نکسلی تشدد اور بھارتی الیکشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست بہار کے سرحدی ضلع نوادہ میں جب کسی کو ازراہ مذاق دھمکی دینی ہو تو وہاں کے لوگ کہتے ہیں ’چھ انچ چھوٹا کر دیں گے‘ مگر سر کو دھڑ سے علیحدہ کرنے کا یہ علامتی فقرہ جب اس علاقے میں سرگرم نکسلائٹ تنظیم کے کسی پوسٹر یا وال پینٹنگ کے ذریعے لوگوں تک پہنچتا ہے تو مزاج کافور اور مصیبت یقینی ہو جاتی ہے۔ جب سر قلم کرنے کا یہ اعلان ماؤ نواز نکسلی تحریک کے ارکان بذات خود کریں تو عام آدمی تو چھوڑیں، پولیس کے حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔ الیکشن کا موسم ان ماؤ نواز نکسلیوں کے لئے سب سے زیادہ متحرک ہونے کا موقع ہوتا ہے۔ ’انقلاب بذریعہ بندوق کے علمبردار‘ نکسلی آج کل ریاست آندھرا پردیش، جھار کھنڈ، بہار، مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ الیکشن کے بائیکاٹ کی زبردست مہم چلا رہے ہیں اور اس کے تحت پولیس والوں اور الیکشن میں حصہ لینے والے سیاست دانوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آٹھ اپریل کو جھار جھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم ضلع میں ستائیس پولیس والوں کو نکسلیوں نے بارودی سرنگ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا۔اس کے کچھ دنوں بعد ہی ایک برات پارٹی کی گاڑی کو سرکاری گاڑی سمجھ کر اڑا دیا گیا جس میں چار لوگ مارے گئے۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی کے آخری سالوں میں میں شروع ہونے والی مغربی بنگال کے ضلع دارجیلنگ کے ایک گاؤں نکسل باڑی سے شروع ہونے والی تحریک اس وقت مختلف ناموں سے ملک کی تقریباً بارہ ریاستوں میں سرگرم عمل ہے۔ واقعتاً ان کا میدان عمل نیپال سے تملناڈ تک پھیلا ہوا ہے۔ ملک کے ترپن اضلاع نکسلائٹ تحریک سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔سترہ اضلاع میں ان کا قابل قدر اثر ہے اور باون اضلاع میں میں قدرے کم اثر ہیں۔ نکسلزم کی علمبردار تنظیموں میں سب سے زیادہ خطرناک پیپلز وار گروپ (پی ڈبلیو جی) کو مانا جاتا ہے جو آندھرا پردیش میں سب سے زیادہ متحرک ہے اور جسے گزشتہ سال وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو پر جان لیوا حملے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔
بہار اور جھار کھنڈ میں ماؤسٹ کمیونسٹ سنٹر (ایم سی سی ) کے نام سے سرگرم عمل تنظیم نکسلی تشدد کے لئے ذمہ دار سمجھی جاتی ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ سال نکسلیوں نے ملک بھر میں تقریباً سترہ سو حملے کئے جس میں سو کے قریب پولیس والے ہلاک ہوئے۔ حالیہ واقعہ کے سلسلے میں ایک قومی ہندی روزنامے ’ہندوستان‘ کے رانچی ایڈیشن کے مدیر ہری نارائن سنگھ کا کہنا ہے: ’ نکسلی عام آدمی تک اپنا اثرو رسوخ بنا چکے ہیں۔ اسلحہ کے معاملے میں وہ پولیس سے زیادہ مضبوط ہیں اور پیغام رسانی کے ذرائع میں بھی انہیں فوقیت حاصل ہے‘ اگرچہ نکسلی تحریک کی بنیاد مغربی بنگال میں پڑی لیکن وہاں کے وزیر اعلی بدھ دیو بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ موجودہ نکسلی تشدد کا زیادہ تر تعلق آندھرا پردیش کے پیپلز وار گروپ سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب مغربی بنگال کی پولیس نکسلیوں کے خلاف مہم چلاتی ہے تو وہ جھار کھنڈ میں پناہ لے لیتے ہیں۔ الیکشن کے بائیکاٹ کے سلسلے میں نکسلیوں کی اشتہاری مہم کے جواب میں بہار اور جھار کھنڈ کی پولیس تو کچھ کرتی نظر نہیں آتی البتہ آندھراپردیش میں پولیس نے اپنی طرف سے بھی پوسٹر مہم شروع کر رکھی ہے جس میں اس کا کہنا ہے: ’ آپ کا ووٹ قیمتی ہے‘ ۔ ’بندوق سے زیادہ طاقت ور ووٹ ہے‘ ۔ ’اپنے حلقے کی ترقی کے لئے اپنا نمائندہ منتخب کیجئے‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||