| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا سیاست کرکٹ کا لازمی جزو ہے؟
نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ ایک روزہ مقابلوں کی ہوم سیریز کے کیمپ کے لئے بائیس کھلاڑیوں کے انتخاب کے بعد پاکستان کرکٹ ایک بار پھر الزامات اور جھگڑوں کی زد میں ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جو سیاست ملک کی اسمبلیوں میں نہیں ہو پا رہی، وہ کرکٹ کے میدان میں اتر آئی ہے۔ اس سیریز کے لئے ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست سے راشد لطیف، معین خان، یونس خان اور ثقلین مشتاق کے باہر کئے جانے کے بعد چیف سلیکٹر عامر سہیل اور کوچ جاوید میانداد کے درمیان ہونے والے تنازعہ میں ٹیم کے کپتان انضمام الحق بھی شامل ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل راشد لطیف کے چیف سلیکٹر اور کوچ کے ساتھ اختلافات کی خبریں بھی منظرِ عام پر آتی رہی ہیں اور بہت سے کھلاڑی بھی مختلف اوقات پر اپنے اختلافات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان تمام جھگڑوں میں انا پرستی، صوبائی عصبیت اور ذاتی پسند اور ناپسند جیسے الزامات ایک دوسرے پر لگائے گئے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں پاکستانی کرکٹ سے سیاست کو ختم کرنا ممکن ہے؟ کیسے؟ کیا کھلاڑیوں کے انتخاب میں صوبائی نمائندگی کا خیال رکھا جانا چاہئے یا صرف اچھی کارکردگی ہی بنیادی میرٹ ہونا چاہئے؟ کیا کپتان کو کھلاڑیوں کے انتخابی عمل میں کچھ اختیار ہونا چاہئے؟ ------------اپنی رائے اردو، انگریزی یا رومن اردو میں بھی بھیج سکتے ہیں--------------- انظر گل، زیورچ، سویٹزرلینڈ میرے خیال میں کسی کو چاہیے کہ وہ بی بی سی اردو کے بارے میں عامر سہیل کو مطلع کرے کہ اس سائٹ پر اپنے بارے میں لوگوں کی رائے پڑھیں۔ اس کے بعد میرے خیال میں وہ خود ہی مستعفی ہو جانے کے لیے رضا مند ہو جائیں گے کیونکہ ننانوے عشاریہ نو فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ عامر سہیل کو اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
حسن امیر، آسٹریلیا میانداد کی مخلصی پر کسی کو شک نہیں۔ عامر کا کردار سب جانتے ہیں اور ان کی حمایت کر کے جنرل صاحب نے اپنی پوزیشن بھی متنازعہ کر لی ہے۔ عامر سہیل کی چھٹی کی جائے اور پاکستان کرکٹ کو بچانے میں میانداد کا ساتھ دیا جائے۔ زیب عباسی، امریکہ میری رائے میں سعید انور ہی وہ واحد شخص ہیں جو چیف چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔ میری پی۔سی۔بی سے گزارش ہے کہ وہ سعید انور کو موقع دے اور مجھے امید ہے کہ اس اقدام کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
عامر رفیق، لندن، برطانیہ شاید توقیر ضیاء نے عامر سہیل جیسے ناکام کھلاڑی کو اس شرط پر چیف سلیکٹر بنایا تھا کہ وہ جنرل صاحب کے بیٹے جنید ضیاء کو زبردستی ٹیم میں گھسائیں گے۔ عامر سہیل نے یہ کام کر دکھایا اور اب وہ جنرل صاحب کے فیورٹ ہیں اور اس عہدے پر پکے بھی ہو گئے ہیں اور یوں وہ ٹیم کا بیڑا غرق کرتے رہیں گے۔
