انڈیا کی تاریخی جیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا اور پاکستان کے درمیان ملتان میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں انڈیا نے پاکستان کو میچ کے آخری دن ایک اننگز اور باون رن سے شکست دے دی ہے۔ میچ کے بعد پاکستان کے کپتان انضمام الحق نے کہا کہ پاکستان کی شکست کی ایک وجہ یہ تھی کہ بھارت کی ٹیم ایک بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ تاہم انضمام الحق کا کہنا تھا کہ ابھی دو میچ باقی ہیں جن میں پاکستان کی ٹیم اچھی کارکاردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پچ اچھی نہیں تھی اور پاکستان کے بالر بھی اچھی گیند نہ کر سکے جس کے باعث بھارت کو ایک بڑا سکور کرنے کا موقع ملا۔ بھارتی ٹیم کے کپتان راہول ڈراوڈ نے کہا کہ پاکستان کا بالنگ اٹیک بہت اچھا ہے اور ملتان کی پچ پر بالنگ کرنا بھی آسان نہ تھا لیکن وریندر سہواگ نے بہت عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور ان کی کارکردگی اتنی ہی اچھی رہی جتنی آسٹریلیا کے دورے میں تھی۔ راہول نے کہا کہ ابھی سیریز ختم نہیں ہوئی اور پاکستانی ٹیم میں صلاحیت ہے کہ وہ اگلا میچ جیت کر سیریز میں واپس آسکتی ہے۔ وریندر سہواگ کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے 207 رنز پر پانچویں دن کا آغاز ایسے وقت میں کیا جب بھارت کو تاریخی جیت کے لئے صرف ایک وکٹ درکار تھی۔ پاکستانی ٹیم چوتھے دن کے سکور میں صرف نو رن کا اضافہ کر کے آؤٹ ہو گئی۔ پاکستان کی سر زمین پر کھیلے گئے 20 ٹیسٹ میچوں میں بھارتی ٹیم نے 5 ٹیسٹ ہارے ہیں اور 15 ڈرا ہوئے ہیں جبکہ وہ پاکستان کو پاکستان میں پہلی بار شکست دینے میں کامیاب ہوئی ہے۔
میچ کے چوتھے دن جب پاکستان نے پہلی اننگز شروع کی تھی تو اسے فالوآن سے بچنے کے لئے 112 رنز درکار تھے۔ تاہم تباہی کا سلسلہ پہلی ہی گیند پر شروع ہوگیا جب عرفان پٹھان نے عبدالرزاق کو پارتھی پٹیل کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔ یہ ایسی گیند تھی جس پر عبدالرزاق کے لئے اپنے آپ کو بچانا ناممکن ہوگیا اور اس کے بعد پاکستان ٹیم کی بساط 407 رنز پر لپیٹ دی گئی۔ ثقلین مشتاق پچھلے کئی مواقعوں کی طرح غیرذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے کیچ آؤٹ ہوئے۔ شعیب اختر سچن کو انہی کی گیند پر آسان کیچ تھماگئے۔ شبیر احمد اور محمد سمیع کی آخری وکٹ کی شراکت کمبلے نے سمیع کو بولڈ کرکے ختم کی۔ عرفان پٹھان نے5 وکٹیں حاصل کیں جو ان کے تیسرے ٹیسٹ میں بہترین انفرادی بولنگ بھی ہے۔ بھارت کے خلاف تیسری مرتبہ فالوآن پر مجبور ہونے کے بعد بھی پاکستان کی مشکلات کم نہیں ہوئیں ۔بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے دونوں اوپنرز ایک بار پھر ٹیم کو اچھا آغاز نہ دے سکے ۔ عمران فرحت نے کمبلے کی گیندوں پر بلاوجہ جارحیت دکھائی جس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ۔توفیق عمر بھی کمبلے کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ پاکستان ٹیم کی بنیادیں اسوقت بری طرح ہل کر رہ گئیں جب کپتان انضمام الحق یوراج سنگھ کی براہ راست تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے۔ پہلی اننگز میں 91 رنز بنانے والے یاسرحمید سے اس مرتبہ بڑے اسکور کی توقع پوری نہ ہوسکی اور یوراج نے انہیں سہواگ کے ہاتھوں کیچ کرا کر پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کرڈالی۔ عبدالرزاق دن میں دوسری مرتبہ آؤٹ ہوئے۔ اس مرتبہ کمبلے کی گیند پر فارورڈ شارٹ لیگ پر چوپڑہ نے ان کا خوبصورت کیچ لیا۔ معین خان عرفان پٹھان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہونے پر امپائر سائمن ٹافل پر قدرے برہم ہو گئے جس کے باعث ان سے جوابدہی ہو سکتی ہے۔ محمد سمیع اور ثقلین مشتاق کمبلے کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے تو شعیب اختر یوسف یوحنا کے ساتھ 54 منٹ کریز پر گزارگئے۔ جس کا نتیجہ نویں وکٹ کے لئے 70 رنز کی قیمتی شراکت کی شکل میں سامنے آیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||