راجستھان کے تین’ گاف‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راجستھان کی حدود میں داخل ہوتے ہی گائے، گوبر اور گھونگھٹ نظر آتے ہیں جس سے یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ یہ علاقہ ابھی جدیدیت کے تقاضوں سے واقف نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ جے پور میں گلابی عمارتوں کی بھر مار دیکھ کر یہ کسی راجے مہاراجے کا دیس لگتا ہے لیکن ان عمارتوں کے آس پاس منڈلانے والے وہی دیسی لوگ ہیں جو اپنے لوک ورثے کو بچانے کی فکر میں اسے دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوئے ہیں۔ راجستھان میں اگر اتر پردیش اور بہار کی طرح اونچ نیچ کی اتنی شدت نہیں تاہم راجپوتوں اور جاٹوں کے مابین اکثر و بیشتر سماجی کشیدگی رہی ہے اور خاص طور پر ان دنوں جب انتخابی مہم بھی زوروں پر ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس شہر کی شاہراہوں پر سب سے زیادہ آزادی گائے کو حاصل ہے اور چونکہ ہندوؤں میں گائے کو پوتر مانا جاتا ہے لہذا ٹریفک کو اس وقت تک روک دیا جاتا ہے جب تک گائے صحیح سلامت سڑک کراس کرتی ہے اور یہ منظر دیکھ کر جانوروں کے حقوق کا پالن کرنے والوں کی عزت مزید بڑھ جاتی ہے۔ راجستھان میں قدرتی وسائل کا وسیع ذخیرہ ہے لیکن جس مقدار میں گوبر ہے اس سے گوبر گیس پلانٹ قائم کرنے والوں کی چاندی لگی ہے۔ دلی اور راجستھان کو ملانے والی شاہراہ کے دونوں طرف گوبر کی جیسے کانیں نکلیں ہیں۔ اگرچہ ان پر مچھروں کی کافی تعداد موجود ہے تاہم اسی گوبر کو جلا کر مچھروں کو بھگایا بھی جاتا ہے۔ یہاں محال ہی کوئی خاتون ملتی ہے کہ جس نے گھونگھٹ نہ کیا ہو چاہے وہ اپنے مرد کے ساتھ ہو یا کسی غیر کے ساتھ۔ بیالیس ڈگری کی شدید گرمی میں یہ عورتیں اپنے گھونگھٹ کو دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوتی ہیں کیونکہ گھونگھٹ کا اترنا بےعزتی سمجھی جاتی ہے اور مرد کی نظر اسی گھونگھٹ پر رہتی ہیں تاکہ کسی منچلے کی نظر اس کی جورو پر نہ پڑے۔ جئے پور میں بغیر گھونگھٹ کے بھی عورتیں نظر آتیں ہیں لیکن ان کے چلنے کا انداز ایسا ہے کہ جیسے انہوں نے اپنے آپ کو گھونگھٹ کے پردے میں بند کر دیا ہے۔ میں نے اعلیٰ عہدے پر براجمان ایک عورت سے جب انتخاب پر بات کرنا چاہی تو انہوں نے اس کے لئے پہلے اپنے شوہر سے اجازت مانگی جو اسے نہیں ملی۔ یہ علاقہ جہاں جغرافیائی طور پر پاکستان کے اندرون سندھ سے ملتا ہے وہیں معاشی اور معاشرتی طور بھی یہ اس سے جدا نہیں ہے اور جہاں تک گھونگھٹ کی بات ہے تو اس کے بوجھ تلے دونوں طرف کی خواتین اب بھی اس انتظار میں ہیں کہ شاید سڑک کراس کرنے والی گائے جیسی آزادی انہیں بھی ایک دن ضرور ملے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||