انڈیا پاک ون ڈے سیریز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا ٹیم کے پاکستان کے تاریخی دورے پر دونوں ٹیموں نے پانچ ایک روز میچ کھیلیں۔ شائقین کے لئے ون ڈے سیریز کافی دلچسپی کا باعث اس لئے بھی رہی کہ انہیں بہت دنوں کے بعد بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملا۔ انڈیا نے دو کے مقابلے تین سے پانچ ایک روزہ میچوں کی یہ کرکٹ سیریز جیت لی ہے۔ ون ڈے سیریز پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟ اب اٹھائیس مارچ سے دونوں ٹیمیں تین ٹیسٹ میچ بھی کھیلیں گیں۔ آپ کے خیال میں ٹیسٹ میچ کے نتائج کیا ہوں گے؟ کون سے کھلاڑی بہترین کھیل کا مظاہرہ کریں گے اور کیوں؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں عزیز محمد، لکی سٹی، پاکستان: مجھے لگتا ہے کہ سیریز پہلے سے طے تھی اور ہر کھلاڑی ایکٹر کی طرح کھیل رہا تھا۔۔۔۔ نجم منیر، کراچی: پاکستان اب تک جتنے ہوئے ون ڈے انڈیا سے ہارا ہے وہ سب بہت کلوز تھے۔ شہزاد قاسم، کراچی: میرے خیال میں یہ سارے میچ فِکس تھے۔ پاکستان جان کر ہارا ہے مگر یہ ایک طرح سے اچھا ہوا کیوں کہ اگر ہمیں انڈیا کے ساتھ دوستی کرنی ہے تو یہ کرنا بہت ضروری تھا۔ اگر یہ میچ ہم جیت جاتے تو انڈیا کے لوگوں کے دلوں میں بدلے کا انتظار رہتا۔ ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے مگر دوستی نہیں ہوتی۔ انشاء اللہ ہماری دوستی کامیاب رہے گی۔ موہن لعل کھتری، نئی دہلی: میرا خیال ہے کہ پاکستانیوں کو ہم پر رحم آگیا، پھر ان کو ان کے سیاست دانوں نے اپنے ملک کو بچانے کے لئے، اپنے ملک کی عزت کو داؤ پر لگا دیا۔ پاکستان کو ہرانا کوئی انڈیا کے بس کی بات نہیں۔ نور الامین، پشاور: اگرچہ پاکستان ون ڈے سیریز ہارا لیکن امید ہے کہ ٹیسٹ سیریز جیتے گا۔ کیونکہ ون ڈے پریشر کا کھیل ہوتا ہے نسبتا ٹیسٹ کے۔ اور پاکستان بہت زیادہ پریشر میں تھا۔ سید شوکت حسین، خرم ایجنسی، پاکستان: پاکستانی کھلاڑی بہت برا ہے، بہت لوز فیلڈِنگ تھی۔ باؤلِنگ اور بیٹِنگ بھی بہت لوز ہے۔۔۔۔ ایس خان، کراچی: کراچی کراچی ہے۔ جس نے کراچی نہیں دیکھا اس نے پیدا ہوکر غلطی کی۔ یہ کرکٹ نہیں سیاست تھی۔ مشہود، لاہور: کھیل میں ہار جیت تو ہوتی ہے لیکن پہلے تین ون ڈے میں عمدہ کارکردگی کے بعد آخری دو میچ میں مایوس کن کارکردگی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اصغر علی، مردان: پاکستان کے عوام پیار کرنیوالے ہیں اور دشمن کو بھی گلے سے لگاتے ہیں۔ ماجد اقبال، ملتان کینٹ: مشرف نے انڈین ٹیم کو ڈِنر پر کہا تھا کہ سیاست دانوں کو سبق سکھانا چاہئے۔ آپ لوگوں سے گیو این ٹیک کی پالیسی سے۔۔۔۔ نوید راؤ، سعودی عرب: کون کہتا ہے ہماری باؤلِنگ مضبوط ہے؟ انہوں نے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ بال کہاں پھینکیں۔ نہ تو ہماری باؤلِنگ ٹھیک تھی اور نہ ہی ہماری بیٹِنگ۔ یوسف یوحنا کب اپنے آپ کو ثابت کرسکیں گے؟ یوسف راشد، نیاگرا فالس، کینیڈا: یہ سیریز جنرل مشرف اور جارج بش نے منعقد کی تھی۔ اور انہوں نے واجپئی کو گارنٹی دی تھی کہ انڈیا سیریز جیت جائے گا۔ فہیم عثمانی، شارجہ: پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان نے اچھا کھیلا۔ ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی باؤلِنگ بہت اچھی ہوگی اور پاکستان انڈیا کو بہتر فائٹ دے سکے گا۔ معظم علی، دوبئی: جو اچھا کھیلے گا وہی ٹیسٹ سیریز جیتے گا۔ ویسے پاکستانی ٹیم کو اور زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ اعجاز قریشی، لاہور: اس سیریز کی بڑی شدت سے انتظار تھی لیکن کافی دکھ ہوا کہ ہمیشہ کی طرح پاکستانی ٹیم نے وہی کچھ کیا جو وہ ہمیشہ کرتی آرہی ہے۔ پتہ نہیں ان لوگوں کو لوگوں کے دلوں سے پیسہ اور سیاست کیون عزیز ہے؟ یا یہ لوگ اپنے ہم وطنوں کے دلوں سے کیوں کھیلتے ہیں؟ کتنی دعائیں کرتے ہیں ہم سب ان کے لئے۔۔۔۔لیکن۔ شجاع الدین، سوات، پاکستان: میں انڈین ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے بہت اچھا کھیلا، پاکستانی ٹیم نے بھی اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن نتائج پہلے سے ہی دہلی اور اسلام آباد میں سیاسی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ سید ذوالفقار علی، دوبئی: سب سے پہلی غلطی انضمام کی یہ تھی کہ اس نے فیلڈِنگ کرنے کا فیصلہ کیا، فائنل میچ میں۔ دوسری بات یہ کہ پاکستان باؤلِنگ اور فیلڈِنگ بہت کمزور ہے۔ پاکستان کو فیلڈِنگ پر زیادہ توجہ دینا چاہئے۔ انڈیا نے بہت اچھا گیم کھیلا۔ کبیر احمد، بیلجیئم: یہ کرکٹ تو سیاست کی بازی تھی جو چاہا لگالیا، ڈر کیسا۔ گر جیت جاتے تو کیا ہوتا؟ ہارے بھی تو بازی مات نہیں۔۔۔ نظیر، پاکستان: پاکستان صرف ایک ٹیسٹ میچ جیتے گا اور باقی دو ٹیسٹ میچ ڈرا ہوجائیں گے۔ لہذا پاکستان ٹیسٹ سیریز جیت جائے گا۔ غلام فرید شیخ، پاکستان: اب واجپئی خود دیکھیں کہ کرکٹ سیریز کرانے کا نقصان کس کو ہوا۔۔۔۔۔ اس سیریز کی کامیابی کا اندازہ ہر ایک کو ہوگیا ہے۔ اب میں دونوں ملکوں کے سربراہوں سے اپیل کرتا ہوں کہ کبھی بھی کھیل میں سیاست کو نہ آنےدیں۔ ندیم غوری، کینیڈا: لاہور لاہور ہے، جو لاہور میں نہیں رہا وہ پیدا نہیں ہوا ۔ وجاہت چودھری، اونٹاریو: دونوں ٹیموں نے بلا شبہہ بہت اچھا کھیلا لیکن میں کریڈِٹ انڈین ٹیم کو دونگا کیونکہ انہوں نے اپنے ملک کے لئے بہت اچھا کھیلا۔ محمد منصور جمیل، کویت: میرے خیال میں انڈیا اور پاکستان اس وقت دنیا کے بہترین ٹیم ہیں۔ سات سو کے قریب اسکور کرنا ہرٹیم کی بات نہیں ہے۔ نور امین، پشاور: اپنی ٹیم کی کارکردگی سے مایوسی ہوئی ہے۔ ناصر خان، کینیڈا: بہت گریٹ سیریز تھی۔ لیکن ہمیشہ کی طرح پاکستان کی بیٹِنگ نہیں چلی۔ جس کی وجہ سے سیریز ہار گئے۔ اگر یہی ہوا ٹیسٹ میں تو پھر ٹیسٹ سیریز بھی گنوا دینگے۔ قیصر حنیف، لاہور: میں میچ فِکسِنگ میں یقین نہیں کرتا تھا لیکن اب میری سوچ بدل گئی ہے۔ بشارت حمید، سمندری، پاکستان: ایسا لگتا ہے کہ سیریز انڈیا کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کی گئی ہے۔ اور جواباز ہمیشہ کی طرح میدان میں رہے ہیں۔ شاید انڈیا کو مزید خوش کرنے کے لئے ٹیسٹ سیریز میں بھی کچھ ایسے گل کھلائے جائیں گے۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: بہت اچھا لگ رہا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں لیکن ہر بات کی کوئی حد بھی ہوتی ہے۔ اتنا زیادہ بھی کیا بندہ پروری دکھانی؟ ہارون آلو، برطانیہ: کیا خاک سیریز تھی؟ کھلاڑی یعنی پاکستانی بِک گئے تھے۔ ایسا پروفارمنس دیکھ کر دل نہیں چاہتا کہ ٹیسٹ سیریز دیکھوں۔ راہیل کاظمی، سیکرامنٹو، امریکہ: مجھے لگتا ہے کہ یہ کھیل نہیں سیاست ہے۔ مشرف کو شرم آنی چاہئے کیونکہ وہ کھیل کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ مدثر حنیف، لاہور: جوا جیتا، پاکستان ہارا۔ ٹیسٹ سیریز میں بھی جوا زندہ باد۔ ملک اللہ یار خان، نیاگاٹا سٹی، جاپان: دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان اس طرح کے پرامن میچ ہونے چاہئیں۔ لیکن لاہور میں پاکستان کی شکست شبہے سے خالی نہیں ہے۔ لگتا ہے کہ میچ فِکس تھے۔ اقبال امجد علی، پرتگال: فائنل میچ ٹھیک نہیں تھا۔ فِکس تھا۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان: انڈیا کے الیکشن تک ویٹ کر لیں، سب کھل جائے گا اور یہ کرکٹ نہیں سیاست ہے جو ہورہا ہے۔ نعیم اختر، پاکستان: پاکستان کی پلانِنگ فیل ہوگئی۔ پاکستان ٹیسٹ سیریز جیتے گا۔ یاسر رفیق، مانٹریال: ون ڈے سیریز اچھی رہی۔ سیریز جیتنے پر انڈیا کو مبارکباد۔ پاکستان کو ہمت اور حوصلہ سے کام لینا چاہئے۔ انشاءاللہ ٹیسٹ سیریز پاکستان ہی جیتے گا۔ نامعلوم: یہ کھیل نہیں سیاست ہے۔ عبدالغفار جان محمد، یو اے ای: مجھے تو لگتا ہے کہ یہ سیریز پہلے سے طے ہے، کہ انڈیا ون ڈے سیریز جیتے گا اور پاکستان ٹیسٹ سیریز۔ تنویر خان، امریکہ: ون ڈے سیریز بہت اچھی رہی۔ اگر اسی طرح اور میچ کھیلے جائیں تو دونوں ملکوں کے لوگ اسی بہانے ایک دوسرے کے ملک آ جا سکیںگے۔ کھیل کی ہار جیت میں برداشت کا جذبہ بھی ہونا چاہئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||