محمد صابر، سعودی عرب ہماری کرکٹ ٹیم میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کا کرکٹ میں تو کوئی خاص کارنامہ نہیں ہے مگر وہ آج کرکٹ بورڈ میں بڑے بڑے عہدوں پر قبضہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان میں عامر سہیل کا نام سرفہرست ہے اور ان کے بعد رمیض راجہ کا نام آتا ہے۔ عامر سہیل نے ہمیشہ پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچایا ہے۔ وہ نہ تو اچھے کرکٹر، نہ اچھے کپتان، نہ ہی اچھے سلیکٹر اور نہ ہی اچھے انسان ثابت ہوئے ہیں۔ انہیں صرف گندی سیاست کرنی آتی ہے۔ ابرار مشتاق، ہانگ کانگ میرے خیال میں عامر سہیل کو فوراً نکال دینا چاہیے مگر جنرل صاحب ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ان کے بیٹے نے بھی کرکٹ کھیلنی ہے۔ اگر پاکستان نے آئندہ کرکٹ کھیلنی ہے تو سب سے پہلے جنرل صاحب کو اور پھر عامر سہیل کو فارغ کیا جائے۔ ان لوگوں نے کرکٹ کو تباہ کر دیا ہے۔ وقار یونس کو ٹیم سے کیوں نکالا گیا ہے۔ جاوید میانداد دنیا کے بہترین کوچ ہیں۔ خرم شہزاد، فرینکفرٹ، جرمنی عامر سہیل ایک ناکام کھلاڑی رہے ہیں اور ان جیسے آدمی کو چیف سلیکٹر بنانا جنرل توقیر ضیاء کی بڑی بھول ہے۔ اس لیے میرے خیال میں کرکٹ بورڈ کے سربراہ اور چیف سلیکٹر کو لمبی رخصت پر گھر کی راہ دکھانی چاہئے۔
احسان خان، پشاور، پاکستان جنرل توقیر ضیاء عامر سہیل کو کبھی نہیں نکالیں گے کیونکہ عامر نے جنرل صاحب کے بیٹے کو کرکٹ ٹیم میں شامل کیا اور بہت سے مواقع پر جنرل کے کان بھی بھرے۔ اس کے علاوہ عامر کا تعلق امیر اور صاحبِ رسوخ گھرانے سے ہے۔ عامر سہیل کرکٹ کے مستقبل کو متاثر کریں گے خاص طور پر عظیم میانداد اور ایماندار انضمام کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں گے۔ اعجاز افضل، متحدہ عرب امارات عامر سہیل کے باعث پاکستان کو ندامت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ اپنے اختیارات کی بنا پر دوسروں سے بھڑتے رہے ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ناکام کھلاڑی ہونے کے علاوہ چیف سلیکٹر کے فرائض نبھانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ انہیں ماہر نفسیات سے رابطہ کرنا چاہیے۔
کامران خان، کراچی، پاکستان عامر سہیل کو خود تو کھیلنا نہیں آتا، وہ ٹیم کیا سلیکٹ کریں گے۔ جسے کرکٹ کے ہجے نہیں آتے اسے پی۔سی۔بی کا چیئرمین بنا دینے سے تو یہی ہو گا۔ عامر سہیل اور جنرل توقیر ضیاء دونوں ہی بےکار ہیں۔ توقیر ضیاء کی جگہ راشد لطیف کو چیئرمین بنا دیا جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ خدیجہ صائمہ، لندن، برطانیہ پاکستان کرکٹ کو بچانا ہے تو کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو مستعفی ہونا ہو گا۔ اگر آج تک کسی نے استعفیٰ دیا ہے تو وہ راشد لطیف ہیں کیونکہ انہوں نے یہ بات سمجھی کہ سیاست سے کرکٹ نہیں چل سکتی۔
