خواب جو حقیقت بن گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم کی اننگز اور 52 رنز کی شکست بھارت کے لئے یقیناً ایک تاریخی لمحہ ہے کیونکہ اس نے پاکستان کی سرزمین پر50 سال کے طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد پہلا ٹیسٹ جیتا ہے۔ پاکستان کے خلاف بھارت کی اننگز کے مارجن سے یہ دوسری جیت ہے ۔53-1952 کے دہلی ٹیسٹ میں جو پاکستان کا اولین ٹیسٹ بھی تھا بھارت نےاننگزاور 70 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ٹیسٹ کا آخری دن رسمی کارروائی ثابت ہوا۔ انیل کمبلے کا پہلا اوور خیریت سے گزارنے کے بعد یوسف یوحنا عرفان پٹھان کے اوور کی آخری گیند پر ڈراوڈ کو آسان کیچ دے بیٹھے اور یوں ان کی 112 رنز کی اننگز کے ساتھ ساتھ میچ کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ دنیا میں ہر ٹیم ہوم ایڈوانٹج کے بل پر حریفوں کی کمزوریوں کو ایکسپوز کرنے میں نہیں چوکتی لیکن پاکستان ٹیم ہمیشہ سے ہوم ایڈوانٹج کو گنواتی آئی ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ اپنی قوت دیکھ کر وکٹ بنائی گئی ہو یا وکٹ دیکھ کر اس کی مناسبت سے ٹیم میدان میں اتاری گئی ہو۔ ملتان ٹیسٹ میں جس وکٹ پر بھارت نے 675 رنز کا پہاڑ جیسا سکور کھڑا کر دیا اس تک پہنچنے کے لئے پاکستانی بیٹسمینوں نے دو مرتبہ بیٹنگ کے مزے لئے لیکن اس کے باوجود وہ اننگز کی ہزیمت سے خود کو بچانے میں ناکام رہے۔ یہ بات بھی لمحہ فکریہ ہے کہ جس وکٹ پر پاکستانی بولرز بھارتی بیٹسمینوں کو مرعوب کرنے میں ناکام رہے اس پر بھارتی بولرز نے پاکستان کی بیس وکٹیں حاصل کرڈالیں ۔اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ شعیب اختر اینڈ کمپنی جوش کو اپنے اوپر غالب رکھتے ہوئے صرف اور صرف رفتار کو اپنی کامیابی کا ذریعہ سمجھتی رہی لیکن بھارتی بولرز نے وکٹ دیکھ کر لائن اور لینتھ کا خیال رکھا۔ اس میچ میں عرفان پٹھان کی عمدہ کارکردگی اس نوجوان کے روشن مستقبل کی سند سے کم نہیں۔ بیٹنگ کے لئے سازگار وکٹ پر بھی ان تجربہ کار بیٹسمینوں کے مقدر میں رسوائی لکھی تھی توکیا یہ بہتر نہ تھا کہ تیز وکٹ پر انہیں مقابلے کے لئے چھوڑ دیا جاتا؟ کم ازکم اس صورت میں پاکستان کے تیز رفتار بولرز کے دل میں کسک تو نہ رہتی جن کا حال اس شخص کی طرح تھا جس کے ہاتھ پیر باندھ کر تیرنے کے لئے پانی میں پھینک دیا جائے لیکن منیجمنٹ کے اندر کا خوف پاکستان ٹیم کو لے ڈوبا۔ دوسری اننگز میں ایک بڑے خسارے سے دوچار پاکستانی بیٹسمینوں کے اعصاب پر دہلی ٹیسٹ کے ہیرو انیل کمبلے حاوی ہوگئے ۔انہوں نے خلاف توقع تیز گیندیں کرانے کے بجائے گیند کو فلائٹ دی اور بیٹسمینوں کے لئے تمام وقت پریشانی کا سبب بنے رہے۔ انہوں نے 72 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں۔ عرفان پٹھان جنہوں نے پہلی اننگز میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں دوسری اننگز میں بھی مؤثر بولنگ کرتے ہوئے 21 اوورز میں صرف 26 رنز کےعوض دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ملتان ٹیسٹ میں امپائرنگ کا معیار دنیا کے دو تجربہ کار امپائرز ڈیوڈ شیپرڈ اور سائمن ٹافل کے ہونے کے باوجود پست رہا ۔ خاص کر سائمن ٹافل کے تین فیصلے پاکستان ٹیم کے خلاف گئے ۔ پہلی اننگز میں انضمام الحق اور یوسف یوحنا کا غلط آؤٹ دیا جانا میچ کا ٹرننگ پوائنٹ کہا جاسکتا ہے ۔دوسری اننگز میں معین خان بھی ان کے فیصلے سے مطمئن نہیں تھے۔ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے جس کا خمیازہ میچ ریفری رنجن مدوگالے کی جانب سے میچ فیس کے 75 فیصد جرمانے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ دوسرا ٹیسٹ پیر سے قذافی سٹیڈیم لاہور میں شروع ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ملتان ٹیسٹ کے تلخ تجربے کے بعد سپورٹنگ وکٹ کی تیاری کے دعوے کر رہا ہے۔ دوسری جانب ٹیم میں بھی تبدیلیوں کا امکان ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آف سپنر ثقلین مشتاق کی جگہ لیگ سپنر دانش کنیریا کو موقع دیا جائے جبکہ بیٹنگ میں عاصم کمال کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے یہ دونوں ملتان ٹیسٹ کی ٹیم میں ہونے چاہئیں تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||