BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 April, 2004, 00:14 GMT 05:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دیکھیں ذرا کس میں کتنا ہے دم

-
بھارتی سیاسی جماعتوں کے پرچم
ہندوستان میں چودھویں لوک سبھا کے انتخابات کئی نوعیت سے تاریخی اہمیت کے حامل ہیں اس بار جہاں ہائی ٹیک انتخابی مہم چل رہی ہے وہیں پورے ملک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال پہلی بار ہو رہا ہے۔
ابھی تک کی تصویر یہی ہے کہ انتخابات میں مقابلہ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے سیکولر اتحاد اور حکمراں بی جے پی کے این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ کے درمیان ہے بلکہ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتخابات سونیا گاندھی بمقابلہ اٹل بہاری واجپئی ہیں۔

لیکن یہ وہ موجودہ تصویر ہے جو سبھی کو ظاہری طور پر دکھا ئی دیتی ہے ۔کہا جاتا ہے کہ کرکٹ کے کھیل کی طرح سیاست میں بھی آخری گیند تک کسی بھی طرح کی پیشین گوئی انتہائی مشکل امر ہے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ فی الوقت ملک کی جو صورتحال ہے اس لحاظ سے ہر حلقہ انتخاب میں تین اشیاء پر مشتمل کیمسٹری کام کرنے والی ہے۔

پہلی تو یہ کہ ہر حلقہ انتخاب کے مقامی مسائل کے ساتھ ذات پات کے اعداد و شمار کیا ہیں؟ دوسرے پارٹی کے روایتی ووٹوں کی صورت حال کیا ہے؟ اور آخری میں خود امیدوار کی اپنی طاقت اور وسائل کیا ہیں؟۔ جو پارٹی ان تینوں پہلوؤں میں توازن برقرار رکھ پائے گی وہی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے والی ہے۔

اس مفروضے کے تحت مختلف جماعتو‌ں کی اچھائیوں اور خامیوں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے جس سے ممکن ہے کی انتخابات کے بعد کی صورت حال کا اندازہ ہو سکے۔
گزشتہ دسمبر میں اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد کانگریس کی حالت خستہ تھی لیکن خود پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کی سخت محنت سے اب کانگریس کی حالت قدرے بہتر نظرآ تی ہے ۔

کانگریس نے مختلف ریاستوں میں ہم خیال جماعتوں کے ساتھ جہاں اتحاد کیا ہے وہیں راہل گاندھی کے پارٹی میں آنے سے پارٹی کارکنان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ خود محترمہ گاندھی کے روڈ شو یعنی عوامی رابطہ مہم نے پارٹی کی مہم کو جلا بخشی ہے۔لیکن اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط امیدوارو‌ں کا انتخاب کانگریس کے لیے تقریبا پچاس سیٹوں پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے جس کے سبب کانگریس کا اقتدار میں آنا ذرا مشکل لگتا ہے۔

دوسری طرف بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ میدان میں ہے جس کے متعلق ابھی تک کے جائزوں سے یہی پتہ چلتا ہے کہ وہ دوبارہ اقتدار کیطرف گامزن ہے۔

لیکن بی جے پی کے پاس بھی پریشانیاں کم نہیں ہیں پہلی بات تو یہ کہ ہریانہ، کشمیر اور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں میں اس نے اپنے اتحادی کھو دیئے ہیں دوسری طرف پارٹی نے ملک کے بڑے بڑے مسائل جیسے قومی سلامتی، خارجہ تعلقات، اسٹاک مارکیٹ وغیرہ پر زیادہ توجہ دی ہے ۔

جبکہ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بے روزگاری، غریبی، کسانوں کے مسائل، صحت عامہ اور تعلیمی شعبوں پر پارٹی مطلوبہ توجہ نہیں دے سکی ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ پارٹی نے اکثر موجودہ ارکان پارلیمنٹ کو ٹکٹ دیا ہے جو اسکے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

کانگریس اور بی جے پی کی انھیں کمزوریوں سے دوسری علاقائی پارٹیا‌ں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

ایک عام قیاس یہ ہے کہ این ڈی اے سے ناراض رائے دہندگان کانگریس کو ووٹ دیں گے اور کانگریس سے ناراض ووٹرز این ڈی اے کو ووٹ دے سکتے ہیں۔
لیکن تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ قیاس آرائی بھی زیادہ درست نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ ان علاقوں میں ووٹر تیسرا راستہ اختیار کر سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اسکا فائدہ علاقائی جماعتوں کو ہی ہوگا۔

اور اگر یہی عوامل کار فرما رہے تو انتخابات کے بعد کانگریس اور بی جے پی کی قیادت کے علاوہ ایک تیسرا محاذ وجود میں آسکتاہے جس کے ابھی سے تذ کرے بھی شروع ہوگئے ہیں۔

اگر واجپئی کا کرشمہ اور این ڈی اے کی لہر کار گر ثابت ہوگئی تو اس بات کے امکانات پوری طرح سے روشن ہیں کہ این ڈی اے اقتدار میں دوبارہ واپس آسکتا ہے۔ اوراگر کانگریس کو بھی قدرے سیٹیں کم ملیں تو تیسرے محاذ کی تشکیل کے راستے ہموار ہو سکتے ہیں۔

این ڈی اے اور کانگریس کی ناکامی کے بعد دونوں ہی کے ہم خیال اتحادی ایک اسٹیج پر جمع ہو سکتے ہیں سابق وزیراعظم وی پی سنگھ نے تو اسکا اشارہ کیا ہی ہے لیکن اس سے قبل بائیں بازو کے قائدین بھی اس طرح کے اشارے کرتے رہے ہیں۔

لیکن ایسی صورت میں وزات عظمی کے کئی دعویدار ہو سکتے ہیں اور شاید یہی ایک پیچیدہ سوال ہے جسکی وجہ سے انتخابات سے قبل کوئی تیسرا محاذ نہیں بن سکا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد