔

برصغیر پاک و ہند میں کرکٹ کو ایک کھیل سے کہیں زیادہ مقام حاصل ہے۔ یہاں بیشتر لوگوں کو کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے۔

یہ لوگ کرکٹ کو ویسی ہی اہمیت دیتے ہیں جیسے کہ مذہب کو دی جاتی ہے اور میچ کے دوران انتہائی جذباتی انداز میں محو رہتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جب میچ جنوبی ایشیا کے دو حریف ممالک پاکستان اور بھارت کے، جو انیس سو سینتالیس کے بعد دو جنگیں بھی لڑ چکے ہیں، درمیان ہو تو یہی جنون اپنے عروج کو پہنچ جاتا ہے۔

News image
سینیئر بھارتی پولیس افسر پاکستانی سیکیورٹی حکام کے ساتھ

دونوں ایٹمی فریق کچھ عرصے سے دوطرفہ امن و امان کا راگ الاپ رہے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان میں کرکٹ سیریز کا انعقاد صورت حال میں بہتری کو آگے بڑھانے کی کوشش تھی۔

لیکن اب دہلی یکدم بےیقینی کا شکار نظر آنے لگا ہے جسے سیکیورٹی کے انتظامات پر تشویش کا نام دیا جا رہا ہے البتہ بھارت کے بعض سینیئر کھلاڑیوں نے بھی اس معاملے پر تحفظات پیش کئے ہیں۔

بھارت کے آئندہ انتخابات میں حکمراں جماعت پارٹی بی جے پی کے لئے حالیہ دورِ حکومت میں معیشت کو حاصل ہونے والے فروغ سے پارٹی کی ساکھ کو تقویت پہنچ سکتی ہے لیکن بی جے پی کو اب یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر بھارتی ٹیم پاکستان میں ہار جاتی ہے تو اس سے پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔

اس کے علاوہ حکام کو یہ تشویش لاحق ہے کہ اگر بھارتی ٹیم کے دورۂ پاکستان کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس سے پاک بھارت امن کے عمل پر برے اثرات پڑیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کرکٹ سیریز کے خلاف بیشتر بیانات بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے سننے میں آئے ہیں۔ لال کرشن اڈوانی بھارت کے وزیر داخلہ ہیں، سخت گیر ہندو ہیں اور بی جے پی میں وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد