بھارتی انتخابی تشدد، انیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں پارلیمان کے ایوان زیریں یا لوک سبھا کے انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران تشدد کے واقعات کی خبریں ملی ہیں جن میں انیس افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ تشدد کے ایک واقعہ میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے سربراہ عمر عبداللہ ایک واقعہ میں بال بال بچ گئے۔ ان کا قافلہ سری نگر سے جنوب کی جانب سفر کر رہا تھا کہ مبینہ طور پر شدت پسندوں نے بارودی سرنگ میں دھماکہ کر دیا۔ عمر عبداللہ اس واقعہ سے دس منٹ قبل وہاں سے گزرے تھے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں تشدد میں اس وقت ایک فوجی ہلاک اور چھ افراد زخمی ہوگئے جب مشتبہ شدت پسندوں نے پولنگ سٹیشنوں پر حملے کیے۔ اس کے علاوہ کپواڑہ میں بھی تشدد ہوا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق بھارت کے انتظام جموں اور کشمیر میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں پولیس والے، ووٹر اور الیکشن کا عملہ شامل ہے۔ منگل کی صبح بھارت میں انتخابات کا پہلا مرحلہ شروع ہوا۔ اس مرحلہ میں تیرہ ریاستوں اور تین وفاقی علاقوں میں پولنگ ہو رہی ہے۔ مجموعی طور پر یہ انتخابات پانچ مراحل میں ہوں گے جن میں سڑسٹھ کروڑ کے لگ بھگ شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لئے بیس لاکھ سے زیادہ سکیورٹی اہلکار فرائض انجام دیں گے۔ اطلاعات کے مطابق سری نگر سے ساٹھ کلومیٹر دور رفیع آباد گاؤں میں مشتبہ شدت پسندوں نے پولنگ سٹیشن کے باہر تعینات فوجی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ جبکہ بانڈی پورہ میں ایک پولنگ سٹیشن کے باہر نصب بم پھٹنے سے انتخابی عملے کے دور ارکان سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||