احسان قریشی، کینیڈا عامر سہیل کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انہوں نے بحیثیت کھلاڑی پاکستان اور ٹیم کے لیے کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دیا ہے۔ اس لیے انہیں خود کو خوش قسمت تصور کرنا چاہئے کہ وہ ٹیم کے چیف سلیکٹر ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ ٹیم کو مزید نقصان پہنچائیں انہیں کرکٹ سے علیحدہ ہو جانا چاہئے۔ شاید اسی طرح ان کے کسی کاررنامے کو یاد رکھا جائے۔
کاشف احسان، ایلینائے، امریکہ عامر سہیل نے پوری ٹیم کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے۔ ان کی جگہ سعید انور کو سلیکٹر ہونا چاہئے۔ سعید انور کی ضرورت ابھی ہماری ٹیم کو بھی ہے لیکن ان لوگوں نے نبی کی سنت پر قائم ایک آدمی کو ٹیم سے باہر نکال کر بہت بڑی غلطی کی ہے اور میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر سعید انور کو ٹیم میں یا کرکٹ کے کسی اہم عہدے پر فائز نہیں کیا جاتا تو ہماری ٹیم کا حال ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ ہماری کرکٹ کو ایک نیک آدمی کی ضرورت ہے۔ عامر سہیل کو دھکے مار کر باہر نکال دینا چاہیے۔ عمران فاروق، لاہور، پاکستان میانداد کے کوچنگ کے مختلف ادوار میں ان کے دیگر کرکٹ حکام کے ساتھ تضادات رہے ہیں۔ انہیں کبھی انعام کی رقم میں حصہ چاہیے تھا تو کبھی زیادہ اختیارات۔ کوچ کا ٹیم کی سلیکشن سے کیا لینا دینا کیونکہ اس کا کام صرف کھلاڑیوں کو تربیت دینا ہے۔ محمد طیّب، پاکستان میرا کہنا یہ ہے کہ عامر سہیل اچھے ہیں اور نیوزی لینڈ کے لیے ہماری ٹیم بھی اچھی ہے۔
خالد حسین، ٹورانٹو، کینیڈا اگر کرکٹ میں ہار جیت کے ذمہ دار کوچ اور کپتان ہیں تو پھر کوچ اور کپتان ہی کو چیف سلیکٹر ہونا چاہیے۔ عامر سہیل کا شمار پاکستان ٹیم کے عام کھلاڑیوں میں ہوتا تھا اس لیے مجھے نہیں پتہ کہ انہیں ٹیم سلیکٹ کرنے کی اہم ذمہ داری کس نے سونپ دی ہے۔ بہرحال عامر سہیل اس عہدے کے لیے مناسب نہیں ہیں۔ نجف علی بلتی، کویت مہربانی کر کے کھلاڑیوں کو تھوڑے تھوڑے وقفے سے تبدیل نہ کریں۔ عامر سہیل کو فوراً گھر بھیج کر سعید انور اور وسیم اکرم جیسے اچھے لوگوں کو عامر کی جگہ نامزد کیا جائے۔ محمد جہانگیر، راولپنڈی، پاکستان سیاست ہی کی وجہ سے ہماری کرکٹ اور کرکٹ کے کھلاڑیوں کا مستقبل متاثر ہوا ہے۔ کسی میچ میں ناکامی یا کامیابی کے بعد کوچ اور کپتان ہی ذمہ دار ہوتے ہیں اس لیے انہی دونوں کو ٹیم کی سلیکشن اور تربیت کی کھلی اجازت ہونی چاہئے۔ ٹیم کی کوچنگ کے لیے جاوید میانداد سب سے زیادہ مناسب شخصیت ہیں۔ توقیر ضیاء کو مستعفی ہو جانا چاہئے اور ان کی جگہ یہ ذمہ داری کسی اور کو سنبھال لینی چاہئے۔
محمد یونس، کوہاٹ، پاکستان پاکستان کے چیف سلیکٹر اور سلیکشن کمیٹی کو ماضی کی بری کارکردگی سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور جنرل توقیر ضیاء کو فوج میں واپس جانا چاہئے کیونکہ ’جس کا کام اسی کو ساجھے۔۔۔‘ فضل حبیب ذکی، پاکستان یہ اچھا اقدام نہیں ہے کیونکہ اصل میں کوچ سے مشورہ کرنا چاہیے۔ عامر سہیل کو چاہئے کہ وہ اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جائیں۔ ضمیر الحسن کھوکھر، ملتان، پاکستان عامر سہیل ایک ضدی آدمی ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ کپتان اور کوچ کے خلاف نہ بولیں۔
اعظم خان، شارجہ عامر سہیل کو اگر مزید ان کے عہدے پر رہنے دیا گیا تو وہ پاکستان کو ایسے گڑھے میں دھکیل دیں گے جس سے باہر نکلنا بہت ہی مشکل ہو گا۔ شہزاد چیمہ، راولپنڈی، پاکستان پاکستان کرکٹ کا المیہ یہ ہے کہ ہر کھلاڑی اپنی مرضی کے مطابق کھیلنا چاہتا ہے۔ کھلاڑیوں میں ہم آہنگی اور باہمی رابطے کا فقدان ہے اور ٹیم میں جانبداری کا رجحان ہے۔ میرے خیال میں ایسی صورت حال میں کپتان اور کوچ کو سلیکشن کمیٹی کا رکن ہونا چاہئے۔
امجد شیخ، ملتان، پاکستان پاکستانی کرکٹ کے بیش بہا ٹیلنٹ کو ضائع ہوتا دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔ سیاست اور اقرباء پروری نے کرکٹ بورڈ میں اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔ لیکن کرکٹ کو سیاست سے پاک کرنا بالکل ممکن ہے۔ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے فوجی جنرل کو ہٹا کر عمران خان، ظہیر عباس، میانداد، سعید انور جیسے کھلاڑیوں کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جانا چاہئے۔ عامر سہیل نے ہمیشہ تعصب کا مظاہرہ کیا ہے۔ عثمان خان، برطانیہ سیاست اور بدعنوانی پاکستان کے تمام اداروں میں موجود رہے گی۔ ان میں کمی صرف اسی صورت ممکن ہے اگر ملک میں شفاف اور منصفانہ نظام متعارف کرایا جائے۔ کھلاڑیوں کے انتخاب میں صوبائی نمائندگی کے بجائے حکومت کو پسماندہ علاقوں کو زیادہ فنڈ دے کر وہاں کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ لیکن ٹیم کا انتخاب صرف میرٹ کی بنیاد پر کیا جانا چاہئے۔ کپتان، کوچ اور ٹیم کے منیجر کو سلیکشن کے عمل میں شامل کیا جانا چاہئے۔
مسرور احمد، ہیوسٹن، امریکہ مجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ذاتی پسند اور ناپسند کرکٹ پر نہایت برے اثرات مرتب کر رہی ہے اور کرکٹ میں عوام کی دلچسپی میں روز بروز کمی آتی جا رہی ہے۔ میری التجا ہے کہ منہ پھٹ چیف سلیکٹر اور سابق آمر فوجی حکمرانوں کو کرکٹ سے نکال باہر کریں اور تمام ذمہ داریاں مخلص لوگوں کے حوالے کی جائیں۔ اسد خان، کراچی، پاکستان جب تک کرکٹ بورڈ کا صدر دفتر لاہور میں رہے گا اور اس کا سربراہ ایک فوجی افسر ہو گا، اس وقت تک پاکستان کرکٹ انہی مشکلات سے دوچار رہے گی۔ اس لیے براہ کرم کرکٹ بورڈ کی باگیں سول انتظامیہ کو سونپ دیجئے۔ انجم نواز، جاپان عامر سہیل کو نکال دیں، باقی سب ٹھیک ہے۔
