BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 April, 2004, 16:30 GMT 21:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کی ٹیم مقابلہ کر سکے گی؟
انڈیا نے پہلی بار پاکستان میں ٹیسٹ جیتا
انڈیا نے پہلی بار پاکستان میں ٹیسٹ جیتا
انڈیا اور پاکستان کے درمیان ملتان میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں انڈیا نے پاکستان کو میچ کے آخری دن ایک اننگز اور باون رن سے شکست دے دی ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان کی سر زمین پر کھیلے گئے بیس ٹیسٹ میچوں میں بھارتی ٹیم نے پانچ ٹیسٹ ہارے ہیں اور پندرہ ڈرا ہوئے ہیں جبکہ پہلی بار کوئی انڈین ٹیم پاکستان کو پاکستان میں شکست دینے میں کامیاب ہوئی ہے۔

کیا پاکستان کی کرکٹ ٹیم اتنی بری شکست سے دوچار ہونے کے بعد انڈیا کا مقابلہ کرسکے گی؟ کیا انڈیا کی فتح فیصلہ کن ثابت ہوگی؟ پاکستان کے اس بری طرح ہارنے کے اسباب کیا ہیں؟ آپ کا ردِّعمل

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں

عمران سید، امریکہ: کچھ سینیئر کھلاڑیوں نے ایسے مشورے دیئے اور بولنگ کو مضبوط کہہ کر اپنی پوزیشن خراب کر لی ہم نے۔ ہمارے زیادہ تر بولر نئے ہیں اور ایک میچ کے بعد ہی انہیں ورلڈ کلاس کہہ دینا بہت بڑا دعویٰ ہوتا ہے۔ اب ان سب کی پٹائی ہوچکی ہے اور ان سب کو اپنی جگہ کی فکر ہوگی اس لئے سب بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے اور مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

رمضان علی شیخ، کویت: شعیب کی جگہ راؤ افتخار اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔

یہ اپنی مستی ہے جس نے۔۔۔
 معمولی درجے کی بولنگ پانچویں میچ تک اور معمولی لگنی چاہئے تھی۔ چار میچوں کے بعد تو کرکٹ بال فٹ بال نظر آنی چاہئے تھی۔
خالد محمود، کینیڈا

خالد محمود، کینیڈا: مجھے تو ون ڈے سیریز کی ہار ہی ہضم نہیں ہو رہی۔ معمولی درجے کی بولنگ پانچویں میچ تک اور معمولی لگنی چاہئے تھی۔ چار میچوں کے بعد تو کرکٹ بال فٹ بال نظر آنی چاہئے تھی۔ یہ اپنی مستی ہے جس نے مچائی ہے ہل چل، نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل۔

سید خرم شاہ، بہاول پور: پاکستان ہار گیا، عوام کو بہت دکھ ہوا۔ لوگوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی شعیب اختر ہے جس نے پچھلی چار سیریز جتوائیں اور وہی سمی ہے جس کے آگے بیٹسمین ٹکتے نہیں تھے۔ اب لوگوں کی امیدیں تو پاکستان سے کم ہو گئی ہیں لیکن اب بھی سب کے دل کہتے ہیں کہ پاکستان واپس آئے گا۔

محمد متین سلیمان، بورے والہ: یہ سیریز فکسڈ ہے اسی لئے پاکستان ہارا ہے۔

سلطان ریاض احمد، جدہ: میرے خیال میں اگلے ٹیسٹ میں عمران نذیر، عاصم کمال، کامران اکمل اور دانش کنیریا کو شامل کرنا چاہئے۔

کائنات خان، پاکستان: پاکستان میں کرکٹ پر پابندی لگا دینی چاہئے۔

نام نہیں بتانا چاہتا: پاکستان جان بوجھ کر ہار رہا ہے سٹے کی وجہ سے۔ ان کو ملک سے نہیں پیسوں سے پیار ہے۔ مشرف کے کہنے سے ہار رہے ہیں تاکہ مشرف اچھے بن جائیں۔

عمران اقبال، بریڈفورڈ: انڈیا کو جان بوجھ کر جتوایا گیا ہے تاکہ وہ آئندہ پاکستان کے ساتھ شارجہ سمیت ہر جگہ کھیل سکے ورنہ پاکستان کو ہر جگہ نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔

نامعلوم: ہار گئی ٹیم، جیت گیا بورڈ

محمد عبداللہ، بہاولپور: یہ بات تو میں نے کی ہے کہ انڈین ٹیم پاکستان سے کافی بہتر ہے۔ پر ہماری ٹیم میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ انڈیا کو ہرا سکے۔ شاید یہ بات ہمارے کھلاڑی ماننے کو تیار نہیں۔ جب ان کو اندازہ ہوجائے گا کہ ہم بہتر کھیل پیش کرسکتے ہیں تو یقینی طور پر جیت ہماری ہوگی۔

خلیل اخون: دوستی نبھا رہے ہیں، کھلاڑی کیا کریں؟

نسیم کامران، کیلیفورنیا: کچھ ایس میچ تھا جیسے کہ پاکستانی ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو۔ انڈیا کی بیٹِنگ چاہے جتنی اچھی ہو، اسے چھ سو پچہتر رن نہیں بنانے دینا چاہئے تھا۔ پاکستان کے بلے باز بھی انڈیا کی معمولی بولنگ کے سامنے ٹِک نہ سکے۔

شکست پریشان کن مگر۔۔۔۔
 پاکستانی ٹیم مقابلہ کرے گی۔ ایک میچ پر پوری سیریز کا نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا۔ البتہ جس انداز سے پاکستانی ٹیم پہلی ٹیسٹ میں ہاری وہ تھوڑا پریشان کن ہے۔
عمران سید، امریکہ

عمران سید، امریکہ: پاکستانی ٹیم مقابلہ کرے گی۔ ایک میچ پر پوری سیریز کا نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا۔ البتہ جس انداز سے پاکستانی ٹیم پہلی ٹیسٹ میں ہاری وہ تھوڑا پریشان کن ہے۔ فائٹِنگ اسپرِٹ ہو اور مقابلہ کرکے ہاریں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ویسے اگر دانش کنیریا اور عمران نذیر کو لیں گے تو کافی بہتری آئے گی۔

اظہر خان، سعودی عرب: انشاء اللہ پاکستان جیتے گا۔ انڈیا کو جواب دے گا، باقی دونوں ٹیسٹ میچ جیت کر۔

فیصل احمد خان، کویت: ایک تو پندرہ سال بعد انڈین ٹیم آئی، اگر ہار جاتی تو شاید پچیس سال بعد تک دوبارہ نہیں آتی۔ اس لئے پاکستان کو پہلی بار ہار جانا چاہئے۔

ماجد اقبال، ملتان کینٹ: انضمام اور میانداد دونوں ڈرپوک کپتان اور کوچ ہیں۔ جیتنے کا جذبہ ہی نظر نہیں آرہا ہے۔ اگر وہ جذبہ ختم ہوگیا ہے تو صفر تین سے ہاریں گے۔ اتنا برا میچ دونوں ٹیموں نے کبھی نہیں کھیلا، یہ تو مقابلہ ہی نہیں تھا۔ انضمام نے تیسرے ہی دن کہہ دیا کہ میچ بچانا مشکل ہے۔۔۔۔

زین رشید، دوبئی: پاکستانی ٹیم کی غیرت ہارنے کے بعد ہی جاگتی ہے اور اب وہ دونوں ٹیسٹ جیت کر دیکھیں گے۔ بولنگ، فیلڈِنگ اور بیٹِنگ سب اچھی ہوجائے گی۔

ندیم، پاکستان: میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان پہلا ٹیسٹ سوچی سمجھی پلانِنگ کے تحت ہار گیا۔ انڈیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرانے کے لئے پاکستان نے کرکٹ کے میدان پر کافی پیشنس کا مظاہرہ کیا۔

کھلاڑیوں کا غلط چناؤ
 ہاں انڈیا جیتا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمام میچ جیتے گا۔ پاکستان مقابلہ کرے گا۔ باقی انڈیا کی جیت کی سب سے بڑی وجہ ہمارے کھلاڑیوں کا غلط چناؤ ہے۔
شفقت مغل، برطانیہ
شفقت مغل، برطانیہ: ہاں انڈیا جیتا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمام میچ جیتے گا۔ پاکستان مقابلہ کرے گا۔ باقی انڈیا کی جیت کی سب سے بڑی وجہ ہمارے کھلاڑیوں کا غلط چناؤ ہے۔ ثقلین مشتاق کو بہت دن بعد واپس لایا گیا اور اب پھر ڈراپ کردیا گیا ہے جبکہ شعیب کی کارکردگی بھی اتنی ہی بری تھی اور وہ موجود ہے۔

خالد عمر منیار، سورت، انڈیا: میرا خیال ہے کہ یہ ناانصافی ہے کہ بولر تو اپیل کر سکتے ہیں خواہ انہیں معلوم بھی ہو کہ بیٹسمین آؤٹ نہیں تھا اور بیٹس مین تیسرے ایمپائر سے اپیل نہیں کرسکتا خواہ اسے مکمل یقین ہو کہ وہ آؤٹ نہیں ہے۔ معین خان اور انضمام آؤٹ نہیں تھے۔

محمد مشتاق، ہانگ کانگ: میرے خیال میں پاکستان جان بوجھ کر ہارا ہے، آگے سب کو معلوم ہے۔

عبدالقدوس، کراچی: سب نے کہا کہ سیریز فکسڈ تھی۔ ایک میچ میں ٹیم کی کارکردگی کچھ ہوتی ہے اگلے میں کہاں جا پہنچتی ہے جس سے انڈیا کو جیتنے کا موقعہ مہیا کیا گیا۔ یہی اب ٹیسٹ میں ہوگا، مجھے تو جیت کی کوئی توقع نہیں ہے۔

فہیم خان، اٹک: جب کھلاڑیوں کو ہارنے کی فیس جیتنے کی فیس سے زیادہ ملتی ہو تو وہ ہاریں گے نہیں تو کیا کریں گے؟

اشرف خان، پاکستان: یہی تو ہونا تھا، جب ہندوستان کو یقین ہوگیا کہ ہم جیتیں گے تو وہ پاکستان آئے۔

وقار احمد، ہالینڈ: ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، لیکن ایسی ہار، ہرگز نہیں۔

عارف فاروقی، کیلیفورنیا: ٹیم متوازن اور مضبوط ہے مگر ابھی قوم کے لئے کھیلنے کا جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔

عرفان: ہم پاکستانی اپنی ٹیم کی ہار اور جیت کے بارے میں انتہائی جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ ہمیں احساس کرنا چاہئے کہ موجودہ پاکستانی ٹیم ایک تیسرے درجے کی ٹیم ہے اور اب تک کی ہماری تمام ٹیموں میں سے سب سے زیادہ ہلکی ہے۔ اس لئے ہمیں ابھی مزید ریکارڈ بننے کی توقع کرنی چاہئے۔

ہمت نہ ہاریں
 پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں دل نہیں ہارنا چاہئے۔ جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہوتے ہیں اور ایک کھیل ہارنے سے دنیا ختم نہیں ہوگئی۔ پاکستان کو محنت کرکے اپنی خامیوں کو دور کرنا چاہئے۔ میرے خیال میں اس ہولناک شکست میں فیلڈنگ نے اہم کردار ادا کیا۔
عمران کاظمی، لاہور
عمران کاظمی، لاہور: پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں دل نہیں ہارنا چاہئے۔ جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہوتے ہیں اور ایک کھیل ہارنے سے دنیا ختم نہیں ہوگئی۔ پاکستان کو محنت کرکے اپنی خامیوں کو دور کرنا چاہئے۔ میرے خیال میں اس ہولناک شکست میں فیلڈنگ نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان اس کھیل میں پوری قوت کے ساتھ واپس آسکتا ہے اگر اس کے کھلاڑی ٹیم میں اپنی جگہ بچانے کے بجائے ملک کے لئے کھیلنا شروع کردیں۔ بلاشبہ انڈینز اس وقت فیورٹ ہیں لیکن پاکستان میں بری شکست سے اٹھ کر کھڑے ہونے کی صلاحیت ہمیشہ رہی ہے اگر وہ چاہے تو۔

رشید خان، دوبئی: ہاں وہ اب بھی کم از کم ایک میچ جیت سکتے ہیں بشرط کہ ان کی فیلڈنگ اچھی ہو جائے۔

ثاقب علیم، گجر خان: انلایا نے میچ اور پاکستان نے ان کا ’دل‘ جیتا ہے۔

راحیل سرور، ملتان: پاکستان کی شکست میں مرکزی کردار بری بولنگ اور تھکی ہوئی فیلڈنگ کا رہا ہے۔ تاہم ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انڈیا نے ٹاس جیت کر ایک ایسی پچ پر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو پہلے دو دنوں میں مری ہوئی پچ ثابت ہوئی اور جب پاکستان نے بیٹنگ شروع کی تو اس پر بیٹنگ کرنا مشکل سے مشکل ہوتا چلا گیا۔ اب پاکستان ایک روزہ سیریز بھی ہار چکا اور پہلا ٹیسٹ بھی۔ اب تمام پریشر اس پر ہوگا اور انڈیا کو فائدہ پہنچے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد