انڈیا کے انتخابات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے چودہویں عام انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی مضبوط معیشت اور پاکستان کے ساتھ قیامِ امن کو انتخابی عمل میں استعمال کر کے کامیابی کی امیدیں لگائے ہوئے ہے۔ دس مئی کو مکمل ہونے والے ان مرحلہ وار انتخابات میں سڑسٹھ کروڑ ستر لاکھ ووٹر حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ ان انتخابات کے نتائج مئی کے وسط میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ آپ کے خیال میں ان انتخابات میں جیت کس کی ہو گی؟ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی میں قائم حکمراں قومی اتحاد کی ممکنہ کامیابی پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لئے کیسا شگون ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں سردار مصور حسین، کراچی: بی جے پی یہ انتخابات جیتے گی جو پاکستان اور کشمیر کے لئے اچھا نہیں ہے۔ طاہر چودھری: کانگریس یا بی جے پی کوئی بھی جیتے، پاک انڈیا تعلقات اس پر منحصر نہیں ہونگے۔ کانگریس یا بی جے پی پہلی بار نہیں جیتیں گی۔ انیس سو اکہتر کی جنگ کانگریس کے دور میں ہوئی اور چند ماہ پہلے تک تو بی جے کے دور میں فوجیں سرحد پر تھیں۔ تنظیم حاجی، پشاور: کانگریس اچھی پارٹی ہے۔ سونیا گاندھی جیتے تو صحیح ہوگا۔ محمد شعیب بلوچ، کراچی: انڈین الیکشن میں بی جے پی اور اس کے اتحادی جیت جائیں گے جس کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہونگے۔ شکیل صدیقی، وِنڈسر، امریکہ: کوٹِلیا کے پیروکاروں سے امید کرنے والا غلطی کرے گا۔ جیو اور جینے دو کے تحت دونوں ملکوں کے عوام کو حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ پچپن سال گزر گئے ہیں، اب بھی نہ مانیں تو ان کی غلطی ہے۔ ووٹ لینے کے لئے انڈیا میں سب سے پہلے پاکستان کو گالی دی جاتی ہے۔ جاہل اور غریب عوام کو کیا پتہ؟ ظفر حسین، فیصل آباد: بھارتی انتخابات میں وہی پارٹی جیتے گی جو مسلمانوں اور پاکستان کے زیادہ خلاف ہوگی۔
نعیم فاروقی، کراچی: ہم پہلی بار انڈین سیاست میں ایک واضح فرق دیکھ سکتے ہیں۔ ماضی میں انڈین پارٹیز نے پاکستان مخالف کارڈ کا استعمال کیا تھا۔ لیکن موجودہ انتخابات میں برسراقتدار جماعت نے اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی ہے اور انتخابی مہم پاکستان مخالف جذبات پر مبنی نہیں ہے۔ انڈین لوگ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ویلکم کررہے ہیں۔ ظفر کریم خان، پشاور: ہر ملک کی اپنی قومی ترجیحات ہوتی ہیں۔ اگر انڈیا یہ کہتا ہے کہ اسے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے ہیں تو اسے کوشش بھی کرنی چاہئے۔ورنہ یہ سب انتخابی مہم کے نعرے ثابت ہونگے۔ محمد شاہزیر خان، اسلام آباد: میری نیک خواہشات کانگریس کے ساتھ ہیں۔ وہ بی جے پی سے بہتر ہے۔ ریاض خان، گھوٹکی سندھ: میرے خیال میں جیت تو این ڈی اے کی ہوگی کیونکہ بی جے پی نے ترقیاتی کام کیے ہیں۔ امان اللہ مری، بینگ کاک: اس انتخاب میں بی جے پی کے جیتنے کے امکانات ہیں کیونکہ اپوزیشن جماعتیں کمزور ہیں۔ ساتھ ہی بی جے پی نے کافی بولڈ فیصلے کیے ہیں۔ اگر بی جے پی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر گامزن رہتی ہے تو اس سے خطے میں امن قائم ہوگا۔ ظفر محمد خان، مانٹریال: بی جے پی پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا قدرتی ری ایکشن ہے اور جب تک مذہبی انتہاپسندی پاکستان میں جنون کی شکل میں جاری رہے گی انڈیا میں بی جے پی کا پلڑا بھاری رہے گا۔ بھارت کے مسلمانوں کو بھی بی جے پی کا ساتھ دینا چاہئے۔ عمر فاروق، برمِنگھم: انڈیا یا پاکستان میں چاہے جو بھی اقتدار میں آئے، پالیسی وہی رہنی چاہئے۔ اقتدار میں تبدیلی کے ساتھ پالیسی نہیں بدلنی چاہئے۔
وقار احمد، ریاض: مجھے ڈر ہے کہ الیکشن جیتنے کے بعد بی جے پی بدل جائے گی اور پھر مسلم کش اور پاکستان مخالف سرگرمیاں شروع کردے گی کیونکہ بدلنا اس کی فطرت ہے اور پاکستان کی طرف سے اتنا کچھ ہونے کے باوجود وہ اتنا قریب نہیں آئی جتنی توقع تھی۔ سید ایم بادشاہ، امریکہ: بری مسجد کا انہدام اور گجرات میں پانچ ہزار سے زیادہ مسلمانوں کا قتلِ عام بی جے پی کے وہ جرائم ہیں جو ہمیں کبھی نہیں بھولنے چاہئیں۔ حافظ ایم نعیم اختر آرائیں، لاہور: پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات اور ایک روزہ اور ٹیسٹ سیریز جیتنے کی وجہ سے بی جے پی ہی کامیابی حاصل کرے گی۔ آصف لودھی، ڈیرہ غازیخاں: کانگریس کے جیتنے میں ہی انڈیا کی بہتری ہے۔ بی جے پی مسلمانوں کی دشمن ہے، اسے جیتنا نہیں چاہئے۔ شکیل صدیقی، امریکہ: بیجے پی انتخابات جیتے گی۔ پھر پاکستان کے ساتھ بڑے معاہدے ہوں گے۔ واجپئی ریٹائر ہو جائینگے اور ایک ایڈوانی اگلے وزیرِ اعظم ہوں گے۔ ندیم راجہ، پاکستان: بھارتی جنتا پارٹی ہی جیتے گی جس نے انڈیا اور پاکستان کے عوام کو پچیس سال بعد ملایا ہے۔ بس جو تھوڑی بہت ویزوں پر اب بھی سختی موجود ہے، کم ہونی چاہئے۔ اے جبار ناصر، کراچی: بی جے پی ہی جیتے گی جو پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ وقار احمد، ریاض: مجھے ڈر ہے کہ الیکشن جیتنے کے بعد بی جے پی بدل جائے گی اور پھر مسلم کش اور پاکستان مخالف سرگرمیاں شروع کردے گی کیونکہ بدلنا ان کی فطرت ہے اور پاکستان کی طرف سے اتنا کچھ ہونے کے باوجود وہ اتنا قریب نہیں آئے جتنی توقع تھی۔
اصغر خان، برلن: پاکستان اور اس کے عوام کو بی جے پی کے پاکستان مخالف بیانات نہیں بھولنے چاہئیں جو وہ ماضی میں دیتی رہی ہے۔ موجودہ حالات جو بہتری کی طرف جا رہے ہیں اس میں بی جے پی اور واجپئی کی نسبت پاکستانی حکومت اور عوام کا زیادہ ہاتھ ہے۔ اشرف بنیری: بی جے پی واجپئی کی سیاست کی وجہ سے اس دفعہ بھی انتخابات جیتے گی اور بی جے پی کی کامیابی ہی پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہونے کے لئے نیک شگون ہوگی۔ ظفر کریم خان، پشاور: ہر ملک کی اپنی قومی ترجیحات ہوتی ہیں۔ اگر انڈیا کو لگتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے چاہئیں تو وہ تبھی ایسا کرے گا ورنہ یہ سب تو الیکشن جیتنے کے نعرے ہیں۔ ۔ شیر یار خان، سنگاپور: بی جے پی کی ماضی کی حکومت سے ایسا لگتا ہے کہ اس دفعہ بھی بی جے پی کی ہی حکومت بنے گی کیونکہ بی جے پی میں واجپئی ہیں۔ جب تک واجپئی ہیں، بی جے پی ہمیشہ جیتے گی۔ پاکستان میں بھی ہر حکومت نے واجپئی جی کو اچھا سمجھا ہے اور انہیں ایک سمجھدار رہنما مانا جاتا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں اس جماعت نے پاکستان اور جنوبی ایشیاء میں حود کو قابلِ بھروسہ جماعت اور پاکستان کے ساتھ ایک ممکنہ جنگ کو ٹال کر خود کو ایک ذمہ دار ملک ثابت کیا ہے۔ بی جے پی کی پالیسیاں اردو کے ایک محاورے کے مطابق ہیں کہ ’دیکھو شیر کی آنکھ سے۔۔۔۔۔‘ فیصل چانڈیو، حیدرآباد: مجھے نہیں لگتا کہ جو بھی حکومت آئے گی وہ اتنی ہی پاکستان کے ساتھ تعلقات کے لئے سنجیدہ ہوگی جتنی کہ یہ ہے۔ جیسے ہی حکومت بن جائے گی عوام کو پھر اسی طرح پیسنے کا عمل شروع ہو جائے گا جیسے تیسری دنیا میں ہوتاہے۔ محمد طاہر، ریاض: انڈیا کے ان انتخابات میں بی جے پی کی ہی حکومت بنے گی۔ جہاں تک پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بات ہے تو یہ تعلقات اب اچھے ہی ہوتے رہیں گے چاہے حکومت بی جے پی کی بنے یا کانگریس کی۔ مظفر انیس، کراچی: ان دنوں بی جے پی ہی فیورٹ پارٹی ہے۔ واجپائی صاحب کو انتہا پسند ہندو عناصر سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہئے۔ سیف اللہ خان سالارزئی، پاکستان: بھارتی جنتا پارٹی نے جو اقدامات کئے ہیں وہ پاکستان کے حق میں بھی بہتر ہیں اور وہاں کے مسلمانوں کے بھی۔ اس سے پہلے کسی پارٹی نے ایسا قدم نہیں اٹھایا۔ بی جے پی ایک ترقی پسند پارٹی ہے اور اس کے الیکشن جیتنے سے بھارت کے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ احمد پشتون، اسلام آباد: بی جے پی ان انتخابات کا فائدہ اٹھائے گی اور پاکستان کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ خورشید عالم شیخ، انڈیا: بی جے پی ایک فرقہ وارانہ جماعت ہے جو مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ اس وقت پاکستان اور مسلمانوں سے جو دوستی کے گن گائے جا رہے ہیں وہ دراصل موقعہ پرستی ہے اور انتخابات جیتنے کے بعد وہ پھر سے اپنا فرقہ پرست چہرہ دکھائے گی۔
محمد عامر خان، کراچی: بی جے پی نے اپنا ایک اچھا امیج بنا لیا ہے۔ پاکستان سے تعلقات میں بہتری ہی بی جے پی کی کامیابی کی کنجی ہے۔ دونوں طرف کشیدگی کم ہونے سے عوام سکون محسوس کر رہی ہے اور مجھے بی جے پی کی جیت یقینی لگ رہی ہے اور کانگریس کے رہنما عوام میں مقبولیت حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ اشفاق نذیر، جرمنی: بھارت میں آئیندہ حکومت بی جے پی کی ہونے کا بہت زیادہ امکان ہے۔ بی جے پی کی کامیابی کے نتیجے میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے امکانات روشن ہیں اگرچہ بی جے پی ماضی میں پاکستان مخالف بیان دیتی رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||