نعمان احمد، راولپنڈی، پاکستان ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فوجی جرنیلوں نے ملک کے ہر ادارے کو برباد کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ جب سے توقیر ضیاء نے کرکٹ بورڈ کا چارج سنبھالا ہے اس وقت سے اس ادارے اور پاکستان ٹیم کا زوال شروع ہو گیا ہے اور ٹیم کو کئی مرتبہ تاریخی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ میرے خیال میں ان مسائل کا واحد حل یہ ہے توقیر ضیاء اپنا عہدہ چھوڑ دیں اور ان کی جگہ کسی غیر متنازعہ شخصیت کو تعینات کیا جائے۔
قمر الٰہی، اڈمونٹن، کینیڈا عامر سہیل ایک مغرور شخص ہیں اور مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ان میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ وہ چیف سلیکٹر بنے ہوئے ہیں۔ اس قدر زیادہ تنخواہ لینے کے باوجود اگر وہ ٹیم کی سلیکشن کے معاملے میں کوچ اور کپتان کو فون نہیں کر سکتے تو اس سے بڑھ کر اور کیا بدمعاشی ہو سکتی ہے۔ ان کے بارے میں بالکل صحیح کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کھلاڑیوں سے بدلے لینا شروع کر دیے ہیں۔ چیف صاحب عامر کو کیوں مستعفی ہونے کو کہیں گے کیونکہ عامر سہیل نہ چیف صاحب کے لڑکے کو جو سلیکٹ کیا تھا اور بعد میں فضول انٹرویو دے کر اپنے فیصلے کا دفاع بھی کیا تھا۔ بےنام عامر سہیل جس عہدے پر فائز ہیں وہ دراصل اس کے لائق نہیں ہیں۔ انہیں نہ صرف برطرف کر دینا چاہئے بلکہ انہیں اپنے رویے کی سزا بھی ملنی چاہیے۔ محمد اسلم، ہانگ کانگ عامر سہیل کو اب چلے جانا چاہئے کیونکہ وہ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔
افعان انصاری، امریکہ میری رائے میں عامر سہیل ایک بد دماغ اور ضدی شخص ہیں۔ پاکستان کے لیے انہوں نے بطور کھلاڑی کوئی قابلِ ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا اور نہ ہی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جاوید میانداد کرکٹ کے ہیرو اور گورو ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ عامر سہیل کو ان کے عہدے سے ہٹا کر کسی ایسے شخص کو نامزد کرے جو کرکٹ اور پاکستان سے مخلص ہو۔ عاطف مرزا، آسٹریلیا میرے خیال میں پوری سلیکشن کمیٹی کو ہی برخاست کر دینا مسئلے کا بہترین حل ہے۔ صرف کپتان اور کوچ کو سلیکشن کا ذمہ دار ہونا چاہئے اور کرکٹ بورڈ کا کام محض کوچ اور کپتان کا انتخاب ہونا چاہئے۔ اس طریق کار سے مستقبل میں تمام جھگڑے ختم ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر افضال ملک، راولپنڈی، پاکستان عامر سہیل ایک بار پھر نئے تنازعہ کا مرکزی محرک ہیں۔ جنید ضیاء کا فیصلہ ہو یا ٹیم کی سلیکشن کا، عامر سہیل کی من مانی کا پہلو ہمیشہ سامنے آیا ہے۔ آخر عامر میں ایسی کون سی بات ہے جو انہیں آج تک برداشت کیا جا رہا ہے۔ انہیں فوری طور پر باعزت طریقے استعفا دے دینا چاہئے کیونکہ ان کا کردار اب پوری طرح قوم کے سامنے آ چکا ہے۔ صداقت خان، برطانیہ میرے خیال میں سلیکٹر کا عہدہ ختم کر کے کوچ کو سلیکشن کا اختیار ہونا چاہئے۔ ویسے پاکستان میں قابلیت کوئی معیار نہیں ہے۔
صالح محمد، راولپنڈی، پاکستان مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ عامر سہیل کو چیف سلیکٹر کس بنیاد پر بنایا گیا ہے؟ وہ ایک اوسط درجے کے کھلاڑی تھے اور اپنی بدتمیزی اور بدمعاشی کی وجہ سے مشہور تھے۔ ایسے آدمی کو تو سلیکٹر ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔۔لیکن توقیر ضیاء کے ساتھ تعلقات بھی تو اچھے رکھنے ہیں۔۔۔؟ عامر گورسی، کویت یوں لگتا ہے کہ تمام کھلاڑی اپنے انا اور پیسے کے لیے کھیلتے ہیں اور انہیں ملک و قوم سے کوئی پیار نہیں ہے۔ جب تک ٹیم سے انا پرستی کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک پاکستان ٹیم اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتی۔
شاہنواز نصیر، کوپن ہیگن، ڈنمارک عمدہ کارکردگی ہی سلیکشن کی بنیاد ہونی چاہئے نہ کہ کسی کوچ کا بھانجا یا بورڈ کے سربراہ کا بیٹا۔ احمر خان، پاکستان جب تک عامر سہیل جیسے لوگ سلیکٹر بن کر کرسی پر قابض رہیں گے ٹیم میں سیاست ختم نہیں ہو سکتی۔ کرکٹ صرف ٹیلنٹ کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ گزشتہ پچاس برس سے صرف ایک صوبے سے کھلاڑی ٹیم میں شامل کیے جا رہے تھے لیکن اب کراچی، بلوچستان اور پشاور سے بھی کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا جانے لگا ہے۔
سید فرحاج علی، ابو ظہبی میرے خیال میں توقیر ضیاء اس کام کے لیے قطعاً مناسب آدمی نہیں ہیں۔ فوجی دوسری جگہوں پر تو اچھے لگتے ہیں مگر اس جگہ پر نہیں کیونکہ اس کا ڈنڈا خود فوج کم لیکن عامر سہیل زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ فدا ایچ زاہد، کراچی، پاکستان سیاست اور کھیل دو مختلف چیزیں ہیں۔ ٹیم کی سلیکشن خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ چونکہ کوچ اور کپتان براہ راست ذمہ دار ہوتے ہیں اس لیے ٹیم کے انتخاب میں ان کی رائے کو ترجیح دینی چاہیے۔
نوید اعوان، کوپن ہیگن، ڈنمارک جب سے فوج نے کرکٹ کا انتظام سنبھالا ہے اس وقت سے پاکستان میں کرکٹ سیاست کا کھیل بن کر رہ گئی ہے۔ کرکٹ کے فوجی سربراہان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کرکٹ میں بھی ہر مسئلہ اسی طرح حل کرنےکی کوشش کرتے ہیں جیسے وہ فوج میں مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ فوجی طرز عمل زندگی کے دیگر شعبوں میں کارگر نہیں ہو سکتا خصوصاً کرکٹ بورڈ کے معاملات میں۔ تمام افسران اپنے کاغذات صاف رکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں اور تمام غلط فیصلوں کا ذمہ دار اپنے ماتہتوں کو ٹھہراتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے فقدان کی وجہ بورڈ کے سربراہ ہیں۔ راج کمار، پاکستان میرے خیال میں عامر سہیل کو کسی بھی صورت پاکستان ٹیم کا سلیکٹر نہیں ہونا چاہئے بلکہ مثبت رویے کے حامل کسی سینیئر آدمی کو ان کی جگہ اس عہدے پر مقرر کرنا چاہیے۔
