پاکستان کی جیت: اہم کردار کس کا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر راولپنڈی کے لیاقت اسٹیڈیم میں پاکستان نے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں انڈیا کو بارہ رن سے شکست دے دی ہے۔ انڈیا نے پاکستان کے 329 رن کے جواب میں 317 سترہ رن بنائے اور اس کی پوری ٹیم آؤٹ ہو گئی۔ سچن تندولکر نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے چودہ چوکوں کی مدد سے اپنی سنچری مکمل کی اور شعیب ملک کی گیند پر ایک سو بیالیس رن بنا کر عبدالرزاق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ کیا آپ نے یہ میچ دیکھا؟ اس میچ پر آپ کا ردعمل کیا ہے؟ آپ کے خیال میں پشاور میں تیسرا ایک روزہ کیسا رہے گا اور کون جیتے گا؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
اخلاق احمد، کوریا: پاکستانی ٹیم کی آل راؤنڈ کارکردگی اور انڈین بیٹسمینوں کی جلدی نے راوالپنڈی میں پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ کراچی میں انضمام کی طرح ٹینڈلکر بھی اس میچ میں ذرا جلدی آؤٹ ہوگئے لیکن پاکستان کے بیٹس مین سکور کو فتح کے قریب لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ قسمت اور تھرڈ ایمپائر اگر ساتھ دیتے تو پاکستان ایک نیا ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہو جاتا۔ دوسری طرف انڈیا کے باقی بیٹسمین ٹینڈلکر کے بعد آؤٹ ہوتے چلے گئے اور انہوں نے محنت کرنے کے بجائے خطرناک شاٹس کھیلیں۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان کی ٹیم نے دونوں میچوں میں اچھی آل راونڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ خالد سعید، کراچی: دونوں ٹیمیں اچھا کھیل رہی ہیں۔ پچ ایسی ہونی چاہئے کہ بولنگ اور بیٹنگ دونوں میں مدد ملے تاکہ ہمارے شعیب اور سمیع کی محنت کام آسکے ورنہ سچن تو بہت مارتا ہے۔ سنجے ہاشوانی، ڈھیرکی: محمد سمیع جاپانی سپیشل: میں یہ بتا رہا ہوں کہ پاکستان صرف اسی صورت میں جیت سکتا ہے اگر پہلے بیٹنگ کرے۔ صاف بات ہے۔ محمد اسدی لودھی، کراچی: میرا خیال ہے کہ عمران نذیر کو ٹیم میں کھلانا چاہئے اس سے اوپننگ مضبوط ہوگی اور یاسر حمید کو ون ڈاون بھیجنا چاہئے۔ اشتیاق احمد، کراچی: پشاور کا میچ پاکستان جیتے گا۔ مغز خان، کراچی: پاکستان نے اچھا کھیلا لیکن ہمیں کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ پاکستان ہارے یا جیتے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ یہ ہمیشہ کراچی میں ہارتا ہے۔ ہم نے ٹیم کی پٹائی اسی لئے نہیں کی کہ کراچی ویسے ہی بدنام ہے۔
محمد مصفیٰ بٹ، لاہور: ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ سچن کچھ بھی ہے میچ ونر نہیں ہے۔ کبھی کبھی تو بولر بھی میچ جتوا دیتے ہیں بیٹنگ سے۔ پہلے میچ سے شک سا ہوا کہ کہیں ’سرکاری خیر سگالی‘ کی سیریز تو نہیں؟ شکیل الرحمان للی، پشاور: ویل ڈن پاکستان خاص طور پر شاہد آفریدی۔ میرا خیال ہے کہ مین آف دی میچ انہی کو ہونا چاہئے تھا۔ پشاور کی پچ خاصی سرسبز ہے اور پہلے کھیلنا زیادہ اچھا۔ سکور دو سو پچاس سے زیادہ ہوگا۔ ارباب نیاز سٹیڈیم میں سب سے زیادہ سکور دو سو چھیانوے تھا جو انگلینڈ کی ٹیم نے سری لنکا کے خلاف انیس سو ستاسی میں کیا تھا اس لئے یہ کھیل بولرز کا ہوگا۔ کامران خان، راوالپنڈی: میرا خیال ہے کہ سمی نے پاکستان کو راوالپنڈی میں جتوایا ہے۔ حافظ عبداللہ سعید، برطانیہ: میرا خیال ہے کہ پاکستان اس میچ میں بہت اچھا کھیلا اور اللہ نے یہ میچ جتوایا۔ انہیں اگلا میچ بھی جیتنا چاہئے، میری دعائیں۔ معین عزیز، کراچی: پاکستان کراچی میں ہار گیا، اب وہ سیریز بھی جیت جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انڈیا نے بہت اچھا کھیلا۔ پاکستان انشاء اللہ لاہور میں ہارے گا اور سچن ان کی خوب پٹائی کرے گا۔ اگر پاکستان لاہور کے سارے میچ ہارا تو میں مٹھائی بانٹوں گا اور شکرانے کے نفل ادا کروں گا۔ مشہود، لاہور: اگر یونس خان کی جگہ رزاق کو بھیجا جاتا جو آج کل بھرپور فارم میں ہے تو پاکستان یقیناً پچاس سکور زیادہ کر سکتا تھا۔ پاکستانی بیٹسمینوں کو انڈین ٹیل اینڈرز سے سیکھنا ہوگا کہ پریشر میں بھی اچھا کھیلا جا سکتا ہے۔ عابد رفیق، آزاد کشمیر: محمد سمیع نے زبردست بولنگ کی۔ اظہر خان، سعودی عرب: تیسرے میچ کے لئے توفیق عمر کو لائیں یونس خان کی جگہ، اور ان سے اوپن کروائیں یاسر حمید کے ساتھ اور شاہد آفریدی کو ایک ڈاؤن کریں۔ شعیب ملک کو چھ نمر پر کھلائیں، اللہ تعالیٰ، ہماری ٹیم باقی سارے میچ جیت جائے! کامران احمد، دوبئی: یہ میچ تو تقریبا انڈیا جیت گیا تھا، مجھے ذاتی طور پر پاکستان کے پہلے میچ میں زیادہ مزہ آیا کیونکہ اس میں فائٹ تھی۔ ہمارے باؤلر تو دوسرا میچ ہروانے پر تلے ہوئے تھے، سوائے محمد سمیع کے۔ کسی کی کارکردگی زیادہ اچھی نہ تھی۔ ٹیل اینڈرس نے جو ہمارے باؤلروں کی پٹائی کی اس پر میچ آف دی میچ بالاجی کو ملنا چاہئے تھا۔
محمد یومان، میر پور خاص: یہ سیریز بہت خطرناک حد تک ہورہی ہے۔ اور ہر لمحہ دل دھڑکتا رہتا ہے۔ اب تو میڈیا کو سیریز نہیں بلکہ اس بات کے اشتہار نشر کرنے چاہئے کہ ’کمزور دل حضرات اپنی شناختی کارڈ ساتھ لائیں‘۔ یا کمزور دل حضرات یہ میچ نہ دیکھیں۔ رابعہ احمد، دوبئی: آفریدی نے بہت اچھا کم بیک کیا ہے، اگر یہ کہا جائے کہ یہ میچ آفریدی کی بدولت جیتا گیا تو کسی حد تک درست ہوگا۔ وقار یونس کی کمی محسوس ہوئی۔ ندیم عباسی، اسلام آباد: دوسرا میچ بھی ہائی اسکورِنگ میچ تھا لیکن بدقسمتی سے انڈیا یہ میچ جیت نہیں سکا۔ سچن کی طوفانی بیٹِنگ تھی لیکن انڈیا کی ٹیم صرف سچن پر منحصر کررہی ہے۔ نامعلوم: پاکستان کی فیلڈِنگ ابھی بھی کمزور ہے۔ اس پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔ ایاز محمد، سِنگاپور: میرے خیال سے محمد سمیع نے اہم کردار ادا کیا۔ امان اللہ وِرک، دوحہ: میرے خیال میں شبیر احمد کی جگہ ثقلین مشتاق کو لانے کی ضرورت ہے۔ مسرور احمد، ٹورانٹو: نتیجوں کے علاوہ اب تک کرکٹ اچھی تھی۔ پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا ہے، دونوں ملکوں کے شائقین کیلئے۔ محمد فیصل جمال، چکوال، پاکستان: شاہد آفریدی، یاسر حمید، محمد سمیع اور ظہیر خان۔۔۔۔ منان رانا، لاہور: سب سے پہلے میں سچن کے بارے میں کہوں گا کہ انہوں نے بہت اچھی اِننگز کھیلی اور ان کی ٹیم یا ان کا ملک جو ان سے مطالبہ کررہا تھا وہ اس پر پورے اترے۔ لیکن یہ میچ اگر شاہد آفریدی کا نہ کہا جائے تو زیادتی ہوگی۔ محمد مشتاق، ہانگ کانگ: میں نے میچ دیکھا، لطف انداز ہوا۔ بہت ہی مزے دار میچ تھا، صرف وقار یونس کی کمی تھی۔
عمران شاہد، بریڈفورڈ: پاکستان نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا، اس پر پوری پاکستانی ٹیم کو مبارکباد۔ شاہد آفریدی کا فارم میں واپس آنا ٹیم کے لئے نیک شگون ثابت ہوا اور ٹاس جیت کر پہلے بیٹِنگ کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ بلال اعوان، حفیظ آباد: وقار یونس کو واپس لانے کی ضرورت ہے۔ محمد طحیٰ حیدر، لاہور: میچ جیتنے میں اوپنِنگ پارٹنرشِپ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ٹیم میں وقار یونس کی کمی ہے۔ عمران کرمانی، لاہور: میرے خیال میں بیٹِنگ تو یاسر حمید اور شاہد آفریدی نے کیا اور باؤلِنگ میں محمد سمیع۔ فیلڈ خراب تھی، لیکن رزاق کا کیچ میچ وِننگ کیچ ثابت ہوا۔ سجاد سید، پاکستان: آفریدی اور سمیع کے شاندار کھیل کی وجہ سے پاکستان نے کامیابی حاصل کی۔ اسد، چترال، پاکستان: شعیب اختر کو اپنی فیلڈِنگ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ نوید اقبال خان، جدہ: ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کون سی ٹیم مضبوط ہے، کسی کی ذرا سی غلطی بطی میچ کو بدل سکتی ہے۔ نتیجہ کچھ بھی ہو میچ کانٹے دار ہونگے۔ احمر خان، پاکستان: شاہد آفریدی نے جنہیں سخت تنقید کا سامنا رہا ہے، اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا۔ ندیم خان، کینیڈا: پاکستانی باؤلروں کا کردار اچھا نہیں رہا، سچن تندولکر کی بیٹِنگ کے سامنے باؤلنگ کیلئے انہوں نے کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا۔
فہیم خان، راولپنڈی: میچ دلچسپ تھا، پاکستان کو ساڑھے تین سو رن سے زیاد اسکور کرنے کی ضرورت ہے۔ یاسر حمید اور شاہد آفریدی نے اچھا آغاز کیا۔ جب انضمام نے معین کو میدان میں اتارا اس وقت انہیں عبدالرزاق کو کھیلانا چاہئے تھا۔ انڈیا کی جانب سے سچن تندولکر نے بہترین بیٹِنگ کا مظاہرہ کیا۔ محمد سلیم، اسلام آباد: پاکستانی ٹیم کو مبارکباد۔ اوپنر کافی اچھا کھیلے، خاص کر آفریدی۔ پاکستان انشاءاللہ سیریز جیت جائے گا۔ ملک حسین علی، راولپنڈی: وقار یونس کی کمی آخری اوور میں محسوس کی گئی۔ فیصل یعقوب، پاکستان: پاکستان کی جیت میں زیادہ کام بلے بازوں نے کیا لیکن آخری اوور میں اگر سمیع دو کھلاڑیوں کو رن آؤٹ نہیں کرتا تو پاکستان یہ میچ شاید ہار گیا تھا۔ ماجد اقبال، ملتان: مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ عمران فرحت کو جنہوں نے پہلے میچ میں اچھا کھیل کھیلا تھا، دوسرے میچ میں کیوں ڈراپ کردیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||