شفاعت خان، کویت اگر ہم پاکستان کے تمام علاقوں سے آنے والے کھلاڑیوں کو برابر کا موقع دینا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں صرف میرٹ کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن ہمارے یہاں میرٹ کا بھی کوئی خالص معیار نہیں ہے کیونکہ کھلاڑیوں کا انتخاب چیف سلیکٹر، ٹیم کے کپتان اور کوچ کی ذاتی پسند اور ناپسند کی بنا پر کیا جاتا ہے مثال کے طور پر سابق کپتان عمران خان اپنی ذاتی پسند اور مرضی کی بنا پر ٹیم منتخب کرتے رہے ہیں۔ عام طور پر ٹیم کا انتخاب لاہور اور کراچی میں لگنے والے کرکٹ کیمپوں سے کیا جاتا ہے۔ لاہور کیمپ قدرے مضبوط کیمپ تصور کیا جاتا ہے اس لیے بیشتر کھلاڑی پنجاب سے لیے جاتے ہیں جبکہ کراچی کیمپ سے ٹیم میں شامل کیے جانے والے کھلاڑیوں کی تعداد مقابلتاً بہت کم ہوتی ہے۔ پنجاب کیمپ میں دیگر صوبوں کے کھلاڑیوں کو قطعاً شامل نہیں کیا جاتا جبکہ کراچی کیمپ میں بالائی سندھ اور دیگر صوبوں کے کھلاڑیوں کو جگہ دی جاتی ہے۔ میرے خیال میں یہ طرز عمل دیگر صوبوں کے مواقع چھین لینے کے مترادف ہے۔
محمد مشتاق، ہانگ کانگ میرے خیال میں عامر سہیل کو ہٹا کر ان کی جگہ سعید انور کو لایا جائے کیونکہ عامر سے بہت غلط فیصلے ہوئے ہیں۔ اور میرے خیال میں سعید انور نیک نیت آدمی ہیں اور وہ درست فیصلےکریں گے۔ اس وقت ٹیم میں وقار یونس کی ضرورت ہے اس لیے انہیں واپس لایا جائے۔ عمران حیدر، لاہور، پاکستان میرے خیال میں عامر سہیل نے یونس خان، شاہد آفریدی، مشتاق احمد اور ثقلین مشتاق کو مسترد کر کے ایک صحیح قدم اٹھایا ہے کیونکہ ان کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی سے آپ بھی واقف ہیں۔ البتہ عامر سہیل نے چند غلط قدم بھی اٹھائے ہیں جن میں سے ایک وقار یونس کا ٹیم میں شامل نہ کیا جانا بھی ہے۔
عاصم شیخ، امریکہ میرے خیال میں سیاست کو کھیل سے علیحدہ ہونا چاہیے۔ ہم امراء کے بچوں کو کرکٹ کھیلنے کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ امریکہ میں باسکٹ بال کے کھلاڑیوں کو میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں کرکٹ اس قدر شوق سے کھیلی جاتی ہے کہ کرکٹ کے اچھے کھلاڑی تلاش کرنا مشکل کام نہیں ہے لیکن ہمارے سلیکٹرز امراء یا سیاستدانوں کے بیٹوں کو ٹیم میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں غریبوں کو بھی کرکٹ کھیلنے کا موقع دینا چاہئے۔ ندیم، لاہور، پاکستان عامر سہیل ایک جذباتی شخص ہیں انہیں مہربانی کر کے کرکٹ سے علیحدہ ہی کر دیں۔ اگر آپ پاکستان ٹیم کو بنانا چاہتے ہیں تو عامر سہیل کو آؤٹ کرنا ہو گا۔ نہ صرف عامر کو بلکہ یونس خان، ثقلین مشتاق اور راشد لطیف کو بھی ٹیم سے آؤٹ کرنا ہو گا۔ عامر شاہ مشوانی، ہری پور، پاکستان پاکستان کرکٹ کے سلیکٹرز اور کوچ نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ پاکستان سے مخلص نہیں ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو چاہئے کہ وہ سلیکشن کمیٹی کو تبدیل کر دیں۔
وحید خان، جرمنی پاکستان کرکٹ کا موجودہ بحران ختم کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ عامر سہیل کو چیف سلیکٹر کے عہدے سے فارغ کر دیا جائے کیونکہ اس وقت ہر کسی کو انہی سے شکایت ہے۔ محمد فرقان، لاہور، پاکستان عامر سہیل کو کرکٹ کی انتظامیہ سے باہر ہونا چاہیے۔ معین الدین حمید، کینیڈا عامر سہیل جیسی متنازعہ شخصیت کو بحیثیت چیف سلیکٹر نامزد کرنا غالباً توقیر ضیاء کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ عامر بحیثیت کھلاڑی بہت سے ناپسندیدہ واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ چیف سلیکٹر کو ٹھنڈے مزاج کا حامل ہونا چاہئے جبکہ عامر نے چیف سلیکٹر بنتے ہی بعض سینیئر کھلاڑیوں سے بدلے لینا شروع کر دیے۔ گندی سیاست کے باعث پاکستان کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ قومی ٹیم کا انتخاب صرف میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہئے نہ کہ صوبائی یا علاقائی بنیادوں پر۔ سلیکشن میں ٹیم کے کپتان کو بھی ووٹ کا حق ہونا چاہیے لیکن کوچ کو اس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے خاص پور پر ایسے وقت جو امیدوار کھلاڑیوں میں کوچ کے رشتہ دار بھی شامل ہوں۔ آصف شاہنواز، لاس اینجلس، امریکہ اندھیر نگری، چوپٹ راجہ
ڈاکٹر افضال ملک، راولپنڈی، پاکستان عامر سہیل کو عزت کے ساتھ خود ہی رخصت ہوجانا چاہئے، یہ نہ ہو کہ ’بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے‘ والی بات ہو جائے۔ ایاز شیراز، کراچی، پاکستان اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کو کمرشل کمپنی کے طور پر چلایا جائے تو کرکٹ سے سیاست کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ جب چیئرمین اپنے بیٹے اور کوچ اپنے بھانجے کے لئے قانون توڑ سکتے ہیں تو چیف سلیکٹر کیوں پیچھے رہیں۔ شمسل بلوچ، کیچ، پاکستان جب ایک صوبہ ہر چیز پر اپنی بالادستی قائم رکھنا چاہے تو یہی ہوگا۔ گزشتہ چھپن سال سے بلوچستان کا ایک بھی بندہ ٹیم میں نہیں آیا۔ یاسر احمد، ٹورنٹو، کینیڈا پاکستان کرکٹ ٹیم جنرل توقیر الیون بن چکی ہے۔
عبیدالرحمان مغل، بریڈفورڈ، انگلینڈ جب فوج میں سیاست، عدلیہ میں سیاست تو یہاں کیوں نہیں۔ جب فوجیوں کو نجی شعبوں میں تعینات کیا جائے گا تو یہی ہوگا۔ عمران زیدی، واشنگٹن، امریکہ جب کپتان ہی ہار جیت کا ذمہ دار ہے تو اسے اس ٹیم کے کھلاڑیوں کے انتخاب میں بھی پوری طرح شامل ہونا چاہئے، جس کی وہ قیادت کر رہا ہے۔ جب دنیا میں ہر جگہ ٹیم کی قیادت کرنے والے کو انتخاب کے عمل میں شریک کیا جاتا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ اویس چوہدری، جرمنی سلیکٹر کا عہدہ ختم کرکے یہ ذمہ داری کوچ کو سونپ دینی چاہئے۔
طاہر فاروقی، کراچی، پاکستان تعصب آج سے نہیں پہلے دن سے ہو رہا ہے اور یہ ملک شاید اسی لئے بنا ہے۔ آصف اقبال نے ٹی وی پر کہہ دیا تھا کہ ہم نے یہ لکیر کھینچ دی ہے آپ کے لئے، اس سے آگے بڑھنے کی کوشش مت کرنا۔ ابھی بھی سارے کھلاڑی سفارش پر بھرتی کئے گئے ہیں جس کی مثال ہماری ٹیم کی کارکردگی ہے۔ صرف کراچی کی مقامی ٹیم سے ٹیسٹ ٹیم میچ کھیل کر دیکھ لے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||